ٹیکسٹائل پالیسی کا جائزہ

ایم آئی خلیل  جمعـء 13 فروری 2015

ترقی پذیر ممالک کی برآمدات میں پرائمری یا بنیادی اشیا کی برآمدات کا حصہ زیادہ ہے۔ ترقی پذیر ممالک مثلاً سری لنکا، بنگلہ دیش، نائیجیریا، انڈونیشیا وغیرہ اپنی پیداوارکا بڑا حصہ برآمد کردیتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی برآمدات میں مصنوعات کا تناسب بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ گزشتہ کئی عشروں سے کئی ایسے کم ترقی یافتہ ممالک جیسے ملائیشیا، فلپائن، تائیوان وغیرہ کی برآمدی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ چین نے برآمدات میں نمایاں ترین اضافے کے باعث معاشی قوت میں زبردست اضافہ کیا ہے۔ بھارت بھی اسی راہ پر گامزن ہے۔ کم ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر ممالک، ان کی برآمدات کا بڑا حصہ پرائمری اشیا پر مشتمل ہوتا ہے۔

پاکستان کی برآمدات کا بیشتر حصہ یعنی کبھی 66 فیصد بھی تھا، اب 59فیصد کے لگ بھگ ٹیکسٹائل سے متعلقہ ہے لیکن گزشتہ کئی عشروں سے ٹیکسٹائل شعبے کی برآمدی کارکردگی کچھ زیادہ بہتر نہ ہوسکی جتنا کہ خطے کے دیگر ملکوں نے سوتی کپڑے کی صنعت میں خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ 1950اور 1960 کے عشرے میں پاکستان خصوصاً مغربی پاکستان یعنی موجودہ پاکستان میں بڑی تواتر کے ساتھ ٹیکسٹائل ملیں لگتی چلی جا رہی تھیں۔ ملک میں کئی خاندان ایسے تھے جو کہ قیام پاکستان سے قبل بھی برصغیر میں سوتی صنعت سے وابستہ تھے، بلکہ کئی خاندانوں کی پہچان اس طرح تھی کہ فلاں دھاگے والے، فلاں کپڑے والے وغیرہ وغیرہ۔

پاکستان بننے سے قبل سوتی کپڑے کی تجارت سے وابستہ یہ خاندان کلکتہ، ممبئی، سورت وغیرہ میں اپنا کاروبار کرتے تھے۔ قیام پاکستان سے قبل بھی چند ٹیکسٹائل ملیں پاکستان میں موجود تھیں اور قیام پاکستان کے بعد پہلا کارخانہ سوتی کپڑے کا ہی تھا جو کراچی میں لگایا گیا تھا۔ 1980 کے عشرے میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو بیمار صنعت کہا جانے لگا۔ لیکن اس کے باوجود سوتی کپڑے کی صنعت بتدریج پھیلتی رہی اور لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا بہت بڑا ذریعہ اسے قرار دیا گیا۔

ٹیکسٹائل کی صنعت کو ترقی دینے کے لیے ہر حکومت اپنے طور پر اقدامات کرتی رہی ہے۔ 1980 کے بعد سے دنیا میں ایسے ممالک نے بھی اس صنعت میں حیرت انگیز ترقی کی جہاں کپاس کی پیداوار نہیں ہوتی تھی۔ ان کی حیرت انگیز ترقی دیکھ کر ایسا محسوس ہوگا کہ یہ ممالک کپاس کی پیداوار میں خود کفیل ہوچکے ہیں جب کہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ کئی ممالک جہاں کپاس کی پیداوار برائے نام تھی پاکستان یا دیگر ممالک سے کپاس درآمد کرکے یا پھر دھاگا درآمد کرکے اس سے سوتی پارجہ جات بناتے تھے۔

موجودہ حکومت کی آمد کے ساتھ ہی اس بات پر زور دیا گیا کہ نئی ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان کیا جائے تاکہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کا ہدف طے ہوسکے۔ ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ صنعت کاروں کا مطالبہ رہا کہ ان کے کاروبار کے پھیلاؤ کے لیے بطور قرض زیادہ سے زیادہ رقوم مختص کی جائیں۔ ویلیو ایڈڈ برآمدات کو مراعات بھی فراہم کی جائیں۔ حکومت نے بروز پیر نئی ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان کردیا۔ جس میں کئی باتوں کے علاوہ صنعتکاروں کو نرم شرائط پر قرضوں کی فراہمی کے لیے 40 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ملک میں ٹیکسٹائل یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ جہاں نوجوانوں کو ہنرمند بنایا جائے گا۔ ایک پالیسی بنائی گئی ہے۔

جس کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار افراد کو ٹیکسٹائل سے متعلقہ ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔ ٹریننگ کے دوران انھیں اعزازیہ بھی دیا جائے گا اور ٹریننگ کے بعد روزگار بھی فراہم کیا جائے گا۔ دراصل ٹیکسٹائل ملوں کے چلنے اور انھیں اپنا کام جاری رکھنے کا انحصار بجلی، گیس کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اب پانی کی فراہمی بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ آئے روز بجلی گیس کی طویل لوڈشیڈنگ اور بعض علاقوں خصوصاً کراچی میں پانی کی شدید قلت ان کی قلیل فراہمی کے باعث ملیں شدید دشواری کا سامنا کرتی ہیں۔ ابھی ٹیکسٹائل پالیسی میں اس بات کا تذکرہ ہوا ہی تھا کہ ٹیکسٹائل شعبے کو گزشتہ سال کی نسبت اس سال زیادہ بجلی اور گیس فراہم کی گئی تھی جس کی وجہ سے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ بروز بدھ اس قسم کی اطلاعات بھی موصول ہونے لگیں کہ فیصل آباد کی ملوں کو گیس کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جب تک کسی بھی انڈسٹری کو بجلی گیس پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی اس وقت تک ترقی ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا توانائی کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنا ضروری ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد جب نوجوان اسکلڈ پرسن ہوجاتے ہیں۔ ان کی فنی مہارت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ تو اس صورت میں توانائی بحران کے باعث ان کے لیے بیروزگاری کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ایسے میں ان کی کوشش ہوگی کہ دیار غیر میں جاکر اپنی قسمت آزمائیں۔ کسی بھی نوجوان کو فنی تربیت دینے کے لیے ہزاروں نہیں لاکھوں روپے اخراجات آتے ہیں اور ملک میں روزگار کی بہتر فراہمی نہ ہونے کے سبب جب ایسے نوجوان ملک میں برسر روزگار نہیں ہوپاتے تو کچھ انتظار کے بعد وہ بیرون ملک جاکر کسی نہ کسی ملازمت کے ساتھ منسلک ہوکر رہ جاتے ہیں۔

نئی ٹیکسٹائل پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ورلڈ ٹیکسٹائل سینٹر قائم کیا جائے گا۔ جہاں پر مختلف ممالک کے برآمد کنندگان کو دفاتر فراہم کیے جائیں گے۔ جہاں ہر پاکستانی تاجر ان کے ساتھ اپنی برآمدات کے سلسلے میں سودے کرسکیں گے۔ پاکستان میں ٹیکسٹائل کے شعبے کو مزید وسعت دینے کے لیے کراچی اور فیصل آباد میں ٹیکسٹائل یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ جہاں حکومت اور نجی شعبے دونوں مل کر افراد کو خصوصی ٹریننگ مہیا کریں گے۔ نیز وہ کمپنیاں جوکہ برآمدات میں اعلیٰ کارکردگی دکھائیں گی ان کو خصوصی ایوارڈ سے بھی نوازا جائے گا۔ ٹیکسٹائل سے وابستہ افراد کو مارکیٹ ریٹ سے دو فیصد کم پر قرضے دیے جائیں گے۔

حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ تاجروں، برآمد کنندگان اور صنعتکاروں کی مرضی کے مطابق یہ پالیسی بنائی گئی ہے۔ جس سے ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ کروڑوں افراد مستفید ہوں گے۔ یہاں پر تمام تر ٹیکسٹائل پالیسی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کس طرح ان فیکٹریوں، ملوں، کارخانوں کو بجلی گیس اور جہاں پانی کی قلت ہے ان کو پانی فراہم کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے پیداواری یونٹس کو اپنی ضرورت کے مطابق چلا سکیں اور آرڈر کی بروقت تکمیل کرسکیں۔ توانائی کے بحران کے ہوتے ہوئے صنعتکاروں برآمد کنندگان سب کے لیے مشکلات کے ساتھ ساتھ مزدوروں کو بھی بیروزگاری کے عذاب کو سہنا پڑتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔