’’ڈیڈ ڈراپس‘‘

ندیم سبحان  منگل 17 فروری 2015
راہ چلتے لوگ لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون میں فائلیں کاپی کرسکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

راہ چلتے لوگ لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون میں فائلیں کاپی کرسکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

نیو یارک: کمپیوٹر استعمال کرنے والے ’فائل شیئرنگ‘ کی اصطلاح سے بہ خوبی واقف ہوں گے۔ اس سے مُراد ایک فائل کو دوسروں تک پہنچانا ہے۔

اس مقصد کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ یو ایس بی، کمپیوٹر سے کمپیوٹر نیٹ ورکنگ، فائل شیئرنگ اور سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس وغیرہ کے ذریعے فائل کی منتقلی عمل میں آتی ہے۔ فائل شیئرنگ کا غالباً سب سے منفرد اور انوکھا نیٹ ورک ’’ ڈیڈ ڈراپس‘‘ (Dead Drops ) ہے۔ یہ نیٹ ورک دراصل دیواروں میں نصب یو ایس بیز پر مشتمل ہے!

امریکا کے مختلف شہروں میں عمارتوں اور مکانات کی بیرونی دیواروں کے رخنوں میں سیکڑوں یو ایس بیز نصب ہیں۔ راہ چلتے ہوئے کوئی بھی شخص ان یو ایس بیز سے فائلیں لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون وغیرہ میں کاپی کرسکتا ہے اور ان ( یو ایس بیز ) میں نئی فائلیں محفوظ بھی کرسکتا ہے۔ اور اگر چاہے تو کسی سال خوردہ دیوار میں ایک یو ایس بی نصب کرکے اس منفرد نیٹ ورک کو وسعت دے سکتا ہے۔

اس منصوبے کا آغاز 2010ء میں ایک جرمن میڈیا آرٹسٹ، ایرم بارتھول نے امریکی شہر نیویارک کے علاقے مین ہٹن میں کیا تھا۔ اُن دنوں ایرم مین ہٹن کے ایک ادارے میں زیرتعلیم تھا۔ اسے اس منفرد منصوبے کا خیال ’’ ڈیڈ ڈراپ‘‘ کے بارے میں جاننے کے بعد آیا تھا۔ ’’ ڈیڈ ڈراپ‘‘ سے مراد جاسوسوں کے درمیان معلومات یا دستاویزات کے تبادلے کے لیے مقررکردہ جگہ ہوتی ہے۔

ایک جاسوس اس مخصوص مقام پر خفیہ دستاویزات یا اسی نوع کا دیگر مواد رکھتا ہے اور دوسرا کچھ وقفے کے بعد اسے اٹھاکر لے جاتا ہے۔ یوں وہ ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھ پاتے۔ اس تیکنیک کے بارے میں پڑھنے کے بعد ایرم کے ذہن میں ایک اچھوتا خیال آیا۔ اس نے نیویارک میں پانچ مختلف مقامات پر دیواروں میں یو ایس بیز نصب کیں اور ان مقامات کی تصاویرفلکر پر ڈال دیں۔ اس نے اپنے منصوبے کا نام جاسوسوں کی تیکنیک کی مناسبت سے ’’ ڈیڈ ڈراپ‘‘ ہی رکھا۔

پھر اس نے ’’ڈیڈ ڈراپ‘‘ کی ویب سائٹ بنائی جس پر دیوار سے باہر ’جھانکتی‘ یو ایس بیز کی تصاویر اور ان کی موجودگی کے مقامات کے بارے میں تفصیلات   موجود تھیں۔ ابتدا میں ان فلیش ڈرائیوز کا استعمال موسیقی کے دل دادگان اور شوقیہ گلوکاروں نے کیا۔ وہ اپنے پسندیدہ، اور گائے ہوئے گیت ان کے ذریعے ایک دوسرے سے شیئر کرنے لگے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف یو ایس بیز کی تعداد بڑھی بلکہ ان میں محفوظ فائلوں کی تعداد اور اقسام بھی بڑھتی چلی گئیں۔ اسی طرح اس نیٹ ورک کا دائرہ کار بھی وسیع ہوتا چلا گیا۔ پانچ برسوں کے دوران ’’ ڈیڈ ڈراپ‘‘ نیویارک کی حدود سے نکل کر امریکی سرحد عبور کرتا ہوا دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔ ’’ ڈیڈ ڈراپ‘‘ کی ویب سائٹ کے مطابق اس نیٹ ورک کے سلسلے کی ایک یو ایس بی پاکستان کے شہر لاڑکانہ میں بھی نصب کی جاچکی ہے۔

دیواروں میں نصب یو ایس بیز میں تفریحی مواد مثلاً گیت، فلموں، ٹیلی ویژن شوز اور ویڈیوگیمز کے علاوہ سوفٹ ویئرز بھی موجود ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو اپنی فیملی ویڈیوز اور تصویریں بھی ان میں رکھ چھوڑی ہیں۔ یہ یو ایس بیز مختلف گنجائش کی حامل ہیں۔ سب سے زیادہ 120 جی بی گنجائش رکھنے والی یو ایس بی سڈنی میں ایک دیوار کی ’ زینت ‘ بنی ہوئی ہے۔

دنیا بھر میں روزانہ ان گنت لوگ فائل شیئرنگ کے اس منفرد آف لائن نیٹ ورک سے استفادہ کرتے ہیں۔ وہ دیواروں میں لگی ہوئی یو ایس بیز سے اپنے لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون یا اسی نوع کی دوسری ڈیوائسز میں فائلیں کاپی بھی کرتے ہیں، اور یو ایس بیز میں رکھی ہوئی فائلوں میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں بارہ سو مقامات پر موجود ان یو ایس بیز کے استعمال کے ضمن میں سیکیورٹی تحفظات بھی ضرور پائے جاتے ہیں مگر ایرم کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔

حال ہی میں ایرم نے ’’ڈیڈ ڈراپ‘‘ کا ڈیٹابیس اپ ڈیٹ کیا ہے۔ اب ’’ ڈیڈ ڈراپ‘‘ کی ویب سائٹ سے نیویارک اور پیرس سے لے کر ویت نام تک بارہ سو مقامات پر موجود یو ایس بیز کا درست محل وقوع معلوم کیا جاسکتا ہے

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔