نیا ایٹمی ہمسایہ: پاکستان کے لیے نیا خطرہ؟

تنویر قیصر شاہد  اتوار 1 فروری 2015
tanveer.qaisar@express.com.pk

[email protected]

پاکستان نے اپنی تخلیق کے تقریباً اڑھائی عشرے بعد، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں، خود کو جوہری طاقت بنانے کا اعلان کیا تھا مگر بھارت نے تو آزادی حاصل کرنے کے فوراً بعد ہی ایٹمی قوت بننے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے اپنے ملک کو جوہری طاقت سے لیس کرنے کا اعلان ان الفاظ میں کیا تھا: ’’مجھے امید ہے بھارتی سائنسدان ایٹمی طاقت کو پُرامن مقاصد کے لیے عوام کی خدمت میں پیش کریں گے لیکن اگر بھارت کے وجود کو کسی بیرونی طاقت سے خطرہ پیدا ہوا تو ہم اپنے وطن کے تحفظ کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔‘‘

ان الفاظ کو عمل کا جامہ اس وقت پہنایا گیا جب 27 سال بعد آنجہانی نہرو کی وزیراعظم بیٹی، مسز اندرا گاندھی، نے پوکھران کے ریگستانی علاقے میں ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو ایٹمی طاقتوں کے کلب میں شامل کر لیا۔ تبھی تو بھٹو مرحوم نے، تمام عالمی خدشات و خطرات کو بالائے طاقت رکھتے ہوئے، اعلان کیا تھا کہ ہم گھاس کھالیں گے، پاکستان کو ایٹمی طاقت ضرور بنائیں گے۔

خدا کا شکر ہے کہ اڑھائی عشروں کی محنت شاقہ، غیر متزلزل عزم اور تندہی کے بعد پاکستان وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں ایٹمی طاقت بن گیا۔ دنیائے اسلام کی پہلی اور ابھی تک اکلوتی جوہری مملکت۔ عالمِ اسلام بجا طور پر پاکستان پر فخر کرتا ہے اور اسی طاقت کا کمال ہے کہ ہر بڑے بحران کے موقع پر اسلامی دنیا بلند توقعات کے ساتھ پاکستان ہی کی جانب دیکھتی ہے، اگرچہ ہمارے اندر بہت سی داخلی کمزوریاں بھی ہیں۔

صہیونی، مسیحی اور ہندو دنیا کی آنکھ میں پاکستان کی جوہری طاقت کانٹے کی طرح کھٹکتی رہتی ہے؛ چنانچہ اگر یہ تینوں طاقتیں پاکستان کے درپے ہیں، پاکستان کو کمزور اور بدنام کرنے کی آئے روز منصوبہ بندیاں کرتی ہیں اور ہمارے استحکام کے بارے میں افواہوں کے نت نئے غبارے چھوڑتی رہتی ہیں تو ہمیں ان سے کوئی حیرت ہونی چاہیے نہ کوئی پریشانی۔ مغربی ممالک اور امریکا، جو بجا طور صہیونی غلبے کی گرفت میں ہیں، کی شدید تمنا ہے کہ ایٹمی طاقت کے میدان میں پاکستان کسی بھی شکل میں بھارت سے آگے قدم نہ بڑھا سکے۔

لاریب پاکستان کو اس میدان میں چین کا گہرا تعاون حاصل ہے۔ یہی تعاون بھارت اور امریکا کے دل میں نیزے کی انّی کی طرح پیوست ہو چکا ہے۔ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں، جہاں امریکی اثر و رسوخ نے عشروں سے پنجے گاڑ رکھے ہیں، چین تیزی سے سرایت کر رہا ہے۔ یہ مناظر امریکا کے لیے قابلِ برداشت نہیں۔ وہ خود تو آگے بڑھ کر چینی قدم روکنے کی جرأت و جسارت نہیں کرتا لیکن اپنی تکمیلِ آرزو کے لیے وہ بھارت کی پیٹھ ٹھونک رہا ہے۔

چنانچہ ایک دنیا نے دیکھا ہے کہ گزشتہ ماہ (25 جنوری تا 27 جنوری 2015ء) جب امریکی صدر باراک اوباما بھارتی دورے میں انڈیا کو امریکی سرمایہ کاری، سول نیوکلیئر تعاون اور دفاعی معاہدوں سے نواز رہے تھے، افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو چینی حکومت اور چینی افواج نے اپنے ہاں مدعو کر کے بیک وقت بھارت اور امریکا کو متاثر کن بین السطور پیغام بھجوا دیا۔

کہا جا رہا ہے کہ امریکا اور انڈیا کے درمیان سول نیوکلیئر تعاون کا جو معاہدہ ہوا ہے، یہ ڈیل آخر کار بھارت کے لیے نئی ایٹمی طاقت بننے کا باعث بن جائے گی اور جہاں بھارت اپنے بے پناہ توانائی بحرانوں پر قابو پا سکے گا، وہاں وہ سول نیوکلیئر ڈیل کے اس پردے میں خود کو نئے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس بھی کر سکے گا۔ پاکستان کو خطے میں اس نئی ڈویلپمنٹ سے بجا طور پر گہری تشویش ہے کہ طاقت کا توازن بگڑنے کے شدید خدشات ہیں۔

اس ڈیل کے توسط سے دراصل امریکا نے بالواسطہ طور پر چین کو نیا چیلنج دیا ہے۔ گزشتہ ایک عشرے سے مسلسل، اسی موضوع پر، امریکا اور بھارت کے درمیان پُخت و پَز ہو رہی تھی۔ بھارت کے سابق وزیرِخارجہ نٹور سنگھ کی تازہ اور انکشاف خیز سوانح حیات ONE  LIFE  IS  NOT  ENOUGH میں صاف الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان طے پائے جانے والے سول نیوکلیئر معاہدے کا واحد مقصد یہ ہے کہ امریکا اور بھارت متحد ہو کر اس خطے میں چینی اثرات و طاقت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ (26 جنوری 2015ء کو ’’نیویارک ٹائمز‘‘ میں US  and  India  Share  Sense  of  Unease  Over  China کے زیرِ عنوان جو اسٹوری شائع ہوئی ہے، اس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ دہلی میں اوباما اور مودی کے درمیان جو پہلی ملاقات ہوئی، اس کے اولین 45 منٹ اس پریشان کن بحث میں گزر گئے کہ امریکا اور بھارت مل کر مشرقی ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اور فوجی اثرات کا خاتمہ کیسے کرسکتے ہیں) بھارت اور امریکا کے درمیان سول نیوکلیئر معاہدہ طے پانے میں دس سال کا عرصہ لگا ہے اور اس میں کئی بار، کئی قسم کے نشیب و فراز آئے ہیں۔

اسے واضح شکل دینے اور امریکا و بھارت کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول بنانے میں نٹور سنگھ نے مرکزی اور بنیادی کردار ادا کیا۔ سابق امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس نے اپنی کتاب A  Memoir  of  My  Years  in  Washington میں صاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ اگر نٹور سنگھ آگے بڑھ کر وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ڈھب پر لانے کے لیے پوری سفارتی کوششیں نہ کرتے اور میری درخواست کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ سے اس روز واشنگٹن میں ملاقات نہ کرواتے تو امریکا اور بھارت کے درمیان سول نیوکلیئر ڈیل کا راستہ ہموار ہو ہی نہیں سکتا تھا۔  امریکا اور بھارت کے درمیان سول نیوکلیئر ڈیل کی پرتیں ابھی مزید کھلنا باقی ہیں لیکن یہ ضرور کہا جائے گا کہ اس کے اصل آرکیٹیکٹ کنور نٹور سنگھ ہیں جنھوں نے اپنی مذکورہ بالا تصنیف میں یہ کہانی (صفحہ 338تا 341پر) تفصیل کے ساتھ لکھی ہے۔

نٹور سنگھ لکھتے ہیں کہ ڈاکٹر من موہن سنگھ بطور وزیراعظم ہند جب امریکیوں سے اس سلسلے میں آخری مذاکرات کر رہے تھے، انھیں خدشہ لاحق تھا کہ وہ بھارتی پارلیمنٹ سے یہ معاہدہ منظور نہ کروا سکیں گے کہ بھارتی اپوزیشن یہ سمجھ رہی تھی کہ ان کے وزیراعظم نے بھارت کو امریکیوں کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی بھی اپنے وزیراعظم اور وزیرخارجہ سے سخت ناراض تھیں اور انھوں نے برملا نٹور سنگھ سے کہا: ’’نٹور، تم نے یہ کیا کر دیا؟‘‘ 2008ء میں جب اس ڈیل کی منظوری کے لیے اسے بھارتی لوک سبھا میں پیش کیا گیا تو اسے بہت معمولی اکثریت حاصل ہوئی۔

ملائم سنگھ یادیو ایسے سیاستدانوں نے کہا کہ ہم نے اس کے حق میں ووٹ دے کر بہت بڑی قومی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ اور آج بھارت اسی پر کامیابی کے ڈنکے بجا رہا ہے اور وزیراعظم مودی اس پر پھولے نہیں سما رہے، حالانکہ ابھی تو امریکی نیوکلیئر سپلائر گروپس نے پَر پھیلا کر بھارت کو اپنی لپیٹ میں لینا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ڈیل فی الحقیقت بھارت پر امریکی سامراج کی پہلی مضبوط گرفت ہے۔ اس دائرے کو ابھی مزید وسعت اختیار کرنی ہے۔

چین کے مشہور انگریزی اخبار ’’گلوبل ٹائمز‘‘ نے اپنے تجزیے میں پیشگوئی کی ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان طے پانے والا یہ معاہدہ دراصل بھارت کے لیے امریکا کا ایک جال ثابت ہو گا۔ پاکستان کو مگر اس نئی صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ یہ خدشات بے جا نہیں کہ بھارت اس سول نیوکلیئر تعاون کے معاہدے کو اپنے ایٹمی ہتھیار جدید تر کرنے کے لیے بھی بروئے کار لائے گا۔ بھارت کے اس اعلان سے پاکستان پہلے ہی تشویش میں مبتلا ہے کہ انڈیا اگلے تین برسوں میں اڑھائی سو ارب کے نئے ہتھیار خریدے گا۔

بھارتی افواج اپنے پرتھوی، اگنی اور سوریا میزائلوں کو پہلے ہی جوہری شکل دے چکی ہیں۔ یہ دراصل بیلسٹک میزائل ہیں جن کی رینج ڈھائی سو کلومیٹر سے بارہ ہزار کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔ بھارت کے یہ اقدامات پاکستان کو بھی مجبوراً نئے اور جدید ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ میں شامل کر دیں گے۔ دونوں ممالک کے اکثریتی عوام کی بھوک اور بیماری میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹ مہلک ترین ہتھیار اکٹھے کر رہی ہیں۔ کیا برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کرنے کا یہی مقصد و مدعا تھا؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔