مذہبی اقلیتیں زمینی حقائق

قادر خان  منگل 3 فروری 2015
qakhs1@gmail.com

[email protected]

تھر دیہی ترقیاتی منصوبے کے بانی ڈاکٹر کھٹو مل کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ فوج اور سول سروسز، اب کچھ تبدیلی آئی ہے، تھرپارکر کا ایک ہندو ڈاکٹر فوج میں کیپٹن بن گیا ہے۔ سندھ میں ہندو اقلیت کو تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ تو ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ تھر میں دو ہزار قصبے ہیں لیکن اسکول صرف پندرہ ہیں، میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ نوجوان کراچی یا حیدرآباد چلے جاتے ہیں اور بدقسمتی سے وہ اپنی برادری کو سہارا دینے کے لیے واپس نہیں آتے۔

ڈاکٹر کھٹو مل کے مطابق باہر سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے تھر میں صورتحال تبدیل ہوئی ورنہ ہندو مسلمان مل جل کر رہتے رہے ہیں  دیوالی اور عید میں مذہبی جذبات کا خیال رکھتے رہے ہیں، مسلمان ہندوؤں کے جذبات کا خیال کر کے گائے کی قربانی نہیں کرتے تھے۔  لیکن جب تھرپارکر میں کوئلہ ملا تو باہر کے لوگوں کی وجہ سے حالات بدل گئے۔ مذہبی بنیادوں پر تقسیم کے حوالے سے ان کا ماننا ہے کہ ’’پاکستان میں ایک حقیقی تقسیم ہے، وہ جو انگریزی بول سکتے ہیں اور وہ جو انگریزی نہیں بول سکتے، جس کے پاس دولت ہے وہ ملک میں کہیں بھی پھل پھول سکتا ہے۔‘‘

پاکستان کے عیسائی گستاخ رسول ایکٹ کے بدرجہ مخالف ہیں، مغربی دنیا بھی ان کی ہم نوا دکھائی دیتی ہے۔ دیار مغرب کا ایک دانشور طبقہ اس ایکٹ کا موئید ہے، لیکن بی بی سی ٹیلی وژن کے ایک پروگرام سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی بی سی ناظرین معقولیت پسند ہیں۔ وہ گستاخ مسیح ایکٹ کے حامی ہیں اور اسے مزید سخت بنانا چاہتے ہیں۔ یہ روداد لندن کے مشہور ہفت روزہ ’’میتھوڈسٹ ریکارڈر‘‘ بابت 17 مارچ 1996میں جریدہ کے مستقل کالم نگار میلکم مور کی ترتیب دی ہوئی ہے۔ واضح ہو کہ امریکا اور یورپی ممالک میں حیات مسیح پر بننے والے فلموں کا خاصا حصہ قابل اعتراض اور دل آزار ہوتا ہے جس کی مخالفت میں مسلمانوں کا پیش پیش ہونا قابل فخر ہے۔

معقول اور سلیم الطبع عیسائی بھی ایسے احتجاجی جلسوں میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ 1989میں بنائی گئی ایک فلم Visionog Ecstasy   برطانوی فلم سنسر بورڈ نے گستاخی مسیح کی بنیاد پر رد کر دی تو فلمساز نے انسانی حقوق کے یورپی کمیشن کے یہاں اپیل کر دی۔ ’’نارمن پائپر نے فلم دیکھ کر کہا کہ ایک مسیحی ہونے کے ناتے اسے ’’سخت صدمہ پہنچا ہے۔‘‘ اس کی رائے میں ہر مذہب کو لوگ اسے دل آزار قرار دیں گے۔ آکسفورڈ کے دینی رہنما نے کہا کہ اگر آرٹسٹ اور مصنفین ایسے معاملات میں خود احتسابی کریں تو یہ برا نہیں ہو گا، اس کا اپنا خیال تھا کہ ’’ اگرچہ گستاخ مسیح کا موجودہ قانون بعض معنوں میں غیر معیاری ہے لیکن اسے ختم کرنے کا مطلب یہ منفی اشارہ ہو گا کہ ہماری سوسائٹی میں مذہب کو کچھ مقام حاصل نہیں ہے۔‘‘

اکثر عیسائیوں کی رائے بھی یہی ہے۔ ایک عیسائی ادارہ ’’سالویشن آرمی‘‘ افغان جہاد میں براہ راست ملوث تھا اور اس نے افغان خانہ جنگی میں مختلف دھڑوں کی مدد کی۔ 36 عیسائی نوجوانوں نے خود کو مسلمان ظاہر کر کے افغان مجاہدین کی دو تنظیموں سے تربیت حاصل کی، اب انھوں نے طالبان کی طرز پر اپنی تنظیم ’’کرسچن طالبان‘‘ تشکیل دی جو پاکستان میں عیسائیوں کے خلاف ہونے وا لی کارروائیوں کا توڑ کرے گی۔ شہباز کلیمنٹ بھٹی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جریدہ ’کرسچن ٹائمز‘ کے چیف ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کیا اس کے خلاف تعزیرات ِ پاکستان کی دفعات 148، 139،452،506 کے تحت مقدمات درج ہوئے۔

یہ کرسچن لبریشن فرنٹ کے سربراہ وہی شہباز بھٹی ہیں جنہوں نے کلنٹن کے پاک بھارت دورہ سے قبل انھیں خط لکھا تھا کہ ’’پاکستان مسلم دہشت گردوں کا ملک ہے جس میں عیسائیوں کا برا حال ہے، یہاں آ کر ان پر دباؤ ڈالیں۔‘‘ سینٹ انتھونی چرچ میں دوران عبادت تین مسیحی افراد نے مسلح ہو کر چرچ کی بے حرمتی، مذہبی کتابوں کی توہین کی اور شرکاء عبادت کو ہراساں کیا ان دہشت گردوں کے خلاف پہلے بھی متعدد سنگین قسم کے مقدمات درج ہیں۔

پاکستان میں اقلیت کے نام پر حقوق مانگنے والے اپنے مطالبات میں کہتے ہیں کہ اقلیتی افراد کو کلیدی اسامیوں پر فائز کیا جائے، صوبائی کابینہ ، مرکزی وزارتوں، بلدیاتی اداروں، غیر ممالک میں بھیجے جانے والے وفود، کھیلوں کی ٹیموں، ہائی کورٹ کی ججوں کی اسامیوں میں اقلیتوں کو نمایندگی دی جائے، اقلیتی افراد بھی صوبائی وزرائے اعلیٰ، گورنر، وزیر اعظم اور صدر مملکت منتخب کیے جائیں، اسلامی قوانین منسوخ کیے جائیں۔ آئین سے قرارداد مقاصد کی بالادستی ختم کی جائے، اسلامی نظریاتی کونسل توڑ دی جائے، ملک کا اسلامی تشخص ختم کر کے پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ ڈکلیئر کیا جائے، عیسائی بچہ پیدا ہونے پر اس کا پانچ فیصد وظیفہ لگنا چاہے۔

حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے اسکولوں میں سرکاری خرچ پر عیسائی اساتذہ مقرر کیے جائیں جو عیسائی بچوں کو بائبل کی باقاعدہ تعلیم دیں۔ میٹرک کے امتحان میں حافظ ِ قرآن کے لیے 20 نمبروں کی خصوصی رعایت ختم کی جائے یا عیسائی بچہ اپنی مذہبی تعلیم کا سرٹیفکیٹ پیش کر دے تو اسے بھی امتحان میں 20 فیصد اضافی نمبر دیے جائیں۔ قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے۔

عیسائیوں کی نمایندہ تنظیم ’ورلڈ ایونجیلی کل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اقلیتیں دنیا بھر میں مذہبی عدم برداشت اور امتیاز کا شکار ہیں۔ برطانیہ میں سیاہ فام اور دوسرے اقلیتی گروپوں میں بیروزگاری زیادہ ہے، نسلی بنیادوں پر تشدد عروج پر ہے۔  ارجنٹائن میں رومن کیھتولک حکومت ہے وہاں 35 ملین آبادی کے پروٹسٹنٹ فرقوں کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ بلغاریہ میں آرتھوڈکس چرچ  ’ریاستی مذہب‘  ہے، حکومت  نے متھیوڈسٹ عیسائیوں کا گرجا چھین کر اسے پتلی گھر بنا دیا۔  بھارت میں مسلمانوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے، زبردستی مسلمانوں کو ہندو بنایا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا کے ایک پادری کو بمعہ بال بچے جلا دیا گیا، ہندو برملا کہتے ہیں ہندوستان میں رہنا ہے تو ہندو بن کر رہو۔ میانمار میں شعائر اسلام پر پابندیاں ہیں نوجوانوں کی داڑھیاں نوچی جاتی ہیں۔ کیرن عیسائیوں کا حال بھی برا ہے لیکن وہ اُٹھ کے تھائی لینڈ چلے گئے ان پر بھی عیسائی تنظیمیں ان کی حالت ِ  پر مضطرب ہیں اور ان کی حالت زار پر کانفرنسیں کرتیں ہیں۔ سات لاکھ بھارتی فوجوں کا شکار کشمیری مسلمان کی بے بسی کسی کو نظر نہیں آتے، اجتماعی عصمت دری، قتل و غارت، آتشزدگی اور اغوا روز کا معمول ہیں۔ متعدد واقعات ہیں جو عالمی توجہ کے مستحق ہیں۔ دراصل تمام حقائق کا لبِ لباب یہ ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ بد سلوکی، اکثریت کی جانب سے ایک معاشرتی بگاڑ ہے اس میں کسی مذہب کی جانب سے خصوصی طور پر نشانہ بنانے کے احکامات نہیں ہیں۔

پاکستان میں بھی اقلیتوں کے ساتھ سلوک میں اگر چند عناصر ملوث آتے ہیں تو ان کا نظریہ سیاسی مقاصد کا حصول اور اپنی منافرت کی سیاست کو چمکانا ہوتا ہے۔ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کسی واقعے کو اسلام سے جوڑنا نامناسب ہے۔ اسی پاکستان میں اقلیتوں پر احمدی عبادت گاہ حملہ کیس میں مجرموں کو سات سات بار پھانسی کی سزا بھی سنائی گئی۔ ہمیں معاشرتی بگاڑ اور ناہمواریوں کو رنگین آئینے سے دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مذہبی اقلیتوں کے جائز حقوق کے حوالے سے ہمیں جذباتی ہونے کے بجائے حقائق کی روشنی میں جائزہ لینا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔