خود پسندی کے مریض سیاستدان

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 18 فروری 2015

’’آزادی کے بعد آپ کی سب سے بڑی مشکل کیا رہی ہے۔‘‘ یہ وہ سوال ہے جس کو فرانسیسی مصنف آندرے مالراکس نے ایک بار جواہر لال نہرو سے پوچھا تھا۔ نہرو نے جواب میں کہا کہ ’’ایک درست حکومت کو درست ذرایع سے وجود میں لانا۔‘‘ جواہر لال نہرو کو ہندوستا ن میں کامل اقتدار حاصل تھا۔ اس کے باوجود بہتر نظام حکومت بنانے کے لیے وہ اپنے آپ کو بے بس پاتے تھے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بہتر نظام حکومت بنانے کا کام حکومت کی طاقت سے نہیں ہوتا یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو حکومت سے باہر رہ کر اس کے لیے جدوجہد کریں۔ اصل میں بہتر حکومت بنانے کا کام بہتر افراد بنانے سے شروع ہوتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ کچھ لوگ خالص تعمیری انداز میں ذہن بنانے کے کام میں لگیں وہ تقریر و تحریر، ٹی وی چینلز، اخبارات اور دوسرے ممکن ذرایع سے ایک ایک شخص کے ذہن میں داخل ہونے کی کوشش کریں۔ یہ کام خاموش اور پر امن انداز میں لمبی مدت تک جاری رہے گا۔ یہ گویا ایک قسم کا تعمیری لاوا پکانا ہے جب افراد کی قابل لحاظ تعداد میں فکر کا لاوا پکتا ہے تو افراد کی زندگیوں میں انقلاب آ جاتا ہے اور اس کے بعد سماج میں بھی انقلاب آ جاتا ہے اور جب سماج کی اصلاح ہو جائے تو اس کے بعد اصلاح یافتہ حکومت بھی لازماً بن کر رہتی ہے۔

افراد میں انقلاب سماج میں انقلاب لانے کا باعث بنتا ہے اور سماج میں انقلاب حکومت میں انقلاب لے آتا ہے کیونکہ حکومت سماج کے اندر سے نکل کر ہی تشکیل پاتی ہے۔ لہذا بہتر حکومت کا تصور اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک سماج میں بہتر لوگ نہ ہوں۔ ہمیں67 سالوں میں بہتر حکومت اسی لیے نہیں مل سکی کیونکہ ہمارے سماج میں بہتر لوگوں کا ہمیشہ ہی سے قحط رہا ہے۔

اس لیے جو لوگ بھی حکومت میں آئے وہ سب کے سب اخلاقی، تہذیب و تمدن، عقل و دانش اور سمجھ بو جھ کے لحاظ سے بونے تھے۔ ظاہر ہے جو کچھ سماج میں میسر ہو گا وہ ہی حکومت میں بھی نظر آئے گا اور یہ ہی صورت حال آؓج بھی جاری و ساری ہے آج بھی اوپر سے لے کر نیچے تک بونوں کی حکومت ہے اور ظلم تو یہ ہے کہ ہمارے یہ سب بونے خود پسندی کا شکار ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ان کی ہر وقت بس تعریفیں ہی تعریفیں ہو رہی ہوں ہر بات پر واہ واہ ہر انداز پر سبحان اللہ کی صدائیں بلند ہو رہی ہوں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق خود پسندی ایک نفسیاتی مرض ہے۔ یہ اصطلاح قدیم یونان کی ایک دیومالائی کہانی سے اخذ کی گئی ہے جس کا مرکزی کردار نارسس ایک خوبصورت ہیرو ہے جسے اپنے چاہنے والوں اور اردگرد کی دنیا سے کوئی دلچسپی نہ تھی اپنی تعریف سنتے سنتے وہ اتنا خود پسند ہو گیا تھا کہ ایک دن پانی میں اپنا عکس دیکھ کر خود پر عاشق ہو گیا۔ رات دن اپنا عکس دیکھتا رہتا بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوتے ہوئے بھی پانی کو چھو نہیں سکتا تھا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ پانی کی سطح ہلنے سے عکس ٹوٹ جائے گا اور اس کی شکل کا حسن ہزاروں ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔

چنانچہ وہ پیاس سے نڈھال مر گیا، دیو مالا کے ایک بیان میں ہے کہ دیو تاؤں نے اسے نر گس کا پھول بنا دیا اسی وجہ سے خودپسندی کو نرگسیت کا نام دیا گیا۔ ڈاکٹر ڈیو ڈ تھامسن کا کہنا ہے کہ خود پسندی کے مریض کو پہنچانا اس لیے مشکل ہوتا ہے کہ یہ ہر لمحہ اداکاری کے ذریعے اپنی انا کی حفاظت کرتا ہے چنانچہ خود پسندی کے مریض دھوکا دہی کے استاد بن جاتے ہیں۔ خود پسندی کے مرض کی مندرجہ ذیل علامتیں ہیں۔

(1) خود پسند شخص کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اجتماعی ضرورتوں کو اپنی ضرورتوں پر فوقیت دے سکے وہ دوسروں کے لیے ہمدردی سے خالی ہوتا ہے مثلاً جب وہ آپ کی خیریت پوچھتا ہے  تو یہ ایک عادت اور حسن اخلا ق کا مظاہرہ ہوتا ہے اسے حقیقت میں آپ کی خیریت سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔

(2) عام آدمی ناکامی کی صورت میں خو د کو قصور وار سمجھتا ہے لیکن خود پسند شخص اپنی ناکامی کو دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔

(3) تکبر، خود نمائی اور فنکارانہ مطلب پرستی خود پسند شخص کی صفات ہیں وہ تعریف و تحسین کا بھوکا ہوتا ہے اپنے ہم پلہ یا فائق لوگوں کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ وہ مجھ سے جلتے ہیں یا یہ کہ میرے خلاف سازش کرتے ہیں ۔

(4) ندامت اور تشکر دونوں سے انکار خود پسند شخصیت کا وہ نفیس ہتھکنڈے ہیں جس سے وہ اپنی فضیلت و عظمت کا تحفظ کرتا ہے۔

(5) چاہے اس کی گفتگو میں نمائش کا عنصر صاف نظر آ رہا ہو پھر بھی خود پسند مریض کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی اہمیت کا تاثر اس انداز سے چھوڑے کہ جیسے اس کا مقصد نمائش یا بڑ  مارنا نہیں تھا ۔ذرا آپ ہی بتلا دیں کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہمارے سیاست دانوں میں یہ تمام علامتیں نہیں پائی جاتی ہیں کیا یہ سچ نہیں ہے کہ وہ سب کے سب خود پسندی کے مرض میں مبتلا ہیں اگر نہ ہوتے تو کیا انھیں اپنے علاوہ پاکستان کے عوام سے محبت نہ ہوتی اگر ہوتی تو وہ ان کے مسائل کے حل کے لیے تڑپتے پھرتے نظر نہ آتے۔

اپنے فائد ے کی چیز ہو یا اپنے الاؤنس میں اضافے کی بات ہو سینٹ کی سیٹ ہو یا اور کوئی منافع بخش جگہ کی بات ہو ہم سب کو ان کی تڑپ کیا نظر نہیں آتی ۔ کیا ہمیں ان کی لوٹ مار، مال توڑتا، کمیشن لینا، باہر کے بینکوں میں اپنا مال ذخیرہ کرنا نظر نہیں آ رہا ہے اور دوسری طرف وہ عوام کے مسائل پر گونگے، بہرے انجان اور اندھے بنے پھرتے ہیں ۔ اب آپ ہی بتلا دیں کہ ان حالات میں بہتر حکومت کی توقع اور امید کیسے کی جا سکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔