کراچی دہشت گردی سے نجات کے دوراہے پر
کراچی کسی زمانہ میں ایشیا کا خوبصورت ترین شہر تھا ۔مگر اب سیاسی ، سماجی، مسلکی اور مذہبی دہشت گردی کے ہاتھوں نڈھال ہے
پاکستانی قوم یہ عہد کرچکی ہے کہ دہشت گردی کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے گا۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی کو دہشت گردوں سے نجات دلانے کا فیصلہ کن لمحہ آگیا، بندوق اب صرف ریاست کے پاس ہوگی۔ 2018 تک کراچی کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ کراچی آپریشن کو ادھورا نہیں چھوڑیں گے، منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ کراچی ایکسپو سینٹر میں نویں ایکسپو پاکستان 2015 نمائش کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب میں انھوں نے کہا کہ کسی کے ہاتھ میں ناجائز اسلحہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم کا یہ تاثر اور ذاتی مشاہدہ حقیقت پر مبنی ہے کہ کراچی ایک پر امن شہر تھا پھر نہ جانے اس کو کس کی نظر لگ گئی ، در اصل اسی بد نظری کے نقطہ کے گرد شہر قائد کی سماجی ، معاشی ، لسانی اور سیاسی بربادی کا مہیب سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے جہاں سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کی آپس کی چپقلش ، علاقوں پر قبضہ و بھتہ خوری اور بے دریغ سیاسی طاقت کے حصول کی خواہش اور عملی کوششوں نے ایک نہ ختم ہونے والی کشیدگی پیدا ہوئی۔
جس نے منی پاکستان کا نہ صرف سیاسی تشخص تباہ کیا بلکہ رواداری ، جمہوریت پسندی ، مذہبی بھائی چارہ ، پر امن بقائے باہمی کے تارو پود بکھیر کر رکھ دیے، دوسری طرف دنیا بھر کے دہشت گرد، کرمنلز، بھتہ خور ، ٹارگٹ کلرز ، تارکین وطن ، طالبان ، کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک ، اور ان کے ماسٹر مائنڈز نے شہر کی تباہی کے ماسٹر پلان بنائے جب کہ شہر کے اندر اپنی پناہ گاہیں بنائیں ۔
کراچی میں بندوق کے زور پر بیک وقت کئی وزیرستان نے جنم لیا۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہوئی کہ ان قوتوں کو کھلی چھوٹ ملی ، قانون کی پامالی اور ریاستی رٹ کے خلاف ستیزہ کار رہنے والوں میں ہر قسم کے عناصر دندناتے رہے، یوں کراچی کی حیثیت ایک ایسی بادشاہت کی ہوگئی جس کے اندر مجرمانہ ، باغیانہ گروپوں اور سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگ نے وہ کچھ کیا جس کی سزا کراچی کے تقریباً 2 کروڑ مکین آج بھگت رہے ہیں ۔یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر اس کا اظہار کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ کراچی کی بربادی میں غیر قانونی اسلحہ نے نہایت گھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔
اہل سیاست بھی تباہی کے اتنے ہی ذمے دار ہیں جس قدر غیر ملکی سازش اور دیگر داخلی انتہا پسند عناصر اور مافیاز کا ہولناک کردار رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چشم پوشی ، مجرموں سے گٹھ جوڑ ، اور سیاسی مصلحت اندیشی بھی کراچی کو اجڑے دیار میں بدلنے کی ذمے دار ہے ۔ یہ دردناک دورانیہ 80 ء کی دہائی سے آج تک جاری ہے ، ان نہ ختم ہونے والی پر اسرار ہلاکتوں نے بین ا لاقوامی ذرایع ابلاغ کو بھی یہ الزام لگانے پر مجبور کردیا کہ کراچی دنیا کے انتہائی خطرناک شہروں میں سے ایک ہے ۔
بلاشبہ کراچی کسی زمانہ میں ایشیا کا خوبصورت ترین شہر تھا ۔مگر اب سیاسی ، سماجی، مسلکی اور مذہبی دہشت گردی کے ہاتھوں نڈھال ہے جس کی مسیحائی اب وفاق اور تمام صوبوں کی مشترکہ ذمے داری بن گئی ہے کیونکہ کراچی پاکستان کا اقتصادی دل ہے ، تجارت ، کاروبار ، صنعتی ترقی اور ریونیو کی فراہمی کے حوالہ سے کراچی کی اہمیت بے حد اہم ہے۔ چنانچہ گزشتہ روز وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں اغوا برائے تاوان اور بھتہ وصولی جیسے جرائم کی وارداتیں نہیں ہونی چاہئیں ۔
پاکستان کو پر امن اور خوشحال ملک بنانا دیرینہ خواب ہے، فتنہ پھیلانے اور دہشتگردی کرنیوالی تنظیموں کی کوئی گنجائش نہیں۔ آج یہیں سے کراچی میں قیام امن کا ٹرننگ پوائنٹ شروع ہوتا ہے ، جہاں وزیراعظم نے کہا کہ ایکسپو پاکستان نمائش کے انعقاد سے عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مصنوعات اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔ اگلے3 سال میں برآمدات کو 50 ارب ڈالر تک پہنچائیں گے۔
3 سال میں بجلی کے بحران پر قابو پالیا جائے گا۔ نواز شریف نے عالمی سرمایہ کاروں کو یقین دلایا اور کہا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ حکومت ہر ممکن تحفظ اور مدد فراہم کریگی۔ کاروباری حضرات کے لیے ٹیکس کی ادائیگی کا آسان طریقہ کار بنایا جا رہا ہے۔ آن لائن کے مطابق ائیر بورن ارلی وارننگ جہاز قراقرم ایگل کی پاک فضائیہ کے بیڑے میں شمولیت کی تقریب سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کو اندرونی و بیرونی خطرات درپیش ہیں۔
پاک فضائیہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ بی بی سی کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ان گمراہ عناصر سے پاک کر دیا جائے گا جنہوں نے پورے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کے ردعمل میں شدت پسندوں کی جانب سے کچھ دہشت گردی بھی کی جارہی ہے لیکن یہ ان کی آخری وارداتیں ہیں ۔کیونکہ پاکستانی قوم یہ عہد کرچکی ہے کہ دہشت گردی کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے گا۔
ادھر لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کی پاکستان حوالگی میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ۔تاہم کراچی آپریشن کے جاری رہنے کے حکومتی اور عسکری عزم اور میڈیا میں چھپنے والے ہولناک انکشافات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں طے پانے والی نئی حکمت عملی سے محسوس ہوتا ہے کہ منی پاکستان کو دہشت گردوں اور سیاست و مافیاؤں کی چھتری تلے محفوظ مجرموں سے نجات دلانے کا وقت آگیا ہے۔