بلدیاتی اداروں کی خصوصی صفائی مہم نمائشی ثابت ہوئی

سید اشرف علی  منگل 10 مارچ 2015
شہر میں یومیہ 12ہزارٹن کچرا پیدا ہوتا ہے،ایک ہزار تا4ہزار ٹن کچرا صاف کیا گیا  فوٹو: فائل

شہر میں یومیہ 12ہزارٹن کچرا پیدا ہوتا ہے،ایک ہزار تا4ہزار ٹن کچرا صاف کیا گیا فوٹو: فائل

 کراچی: بلدیاتی اداروں کی گذشتہ ماہ سے جاری خصوصی صفائی مہم نمائشی ثابت ہوئی، متعلقہ بلدیاتی اداروں نے وزیر بلدیات شرجیل میمن کی ہدایات کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا، شہر کی صرف ان ہی جگہوں کی صفائی کی گئی جہاں وزیر بلدیات کو دورہ مقرر رکھا جاتا تھا، شہر میں یومیہ 12 ہزار ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے ۔

تاہم خصوصی صفائی مہم میں یومیہ ایک ہزار تا 4 ہزار ٹن کچرا جام چاکرو اور گوند پاس لینڈ فل سائیٹ تک پہنچایا گیا ، میونسپل کارپوریشنز کے 8ٹاؤنز کی صفائی ستھرائی کی کارکردگی صفر رہی، لانڈھی کورنگی، بن قاسم ، گڈاپ ، ملیر، کیماڑی، اورنگی و گڈاپ ٹاؤنز کی انتظامیہ نے اپنے علاقوں کا کچرا صاف کرکے لینڈفل سائیٹ تک پہچانے کی زحمت ہی نہیں کی جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی، صدر اور گلشن اقبال ٹاؤنز نے بھی صفائی مہم میں کئی بار ڈنڈی ماری اور لینڈفل سائٹ پر کچرا نہیں پھینکا، تفصیلات کے مطابق کراچی میں یومیہ 12ہزار ٹن سے زائد کچرا پیدا ہوتا ہے۔

کچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا کام 24 مختلف ادارے کررہے ہیں جن میں چھ میونسپل کارپوریشنز کے 18ٹاؤنز ، کنٹونمنٹ بورڈز، پاکستان نیوی اور ایدھی انتظامیہ بھی شامل ہیں، ذرائع نے بتایا کہ وزیر بلدیات شرجیل میمن کی ہدایت پر 23فروری سے جاری خصوصی صفائی مہم بلدیہ عظمیٰ کراچی اور چھ میونسپل کارپوریشنز کے حکام کی لاپرواہی وغفلت کے باعث بری طرح ناکام ہوگئی، واضح رہے کہ یہ مہم اس لیے شروع کی گئی ہے کہ بلدیاتی ادارے تین سال سے صفائی ستھرائی میں غفلت برت رہے تھے جس کے باعث شہر کی اہم شاہراؤں، گلیوں کوچوں، ندی نالوں اور کچرا کنڈیوں میں لاکھوں ٹن کچرا جمع ہوگیا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔