بیرسٹرسلطان نے جماعتیں بنانے، وفاداریاں بدلنے کی ڈبل ہیٹرک کرلی

واجد حمید  جمعـء 6 فروری 2015
مجموعی طور پر بیرسٹرسلطان دوسری بار پیپلزپارٹی کو چھوڑ گئے ہیں۔ فوٹو: آئی این پی/فائل

مجموعی طور پر بیرسٹرسلطان دوسری بار پیپلزپارٹی کو چھوڑ گئے ہیں۔ فوٹو: آئی این پی/فائل

اسلام آباد: بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کرکے اپنے سیاسی کیریئر میں سیاسی جماعتیں بنانے اور بدلنے کی ڈبل ہیٹرک مکمل کرلی۔

بیرسٹر سلطان اس سے پہلے 5مرتبہ مختلف سیاسی جماعتوں سے اپنی وابستگی تبدیل کرچکے ہیں۔ پاورپالٹکس کی کوششوں میں وہ صرف 1996 میں پیپلزپارٹی میں شامل ہوکر آزادکشمیر کے وزیراعظم بنے باقی تمام کوششوں میں قانون ساز اسمبلی کا رکن بننے کے علاوہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ بیرسٹر سلطان پہلی مرتبہ 1985 میں اپنے والد کی سیاسی جماعت آزادمسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے۔

اسی پلیٹ فارم سے 1990میں بھی ممبرمنتخب ہوئے اور پیپلزپارٹی کیساتھ اسمبلی میں اتحادکیا اورمرکز میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کیوجہ سے پیپلزپارٹی کیساتھ طے پایا کہ بیرسٹر سلطان کو آزاد کشمیر کا صدربنایا جائیگا لیکن پیپلزپارٹی کے ممبران نے انہیں ووٹ نہیں دیئے۔ ایک سال کی مدت میںہی اس وقت کے وزیراعظم ممتازراٹھور (مرحوم) نے جب اسمبلی توڑ دی تو 1991 کے انتخابات میں بیرسٹر سلطان اپنی آبائی نشست سے بھی ہار گئے۔ اس دوران انہوں نے اپنی جماعت آزاد مسلم کانفرنس کوجموں وکشمیر لبریشن لیگ میں ضم کردیا۔

پھر 1996 کے انتخابات سے پہلے ہی بیرسٹر سلطان اپنی جماعت لبریشن لیگ سمیت پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے اور وزیراعظم بن گئے۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب مرکز میں جنرل مشرف نے میاں نواز شریف کی حکومت ختم کی تو آزاد کشمیر میں بیرسٹر سلطان کی حکومت کو بدستور کام کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس دوران انکے جنرل مشرف کیساتھ بھی اچھے تعلقات قائم ہوگئے۔ 2001 کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کامیاب نہ ہوسکی اور وہ پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے ہی اپوزیشن لیڈر رہے۔

اس دوران فوجی حکمرانوں کیساتھ رابط پر جب بینظیر بھٹو نے بیرسٹر سلطان کو پارٹی قیادت سے ہٹادیا توانہوں نے قانون ساز اسمبلی کے 2006 کے انتخابات سے پہلے اپنی جماعت جموں وکشمیر پیپلزلیگ بنائی۔ انہوں نے اپنی جماعت کو اقتدار میں لانے کیلئے تمام تیاریاں کی تھیں کہ اچانک چوہدری برادران کی مداخلت کی وجہ سے مرکزی حکومت نے مسلم کانفرنس کی حمایت کردی اور بیرسٹر سلطان کی جماعت صرف 4 نشستیں جیت سکی۔

2011 کے انتخابات سے قبل آصف زرداری کی مداخلت پر بیرسٹر سلطان نے اپنی جماعت پیپلز لیگ کو پیپلزپارٹی میں ضم کردیا، پیپلز پارٹی کو انتخابات میں واضح برتری ملی لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت نے بیرسٹر کو نظرانداز کردیا اور کوئی بڑا عہدہ نہیں دیا۔ مئی 2013 میں میاں نواز شریف کی حکومت بننے کے دو ماہ بعد جولائی میں بیرسٹر نے اپنی جماعت کے اندر فارورڈ بلاک کے ذریعے چوہدری عبدالمجید کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائی تاہم نوازشریف نے (ن) لیگ کو اس سے لاتعلق کردیا جس کے باعث یہ تحریک ناکام ہوئی۔ مجموعی طور پر بیرسٹرسلطان دوسری بار پیپلزپارٹی کو چھوڑ گئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔