امریکا دو عملی ترک کرے

دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے اقوام عالم کوشاں ہیں،


Editorial February 04, 2015
معیشت کو اربوں ڈالرکا نقصان پہنچ چکا ہے،اب بھی ’ڈومور‘‘ کے مطالبات تھمنے کا نام نہیں لیتے۔ فوٹو: فائل

دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، جس کے خاتمے کے لیے اقوام عالم کوشاں ہیں،اس حوالے سے پاکستان کا کردار فرنٹ لائن اسٹیٹ کا رہا ہے،پچاس ہزار سے زائد سویلین اور مسلح افواج کے جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے ۔

معیشت کو اربوں ڈالرکا نقصان پہنچ چکا ہے،اب بھی 'ڈومور'' کے مطالبات تھمنے کا نام نہیں لیتے۔ اس وقت بھی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن''ضرب عضب''جاری ہے،یہ جنگ جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گی، تین برس قبل2012 کی اسٹیٹ بینک رپورٹ کے مطابق امریکا کی دہشتگردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو روزانہ تین ارب روپے اور ہرماہ 93 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے ، اس وقت سالانہ اخراجات اربوں ڈالر بتائے جاتے ہیں ۔

رواں سال 2015 میں تو ان اخراجات کا تناسب کئی سوگنا بڑھ چکا ہے ۔پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے،جس کی معیشت پر اخراجات کا پہلے بھی بڑا بوجھ ہے،چہ جائیکہ ایک حوصلہ شکن خبر آئی ہے کہ امریکی صدراوباما نے رواںسال کے تجویزکردہ بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے کانگریس سے مزید رقم کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے اور مجوزہ بجٹ میں پاکستان کے کولیشن سپورٹ فنڈ میں10فیصدکٹوتی کی گئی ہے ۔پاکستان ماضی قریب میں ایک انتہائی پرامن ملک رہا ہے،نائن الیون کے بعد جب امریکا نے پیشگی حملوں کی پالیسی اختیارکرتے ہوئے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو ختم کیا اور القاعدہ کے خلاف آپریشن شروع کیا تو پاکستان نے بھی دہشتگردی کے خاتمے کے اس عمل کی حمایت کی ۔

ہوا یوں کہ طالبان اور القاعدہ فرار ہوکر پاکستان میں داخل ہوگئے اور پھر ان دہشتگردوں نے پاکستان کو ہی عدم استحکام کا شکار کردیا۔ اس سب صورتحال کے باجود اگر امریکا اپنی دفاعی بجٹ میں صرف 80کروڑ40لاکھ ڈالرکی رقم رکھے جِس میں53کروڑ 40 لاکھ ڈالرسویلین جب کہ 27کروڑسلامتی کی مدمیں تجویزکیے گئے ہوں تو صورتحال کو تشویشناک ہی کہا جاسکتا ہے۔

جس سے پاکستان میں جاری دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے،مالی وسائل کی عدم دستیابی بھی ایک بڑی رکاوٹ نظرآرہی ہے ۔گزشتہ دنوں امریکی صدر بارک اوباما نے دورہ بھارت کے موقعے پر نوازشات کی جو بارش کی ہے،جس طرح بھارت کو سپرپاور بننے میں مدد دینے کے لیے معاہدے کیے ہیں وہ پاکستان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبورکررہے ہیں۔ امریکا کو اپنی دو رخی پالیسی کو چھوڑکر پاکستان کی بھرپور مالی اوردفاعی امداد کو جاری رکھنا چاہیے ۔