بھارت ہمارا دشمن کیوں ہے

عبدالقادر حسن  بدھ 4 فروری 2015
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

میں ایک متعصب پاکستانی ہوں اور بطور پاکستانی شہری میں کیا کروں کہ یہی میرا فرض بھی ہے کہ وطن عزیز پر کوئی آنچ آئے تو میں شور مچا دوں اور اس آفت کا مقابلہ کروں اسی لیے میں بھارت کے خلاف ہوں لیکن بھارت دشمنی میری نہیں بھارت کی پیدا کردہ ہے ورنہ ہم نے اس ملک پر ہزار برس تک حکومت کی اور ہندوؤں کی طرح چاہتے تو آج یہاں ہندو برائے نام ہوتے لیکن ہم نے کسی ایک ہندو کو بھی مسلمان بنانے کے لیے اس پر ذرا سا دباؤ بھی نہیں ڈالا۔

ہمارے صوفیوں نے اپنی کرامات کے ذریعہ اگر کسی کے دل کو رام کر لیا تو الگ بات ہے لیکن اس میں کسی قسم کے تشدد یا زبردستی کا کوئی شائبہ تک نہیں مگر ہماری بدقسمتی سے بھارت میں بی جے پی جیسی انتہائی متعصب اور مسلم دشمن جماعتیں اقتدار میں آ گئیں جو مسلمانوں کو حرامزادے اور کتے کے پلے کہتی ہیں اور پاکستان کے وجود تک کو برداشت نہیں کرتے۔ موہن داس کرم چند گاندھی جدید بھارت کے بانی ہیں اور بھارت والے انھیں باپو یعنی باپ کے نام سے یاد کرتے ہیں مگر بی جے پی کی نظروں میں وہ بھی بھارت کے باپو نہیں بلکہ دشمن تھے کیونکہ انھوں نے پاکستان کو تسلیم کر لیا تھا۔ گاندھی جی کے قومی مقام و مرتبہ کی وجہ سے بی جے پی انھیں کھل کر دشمن نہیں کہتی تاہم وہ گاندھی کے قاتل رام گوڈسے کو محب وطن کہتی ہے اور اس بات سے ظاہر ہے کہ اس کی نظروں میں گاندھی کیا تھے۔

بی جے پی اکھنڈ بھارت کے تصور پر یقین رکھتی ہے اور نریندر مودی وزیراعظم ہند کی وزارت اعلیٰ والی ریاست گجرات کے اسکولوں میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے اس میں اکھنڈ بھارت کا تصور پوری طرح موجود ہے، اس اکھنڈ بھارت میں پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا شامل ہیں یعنی بی جے پی پاکستان کو ہی نہیں اس خطے کے مذکورہ دوسرے ملکوں کو بھی اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ اس طرح بی جے پی بھارت میں آباد بیس پچیس کروڑ مسلمانوں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔

مجھے خوب یاد ہے کہ ماضی میں جب کبھی اس خطے کے ملکوں میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں کے صحافیوں نے کھلے الفاظ میں بھارت کو اپنے لیے ایک خطرہ قرار دیا اور شدید خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اس قدر مضبوط ہونا چاہے کہ وہ بھارت سے ہمیں بچاتا رہے۔ بھارت ہندو اکثریت کا ملک ہے اور بھارت کی 80 فی صد آبادی ہندو ہے اس کے باوجود وہ اپنی آبادی میں مزید اضافہ چاہتے ہیں چنانچہ حال ہی میں بی جے پی کے ایک لیڈر نے ہندو عورتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کم از کم چار بچے پیدا کریں، شاید پہلے سے موجود بڑی آبادی کے باوجود وہ اپنے آپ کو کمزور سمجھتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پھر بھی ہندو اپنی ایک اقلیت کے خلاف کیوں ہیں جیسا کہ عرض کیا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے ان پر ہزار سال تک حکومت کی ہے۔ اندرا گاندھی کی نفسیات بھی اس ہزار سالہ حکومت سے سخت نالاں تھی مگر ان ہزار برسوں میں مسلمانوں نے فراخدلی، انصاف اور رواداری کا مظاہرہ کیا۔ مسلمانوں نے نہ کبھی ہندو مذہب کو چھیڑا نہ انھوں نے ہندوؤں کے کلچر اور رواج میں مداخلت کی۔ یہاں تک کہ ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوئی مثال بھی موجود نہیں۔ اگر مسلمان بھی ’بی جے پی‘ ہوتے تو کیا بھارت میں کوئی ہندو باقی رہتا۔ ہزار سال کا عرصہ بڑا عرصہ ہوتا ہے اتنے عرصے میں ہندو مذہب ختم ہو چکا ہوتا اور ہندو زیادہ سے زیادہ ایک معمولی سی اقلیت ہوتے۔

مسلمان باہر سے ضرور آئے مگرانھوں نے بھارت میں بھارتی بن کر رچ بس کر دکھایا اور مغلوں نے تو گھروں کے اندر ہندو مت کی روایات بھی رائج کر دیں اور اکثر مغل بادشاہ ہندو عورتوں کی اولاد تھے۔ غرض مسلمانوں نے بلاشبہ حکومت ضرور کی لیکن پیار و محبت کے ساتھ۔ یہ جو اردو زبان ہے یہ ہندی عربی اور فارسی کا امتزاج ہے یہ زبان مسلمانوں کی طرف سے بھائی چارے کی ایک زندہ مثال ہے جو بھارت کی بہت بڑی فلم انڈسٹری کی زبان بھی ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو خالص ہندی زبان سے دور بھاگتے تھے اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے تھے کہ یہ جناتی اور ڈراؤنی زبان ہے۔

ایک تاریخی واقعہ ہے کہ ہم مسلمان نہیں بھارت کا ہندو ہمارا دشمن ہے اور اسے بھارت ماتا کے ایک انچ پر بھی کسی مسلمان کے قدم برداشت نہیں ہیں، نئے بھارت کی تاریخ کی پہلی خالص ہندو حکومت ابھی تازہ ہے لیکن اس نے مسلم  دشمن اقدامات شروع کر دیے ہیں اور وہ جانتی ہے کہ پاکستان کو نہ تو فتح کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے دبایا جا سکتا ہے کہ وہ بھارت کی ایک کالونی بن جائے۔ بس کچھ ایسی ہی کیفیت اور حالات ہیں کہ میں مجبوراً ایک متعصب پاکستانی بن گیا ہوں اور اپنے تعصب کو مضبوط کرتا رہتا ہوں کہ اسی میں میری نجات ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔