ایک چیز جو بڑی چیز ہے

سعد اللہ جان برق  ہفتہ 7 فروری 2015
barq@email.com

[email protected]

یہ انسان نامی چیز بھی ایک عجیب ’’چیز‘‘ ہے، ’’چیز‘‘ کہنے پر اس ’’ناچیز‘‘ کو معاف کیجیے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان ایک ’’چیز‘‘ ہے البتہ اس ’’چیز‘‘ سے اس ’’ناچیز‘‘ کو بھی انکار نہیں ہے کہ بہت ’’بڑی چیز‘‘ ہے۔ دنیا میں باقی جو بھی چیزیں پائی جاتی ہیں، ان سب میں یہ چیز ہی وہ چیز ہے جسے ہم ’’تُو چیز بڑی ہے مست مست‘‘ تو نہیں کہہ سکتے لیکن مسٹ مسٹ اور فسٹ فسٹ بلکہ جسٹ جسٹ کہہ سکتے ہیں۔

ویسے تو یہ اپنے چیز ہونے کی بہت زیادہ نشانیاں اپنے ’’اندر‘‘ بھی رکھتا ہے اور باہر دوسری تمام چیزوں پر بھی ثابت کرتا رہتا ہے لیکن اس کے اس ’’شوق‘‘ کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں ہے کہ دائرے خانے، مربعے، مثلث اور مستطیل بنانے کے ساتھ ساتھ جمع تفریق اور ضرب تقسیم میں بھی بڑا ماہر ہے بلکہ یہی اس کی سب سے بڑی ’’اسپیشیلٹی‘‘ ہے ۔ یہ جہاں بھی رہتا ہے وہاں ’’دائرے‘‘ اور خانے بناتا رہتا ہے، لکیریں کھینچتا رہتا ہے، جمع تفریق اور ضرب و تقسیم کرتا رہتا ہے کہیں ملکوں کے خانے اور دائرے کبھی رنگوں اور نسلوں کے خانے، کبھی مذہب و عقیدے کے دائرے اور خانے کبھی زبان اور قبیلے خاندان کے خانے اور دائرے، پھر ان دائروں اور خانوں کے اندر مزید جمع تفریق اور ضرب و تقسیم سے نئے نئے دائرے اور خانے اور پھر خانوں کے اندر مزید خانے اور دائروں کے مزید دائرے، گویا

ایچک خانہ بیچک خانہ، خانے اندر خانہ
ایچک دائرہ، بیچک دائرہ، دائرے اندر دائرہ

دیکھتا ہے کہ جب دائرے اور خانے میں اس کی دال نہیں گلتی تو اس کے دائرے یا خانے میں ایک اور دائرہ یا خانہ بنا کر اپنی الگ ہانڈی چڑھا کر اپنی دال گلانا شروع کر دیتا ہے ۔ ان دائروں اور خانوں کے بنانے کے لیے اور ہانڈی چڑھانے، دال گلانے کے لیے اسے کچھ ہی کیوں نہ کرنا پڑے، سروں کے کتنے ہی مینار کیوں نہ بننا پڑیں، خون کے کتنے دریا بہانا پڑیں اور نفرتوں کے کتنے ہی پہاڑ کھڑے کرنا پڑیں کیونکہ

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
ایک گو نہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے

اگر اب بھی آپ نہیں مانتے کہ انسان ایک چیز ہے اور یہ چیز بڑی ہے گریٹ گریٹ تو آپ بھی بڑی چیز ہیں، چاہے بظاہر خود کو ’’ناچیز‘‘ ہی کیوں نہ لکھتے ہوں، بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ اپنے آپ کو ناچیز لکھتا اور ’’ناچیز‘‘ کہتا رہتا ہے یہ بھی اس لیے کہ کہیں لوگ اسے ’’چیز‘‘ نہ سمجھ لیں، وہ چور کی داڑھی میں تنکا والی بات تو آپ نے سنی ہی ہو گی، پرانے زمانوں میں ایک کامیڈین ہوتا تھا نام اس کا ’’بہادرے‘‘ تھا، جب کہیں رقص و موسیقی کی محفل ہوتی تو درمیان درمیان میں بہادرے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے لگتا۔ یہ ہمارے بچپن کی بات ہے۔ ایک مرتبہ بہادرے جب اٹھا تو بولا ، میں صرف کامیڈین ہی نہیں بلکہ نجومی بھی ہوں مثلاً میں مجمع میں ابھی آپ کو بتا سکتا ہوں کہ کون کون جلاہا یہاں موجود ہے ۔کسی نے پوچھا ،کیسے؟ بولا ،اس کے سر پر دھاگہ ہو گا۔ یہ سنتے ہی جو جو جلاہا تھا وہ اپنے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

سیدھی سادی زبان میں آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ انسان ہی وہ انجینئر ہے جسے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد (یا مندر یا گرجا یا گردوارہ سہی) بنانے میں صدیوں کی مہارت حاصل ہے، قدیم زمانوں سے اس چیز کا واحد شغل، واحد کاروبار اور واحد پیشہ یہی چلا آ رہا ہے کہ یہ دیکھتا رہتا ہے کہ اگر کسی دائرے یا خانے میں اسے اپنی اہمیت جتانے کا موقع نہیں ملتا تو فوراً کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ کر نیا دائرہ اور نیا خانہ بنانے لگتا ہے۔

ملک کا دائرہ موزوں نہ ہو تو علاقے کا زبان کا یا نسل کا کوئی بھی دائرہ اور خانہ بنانے میں لگ جاتا ہے، مذہب کے بڑے دائرے میں اس کی امتیازی حیثیت نہ ہو تو کسی بھی چھوٹے بڑے دائرے یا خانے کا سامان کر لیتا ہے اور چونکہ یہ الگ الگ اور نئے دائرے یا خانے بنانے کا میٹریل انسانی سر، خون اور گوشت پوست ہوتا ہے اور وہ سوائے ’’نفرت‘‘ کے سکوں کے حاصل نہیں ہوتا اس لیے نفرت کا سکہ بے دریغ چلانا شروع کر دیتا ہے، اسے کوئی پروا نہیں ہوتی کہ نئے دائرے اور خانے کی تعمیر میں کتنے انسان خرچ ہوتے ہیں ، پشتو میں ایک کہاوت ہے۔

یتیم لہ خو وے پئی وی
کہ خرے وی کہ دا سپئی وی

یعنی پینے والے کو تو دودھ چاہیے، چاہے گدھی کا ہو یا کتیا بلی کا، لیکن اس میں سب سے زیادہ دل چسپ یا عجیب و غریب بات یہ ہے کہ اس ’’چیز‘‘ یا انسان نے یہ کام تب سے شروع کیا ہے جب سے یہ ’’چیز‘‘ بنا ہے۔ جب یہ چیز نہیں ’’ناچیز‘‘ ہوا کرتا تھا تو بالکل اس کے الٹ کرتا تھا، یہاں پر اتنی وضاحت ضروری ہے کہ یہ ’’چیز اور ناچیز‘‘ کی اصطلاح ہماری نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی مستند اور مقدس کتاب قرآن میں خدائے عظیم نے خود استعمال کی ہے اور انسان سے یہ کہا ہے کہ

’’یاد کرو تم وہ وقت جب تم کوئی چیز ہی نہ تھے‘‘

اور اس کا برسر زمین سلسلہ یوں ہے کہ انسان نے ابتدا ’’فرد‘‘ سے کی تھی، اس کے بعد اس نے خاندان کی بنیاد ڈالی، خاندان نے قبیلے کی صورت اختیار کی، قبیلے جمع ہو کر اتحادیے یا جرگے میں بدل گئے پھر قومیں اور ملک بن گئے کیونکہ اس وقت تک یہ ناچیز تھا پھر اچانک جب یہ ’’چیز‘‘ بنا تو اس نے سلسلہ الٹا چلانا شروع کر دیا کیوں کہ الٹا چلنا اور الٹا چلانا بھی اس ’’چیز‘‘ کی ایک خصوصیت ہے، ایک زمانے میں ستر پوشی کے لیے نہ جانے کیا کیا جتن کرتا رہا، درختوں کے پتے، جانوروں کی کھالیں، پھر اون پھر سوت اور پھر نہ جانے کیا کیا لے کر اس نے اپنے لیے لباس بنایا، پھر اچانک اس کے اندر کی ’’چیز‘‘ بیدار ہوئی تو لباس کو کم کرنے لگا، کم کرتے کرتے آج وہ اس لباس میں ’’قید‘‘ سی محسوس کرنے لگا ہے۔ اس طرح یہ اپنے ’’بالوں‘‘ سے بھی تنگ تھا۔

کبھی نوچتا رہا ،کبھی گھستا رہا ،کبھی جلاتا رہا ہے تا کہ اس کے جسم پر سے بال اڑ جائیں اور وہ اڑ گئے صرف چہرے اور سر پر باقی رہ گئے لیکن اس کی صفائی کے لیے بھی استرے قینچیاں اور بلیڈ وغیرہ نہ جانے کیا کیا چیزیں بناتا رہا، لیکن اب پھر ایک مرتبہ اسے اپنی وحشت عزیز ہوئی اور بالوں کو دوبارہ بڑھانے لگا چنانچہ آج کل خوب خوب گھنے بلکہ جنگلی قسم کے بال رکھنے لگا ہے۔ عجیب سی الٹی ’’چیز‘‘ ہے، چہرے پر بال رہنے نہیں دے رہا ہے اور سر پر سے اڑ جائیں تو ان کے فراق میں روتا رہتا ہے، کھانے میں پہلے جو کچھ مل جاتا ہے کھا لیتا تھا حتیٰ کہ ایک دوسرے تک کو بھی کھانے لگا، پھر اس نے آدم خوری چھوڑ کر گوشت خوری اور نہ جانے کیا کیا خوری شروع کی اور آج ان تمام ’’خوریوں‘‘ سے جی بھر گیا ہے تو ایک مرتبہ پھر ’’آدم خوری‘‘ پر اتر آیا، مطلب یہ کہ اسی طرح پہلے دوریاں کم کرنے میں لگا ہوا تھا۔

فرد قبیلے قوم وغیرہ کے دائرے مٹاتا رہا اور ساری دنیا اور ساری انسانیت کو ایک ہی دائرہ بنانے کے جتن کرتا رہا پھر اچانک پلٹا کھایا تو یہی چھوٹے چھوٹے دائرے اور خانے بنانے کا شغل اپنایا، محبت کا جوڑنے والا مسالہ ترک کر کے نفرت کا توڑنے والا مسالہ بنانے لگا چنانچہ آج کل ایک مرتبہ پھر بڑے دائروں اور خانوں کے اندر چھوٹے چھوٹے خانے اور دائرے بنا رہا ہے اور ایک دن وہ بھی آ جائے گا جب یہ خانوں اور دائروں کو اتنا چھوٹا کر دے گا کہ صرف اکیلا ہی اس میں کھڑا ہو گا اور آپ پھر بھی نہیں مان رہے ہیں کہ ایک چیز ہے اور نہایت ہی ناچیز قسم کی چیز ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔