اچھی خوراک بھی آپ کو موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے

نور پامیری  ہفتہ 7 فروری 2015
13 سالہ کنزیٰ سب کو روتا چھوڑ کر اس دنیا میں چلی گئی جہاں سے آج تک کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔ فوٹو فائل

13 سالہ کنزیٰ سب کو روتا چھوڑ کر اس دنیا میں چلی گئی جہاں سے آج تک کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔ فوٹو فائل

ایسا لگتا ہے کہ مرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ اگر آپ دھماکوں، اندھی گولی، ٹارگٹ کلنگ، آتشزدگی، ٹریفک حادثات، ڈاکٹروں کی غفلت، بھوک، خوراک کی کمی، بیماریوں وغیرہ سے بچ بھی جائیں تو بعض اوقات اچھی خوراک کھانے کی خواہش بھی آپ کو موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے۔

کچھ ایسا ہی واقعہ کراچی میں گزشتہ ہفتے پیش آیا۔ آٹھویں جماعت کی طالبہ کنزیٰ کا والد یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اپنی بچی کے لئے موت خرید رہا ہے۔ اگر وہ کسی طرح یہ جانتا تو کبھی بھی اس نامور ریستوران سے وہ کھانا نہ منگواتا جسے کھانے کے تھوڑی دیر بعد 13 سالہ کنزیٰ ، اس کی والدہ اور دیگر 2 بچوں کی حالت غیر ہوگئی ۔ ہر باپ کی طرح کنزیٰ کے والد کی بھی یہی خواہش تھی کہ ہمیشہ کی طرح بچوں کو ان کی من پسند خوراک کھلائی جائے، لیکن اس بار قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

برگر کھانے کے بعد کنزیٰ اور گھر کے دیگر افراد کی حالت غیر ہو گئی، پریشان حال والد سب کو ہنگامی طور پر اسپتال لے گئے۔ ڈاکٹرز نے بہت کوششیں کیں، ماں او باقی 2 بچوں کی حالت تو سنبھل گئی، لیکن آنکھوں میں ہزاروں خواب سجائے 13 سالہ کنزیٰ کو افاقہ نہ ہوسکا اور تھوڑی دیر بعد ہی وہ سب کو روتا چھوڑ اُس دنیا میں چلی گئی جہاں سے آج تک کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔

کنزیٰ کے والدین نے فوراً شبہ ظاہر کیا کہ خوراک میں ملاوٹ تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق خوراک میں زہریلے مواد کی موجودگی ڈاکٹر کی رپورٹ سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ پولیس میں رپورٹ درج کرتے ہوئے کنزہ کے والدین نے اس نامور ریستوراں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مشتبہ زہر آلود خوراک کو لیبارٹری بھیجا گیا تاکہ کیمیائی طریقے سے معلوم کیا جائے کہ آیا کنزیٰ کی موت زہر آلود خوراک کھانے سے ہوئی یا پھر اس کی وجہ کچھ اور تھی۔ لیبارٹری سے ابھی تک رپورٹ نہیں آئی ہے اور اسی بنا پر پولیس مذکورہ ریسٹوران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے گریزاں ہے۔

تاہم کنزیٰ کے والد، جو خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں، کہتے ہیں کہ خوراک کے نمونے حادثے کے چار روز بعد لیبارٹری بھیجے گئے ہیں جس سے ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر سنجیدگی کا اشارہ ملتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ واقعے کے بعد قانونی طور پر مذکورہ ریستوران کو تفتیش کے لئے بند کردینا چاہیے تھا، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ کنزہ کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا فیصلہ جلد یا بدیر ہو ہی جائے گا۔ میں امید کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ انصاف ہوگا ۔

کنزیٰ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اپنی نوعیت کا نہ تو پہلا واقعہ ہے اور بدقسمتی سے یہ آخری واقعہ بھی نہیں ہوگا۔ میں جانتا ہوں کہ ایسا کہنا نااُمیدی پھیلانے کے مترادف ہے، لیکن میرے خیال میں موجودہ حالات میں فوری بہتری کی امید رکھنا خوش فہمی سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔

ہمارے ملک میں غذائی زہریت کی وجہ سے ہر روز ہزاروں افراد بیمار پڑجاتے ہیں۔ غذا میں زہریت عموماً بیکٹیریاز اور دیگر جراثیموں کی افزائش کی وجہ سے ہوتی ہے۔ غیر ارادی طور پر آلودہ اور زہریلی خوراک کھانے کے بعد قے، اسہال اور دست کی وجہ سے بہت سارے لوگ اتنے کمزور ہوجاتے ہیں کہ آخر کار ان کی موت واقع ہوجاتی ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بازار میں میسر خوراک کا معیار یقینی بنانے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ خوراک کی معیار یقینی بنانے کی ذمہ داری پر مامور سرکاری ذمہ دار افراد اور ادارے دیگر ضروری کاموں میں یعنی کرپشن اور رشوت میں مصروف ہیں۔ لہذا بے حس کاروباری خوراک کے نام پر کھلے عام زہر بیچا جارہا ہے۔

ہمارے ملک کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں ہزاروں بڑے، درمیانے اور چھوٹے ہوٹل کروڑوں لوگوں کو روزانہ خوراک مہیا کرتے ہیں۔ کم از کم شہروں میں تو ایسے ادارے اور افراد موجود ہیں جن کی پہلی اور آخری زمہ داری ان ہوٹلوں کی نگرانی کرنا، ان میں صفائی ستھرائی کے معیار جانچنا اور لاپرواہی کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لانا ہے۔ لیکن دیگر محکموں کے تنخواہ دار زمہ داروں کی طرح یہ حضرات اور خواتین بھی اپنے کام میں سنجیدہ نہیں ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی باز پرس بھی نہیں کی جاتی ہے۔

حکومت اور شہری حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ اس اہم مسئلے کی نہ صرف نشاندہی کریں بلکہ اس کے دیرپا حل بھی تجویز کریں تاکہ آئندہ کوئی کنزیٰ اپنے چاہنے والوں سے نہ بچھڑ سکے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

نور پامیری

نور پامیری

مختلف سماجی اور سیاسی مسائل پر لکھتے ہیں۔ ایک بین الاقومی غیر سرکاری ادارے میں کمیونیکیش ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ سے ٹوئٹر @noorpamiri پر کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔