پولیو مہم کامیاب تکمیل کی منتظر

اس باروفاقی حکومت کی ہدایت اورصوبائی حکومتوں کی مشترکہ حکمت عملی اورسیکیورٹی میکنزم کےساتھ مہم کاآغازایک اچھااقدام ہے


Editorial March 04, 2015
عالمی ادارہ صحت کے انتباہات کے پیش نظر پوری تن دہی، جراتمندی اور احساس فرض کے ساتھ پولیو مہم کو انجام تک پہنچانا ارباب اختیار کا قومی فریضہ ہے۔ فوٹو: فائل

GUJRANWALA: ملک بھر میں تین روزہ انسداد پولیو مہم کے اگلے مرحلے کا آغارکر دیا گیا ہے ۔ اس مہم کو ٹارگٹ کلرز اور دہشت گردوں کیطرف سے شدید دباؤ اور ہلاکتوں کا شدید خدشہ ہے جب کہ ماضی میں مناسب سیکیورٹی نہ ہونے کے باعث پولیو ورکرز پر حملے کیے جاتے رہے اور کئی لیڈی و میل ورکرز کوہلاک اور زخمی کیا گیا، تاہم اس بار وفاقی حکومت کی ہدایت اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ حکمت عملی اور سیکیورٹی میکنزم کے ساتھ مہم کا آغاز ایک اچھا اقدام ہے مگر دہشت گردی کے خطرات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔

کراچی میں پولیو ورکرز کو مکمل سیکیورٹی دی جارہی ہے اسی طرح دیگر صوبوں میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مہم کے خلاف کارروائیوں میں ملوث عناصر کو نہیں بخشنا چاہیے اور جو کارروائی پولیوقطرے نہ پلانے والوں کے لیے طے پائی ہے اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے پولیو مہم دشمنوں کو بھی قانون کے شکنجے میں لایا جائے تاکہ مہم شیڈول کے مطابق کامیابی سے ہمکنار ہو ۔ اطلاع کے مطابق پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں27لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ صحت کا اتحاد پروگرام کے تحت خیبر پختونخوا میں مہم کے لیے8,157 پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں۔

لاہور کی74حساس یونین کونسلوں میں 5 لا کھ97ہزار بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے جس کے لیے 1914 پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ کوئٹہ میں پولیومہم کا دوسرامرحلہ سیکیورٹی نہ ملنے کے باعث ملتوی کردیا گیا۔ پشاور میں پولیو قطرے پلانے سے انکار پر1400افراد کے خلاف مقدمات درج جب کہ بچوں کو قطرے نہ پلانے والے471والدین کو گرفتار جب کہ1ہزار سے زائد کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے، صوبائی حکومت نے والدین کو بچوں کو قطرے پلانے کی طرف مائل کرنے کے لیے علماء کی خدمات حاصل کرنے کا مستحسن فیصلہ کیا ہے جب کہ گرفتار والدین کو اسی صورت میں رہا کیا جائے گا جب وہ قطرے پلانے کی تحریری یقین دہانی کرائیں گے۔

کوئٹہ میں پولیو مہم نہ ہونے سے 2 لاکھ سے زائد بچے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم رہ گئے۔ دریں اثناء شکارپور میں پولیو ورکرز کو ڈاکوؤں نے لوٹ لیا اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا ۔ ادھر ادھر ڈیرہ اسماعیل خان، باجوڑایجنسی و دیگر علاقوں میں پولیو مہم جاری ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے انتباہات کے پیش نظر پوری تن دہی، جراتمندی اور احساس فرض کے ساتھ پولیو مہم کو انجام تک پہنچانا ارباب اختیار کا قومی فریضہ ہے۔