مذہبی اقلیتوں پر مظالم

قادر خان  بدھ 4 مارچ 2015
qakhs1@gmail.com

[email protected]

پروفیسر رام پرشاد گھوسلا اپنی کتاب ’مغل کنگ شپ اینڈ نوبیلیٹی‘ میں لکھتے ہیں ’’ مغلوں کے زمانے میں عدل و انصاف میں جو اہتمام ہوتا اور جو ان کی مذہبی پالیسی تھی اس سے عوام ہمیشہ مطمئن رہے، اسلامی ریاست میں سیاست اور مذہب کا گہرا لگاؤ رہا ہے لیکن مغلوں کی مذہبی رواداری کی وجہ سے اس لگاؤ کی وجہ سے کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا، کسی زمانے میں بھی یہ کوشش نہیں کی گئی کہ حکمراں قوم کا مذہب محکوموں کا بھی مذہب بنا دیا جائے حتی اورنگزیب نے حصول ملازمت کے لیے اسلام کی شرط نہیں رکھی تھی۔

مغلوں کے عہد میں Corporation Act جیسے قوانین منظور نہیں کیے گئے، Bartholomew’s Day  جیسے قتل عام سے مغلوں کی تاریخ کبھی داغدار نہیں ہوئی، مذہبی جنگ کی خون ریزی سے یورپ کی تاریخ بھری ہوئی ہے لیکن مغلوں کے عہد میں ایسی مذہبی جنگ کی مثال نہیں ملتی، بادشاہ مذہب اسلام کا محافظ اور نگہبان ضرور سمجھا جاتا، لیکن اس نے کبھی غیر مسلم رعایا کے عقائد پر دباؤ نہیں ڈالا۔

پر متھان سرن نے اپنی کتاب ’پروونشیل گورنمنٹس انڈر دی مغلز‘ میں لکھا ہے کہ ’مغلوں کی حکومت عروج کے زمانے سے دنیا کی شاندار حکومتوں میں سے ایک تھی اور اس کی تمام معاصر حکومتوں میں اس سے زیادہ وسیع اور مستحکم کوئی حکومت نہ تھی، اس نے ہندو، مسلمان دونوں کو متحد کیا، اس کی کارکردگی ایسی تھی جس پر فخر کیا جا سکتا ہے۔‘‘ اٹھارویں صدی عیسوی کے مدبر سرجان شور کا بیان ہے کہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی برسراقتدار آئی تو اس صوبوں کے نظم و نسق میں ابتری ضرور تھی لیکن اس کا جو نظام تھا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغلوں کی حکومت استحکام اور دانش مندی کی مضبوط بنیاد پر قائم تھی، جس میں مختلف فرقوں کے حقوق کی پوری حفاظت تھی، ہندوؤں کے لیے قوانین ان ہی کے بنائے ہوئے تھے جن پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی کوشش کی جاتی۔‘‘

مسلم حکمرانوں نے کبھی کسی کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے مقابلے میں اگر ہم دیکھیں تو آج مسلمانوں کو ہندو بنانے کی باقاعدہ مہم سرکاری سر پرستی میں چلائی جا رہی ہے یا پھر غربت کے مارے خاندانوں کو اسلام سے ہٹا کر دیگر مذاہب میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ لیکن اسلام کے نام پر دنیا بھر میں جانے والی کسی بھی تبلیغی جماعت، مسجد یا فرد کی جانب سے کوئی شکایت نہیں آئی کہ کسی غیر مسلم کو کسی لالچ، دھوکے یا کسی ڈر و دباؤ میں لا کر مسلمان کیا گیا ہو۔

محمد بن قاسم سے لے کر مغل حکمرانوں تک برصغیر کی مثال ہمارے سامنے ہے، اگر اس سے قبل خلافت راشدہ کی فتوحات دیکھیں تو بھی ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ مسلم سپاہ جس جس ملک میں گئیں، اسے فتح کیا لیکن کبھی اس ملک یا علاقے کے کھیت کھلیان یا عوام کو نقصان نہیں پہنچایا۔ لیکن اس کے برخلاف ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مسلم اقلیتوں سے لے کر مسلم ممالک پر قابض ہونے والوں نے عوام کے ساتھ ان مملکتوں کا بھی تخت و تختہ کیا کہ وہ عبرت کی مثال بن گئے۔ چنگیزخان، ہلاکو خان سے لے کر بارک اوباما، نریندر مودی تک نے مسلمانوں پر جارحیت اور استبدادی مظالم کے ریکارڈ قائم کیے۔

یہ شاید ان کی فطرت میں ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ ظلم وستم کر کے اپنی خونی جبلت کو تسکین پہنچائیں، مغرب نے سائنسی علوم کو ترقی دیکر اسے عالم انسانیت کے فلاح و بہبود کا ذریعہ بنانے کے بجائے تباہی کا استعارہ بنا دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغرب نے انسانی آرام و آسائش کے لیے بے شمار چیزیں ایجاد کیں لیکن جنگی ساز و سامان میں اسلحہ، ہوائی جہاز، بم، زہریلی گیس بھی ایجاد کیں، جن کے ذریعے لاکھوں انسانوں کو اس کے شہر سمیت مٹی کا ڈھیر بنا دیا گیا۔

ولیم اول نے 1066ء میں انگلستان فتح کیا تو اس کے حکم سے مفتوحہ علاقوں کے گھر، کھیت و کھلیان وغیرہ سب کچھ جلا دیے گئے اور ایک لاکھ سے زیادہ مرد و زن، بچوں اور عورتوں کو قتل کیا گیا۔ تاریخ انگلستان جلد دوم میں لکھا ہے کہ ’’یارک اور ڈرہم کے علاقے اس طرح برباد کر دیے گئے تھے کہ نو سال تک وہاں کی زمین کھیتی کے لائق نہیں رہی۔

روس کا حکمران آئیون چہارم (1584۔1530ء)آئیون مہیب (ٹیریبل) کہلاتاتھا وہ اپنے غلاموں کو اپنی ملکیت سمجھتا اور کہتا کہ وہ اپنی مرضی سے جب چاہے ان کو ہلاک کر دے اور جب تک چاہے ان کو زندہ رہنے دے۔ اس کو کلیسا کے پادریوں سے شکایت رہتی کہ وہ کاہل ہیں، عبادت نہیں کرتے اس لیے کلیسا میں جا کر قیام کرتا اور کبھی کبھی رات رات بھر ان سے عبادت کراتا، اس نے تو بائبل کو بھی بدل دینے کی کوشش اور اپنی طرف سے اس کا نسخہ تیار کر کے اس کو رائج کرانے کی کوشش کی (روس از ڈبلیو ۔آر ۔مرفل ص 67-69)۔

سولہویںصدی میں فرانس کے حکمراں چارلس نہم اور اس کی ماں کیتھرائن نے ملکر سینٹ بار تھیمیلو کے میلے کے موقعے پر دس ہزار پروٹسٹنٹ کو قتل کرا دیا، تو کیتھولک چرچ نے خوشی کے شادیانے بجائے ( انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا، گیارہواں ایڈیشن ج 10)

لوئی پانزد دہم اپنی داشتاؤں کے ہاتھوں کھلونا بنا رہا اس کے زمانے میں ژان سینی تحریک مذہبی و سیاسی احکام کے خلاف چلی تو اس کو کچلنے کے لیے ہر طرح کے مظالم ڈھائے گئے۔ روس کا شہنشاہ پیٹر اپنے کارناموں کی وجہ سے پیٹر اعظم کہلاتا مگر جہاں اس میں بڑی عظمت تھی وہاں اس کے مزاج میں اتنا غصہ تھا کہ جب مظالم کرنے پر اتر آتا تو لوگ دیکھ کرتھرا اُٹھتے۔ اس نے اپنے لڑکے الیکزیسن کو پھانسی کی سزا دلوائی، اس لیے کہ اس کی حرکتیں اس کو پسند نہیں تھیں اس نے اپنی ایک بیوی کو خانقاہ میں بند کر کے راہبہ بننے پر مجبور کیا اس نے کلیسا میں اپنی خواہش کے مطابق اصلاحات کیں تو پادریوں نے اسکو قتل کر دینے کی دھمکی دی۔

سترھویں صدی میں جرمنی میں پروٹسٹنٹ فرقوں کی جنگ یورپ کی تیس سالہ جنگ کے نام سے مشہور ہوئی، یورپ کی بہت سی مملکتیں اس میں الجھ گئیں، مورخین کے مطابق اس لڑائی میں بوہیمیا کے 35 ہزار گاؤں میں صرف 6 ہزار باقی رہ گئے تھے، بویریا، فرینکونیا اور سوابیا میں غارتگری ایسی کی گئی کہ یہ سارے علاقے قحط اور امراض سے تباہ ہو کر ویران ہو گئے۔ جرمنی میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کی آبادی تھی اس جنگ کے بعد ساٹھ لاکھ رہ گئی۔

1831ء میں یونان کے علاقے موریا میں تین لاکھ اور یونان کے شمالی حصے میں ہزاروں مسلمان مرد، بچے اور عورتیں بڑی بے رحمی سے ہلاک کی گئیں، تفصیل مارما ڈیوک پکتھال کی کتاب ’دی کلچرل سائیڈ آف اسلام ‘ میں پڑھی جا سکتی ہے۔ جنگ عظیم اول و دوئم میں انسانوں پر الم انگیز مصائب آئے۔ دوسری جنگ عظیم میں روسیوں کے تیس لاکھ سپاہی جرمن حملہ آوروں کے اسلحے سے ہلاک ہوئے۔ ان کے ملک کے آٹھ لاکھ مربع میل کے علاقے بالکل تباہ ہو گئے، اسی جنگ میں برطانیہ کے چھ لاکھ سپاہی مارے گئے اور چالیس لاکھ مکانات برباد ہوئے، فرانس کو چھبیس ملین ڈالر کا نقصان ہوا یہاں کے پانچ لاکھ گھر تہس نہس ہو گئے اور ساڑھے سات لاکھ خاندان بے گھر ہوئے، پورے یورپ میں ایک کروڑ سے زیادہ سپاہی موت کے گھاٹ اترے ، دوکروڑ سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے اور ان گنت معذور اور بے کار ہو کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے، کُل چار سو ملین کی املاک تباہ ہوئی۔

ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں مردوں، عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو چشم زدن میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ امن کے نام نہاد علمبرداروں نے عراق، افغانستان، فلسطین، برما، نائیجریا میں لاکھوں مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی۔ سوچنے کی بات یہی ہے کہ انتہا پسند دراصل ہے کون؟ تاریخ انسانی تو یہی بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ جبر و طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا بلکہ بدمست حکمرانوں نے اپنے ہم مذہب یا اسلام کے علاوہ مذاہب کو بھی اپنے ظلم و انتہا پسندی سے محفوظ نہ رہنے دیا۔ یورپ کی تیس سالہ جنگ ہو یا جنگ عظیم و دوئم، یہ کسی مسلم حکمران کی جانب سے مسلط کردہ جنگ نہیں تھی، اس میں لاکھوں کروڑوں انسانوں کے مٹی کا ڈھیر بنانے والے مسلمان نہیں تھے۔

مسلم امہ کے خلاف جس قسم کا پروپیگنڈا مغرب سے کیا جاتا ہے اس کا مظاہرہ قرآن و نبی اکرم ﷺ کی ذات مبارکہ کی توہین کرنے سے پست ذہینت کی صورت میں ہی نظر آ جاتا ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کے نام پر بین الاقوامی پروپیگنڈا مہم کے تحت خلفشار کا شکارکچھ عناصر متاثر ہو کر اسلام کی تعلیمات کو سامنے لانے والوں کو بنیاد پرست کہہ کر خود انتہا پسند بن جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہو گا کہ انتہا پسند کون ہیں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔