اردن نے داعش کے ہاتھوں پائلٹ کی ہلاکت کے بعد خاتون سمیت 2 مجرموں کو پھانسی دے دی
دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث مزید دہشتگردوں کو آئندہ چند روز میں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ فوٹو: اے ایف پی
اردن نے داعش کے ہاتھوں اپنے پائلٹ کی ہلاکت کے بعد خاتون سمیت 2 مجرموں کو پھانسی دے دی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اردن نے داعش کی جانب سے اپنے پائلٹ کو زندہ جلائے جانے کا بھرپور جواب دیتے ہوئے 2 مجرموں کو سزائے موت دے دی جن میں عراق میں القاعدہ رہنما زیاد کربولی اور بم دھماکے میں ملوث ساجدہ الرشاوی شامل ہیں جنہیں علی الصبح تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ حکومتی ترجمان کے مطابق دارالحکومت عمان کی سواکی جیل میں 2005 میں بم دھماکوں میں ملوث 44 سالہ خاتون ساجدہ اور اردنی شہریوں کے قتل میں ملوث القاعدہ سے تعلق رکھنے والے زیاد کربولی کو تختہ دار پر لٹکایا گیا جن کی لاشیں قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کی جائیں گی۔
اردنی حکام نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ پائلٹ معاذ الکسابہ کو زندہ جلائے جانے کا بدلہ لیا جائے گا اور اسی تناظر میں دونوں مجرموں کو پھانسی دی گئی جب کہ دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث مزید دہشت گردوں کو آئندہ چند روز میں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
واضح رہے کہ لیفٹیننٹ معاذ الکسابہ کو دسمبر میں الرقہ کے علاقے میں اس وقت داعش نے حراست میں لیا تھا جب وہ داعش کے خلاف امریکی قیادت میں جاری فضائی کارروائی میں شامل تھے اور ان کا جہاز گر کر تباہ ہوگیا تھا لیکن اس حادثے میں وہ محفوظ رہے۔