تنخواہ 40 ہزار پاؤنڈ پھر بھی کوئی ملازمت پر تیار نہیں

ع۔ر  منگل 10 مارچ 2015
چوزوں کی جنس کا تعین کرنے والوں کی قلت سے پولٹری انڈسٹری کو مشکلات کا سامنا۔ فوٹو: فائل

چوزوں کی جنس کا تعین کرنے والوں کی قلت سے پولٹری انڈسٹری کو مشکلات کا سامنا۔ فوٹو: فائل

پولٹری فارمز میں دوسرے ملازموں کے ساتھ ساتھ چوزوں کی جنس کا تعین کرنے والے بھی ہوتے ہیں، جنھیں Chick sexers کہا جاتا ہے۔ ان کا کام چوزوں کی جنس کا تعین کرتے ہوئے انھیں الگ الگ کرنا ہوتا ہے۔

اندازہ کیجیے کہ ان کی تنخواہ کیا ہوگی؟ جی نہیں، برطانیہ میں ان کی تنخواہ ہزار پانچ سو پاؤنڈز نہیں بلکہ چالیس ہزار پاؤنڈز سالانہ۔۔۔۔ یعنی تین ہزار تین سو پاؤنڈز ماہانہ ہے۔ پاکستانی روپوں میں یہ رقم پانچ لاکھ بنتی ہے مگر برطانیہ میں پھر بھی یہ نوکری کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے چوزوں کی جنس کا تعین کرنا کون سا مشکل ہے۔ درحقیقت یہ کوئی آسان کام بھی نہیں ہے۔ اسی لیے پُرکشش تنخواہ کے باوجود برطانوی پولٹری انڈسٹری کو Chick sexers کی قلت کا سامنا ہے۔ پولٹری فارم مالکان کا کہنا ہے اگر جلد یہ قلت دور نہ ہوئی تو گوشت اور انڈے کی برآمدات متاثر ہوں گی۔

چِک سیکسر کو مسلسل بارہ گھنٹے چوزوں کی پُشت پر نگاہیں جمائے رکھنی پڑتی ہیں۔ اس دوران اسے پوری توجہ کے ساتھ یہ جانچنا ہوتا ہے کہ ہاتھ میں پکڑا ہوا چوزہ بڑا ہوکر مُرغا بنے گا یا مُرغی۔ چوزوں کی جنس کا تعین کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس ’ فن ‘ میں طاق ہونے کے لیے کم از کم تین برس کی تربیت درکار ہوتی ہے تب کہیں جاکر چِک سیکسر نر اور مادہ چوزوں کے درمیان انتہائی مبہم فرق کو جانچنے کے قابل ہوتا ہے۔

http://express.pk/wp-content/uploads/2015/03/120.jpg

برطانیہ کے پولٹری فارموں میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں چوزے ہوتے ہیں۔ برٹش پولٹری کونسل کے چیف ایگزیکٹیو اینڈریو لارج کے مطابق چک سیکسر کو ایک گھنٹے میں اوسطاً 800 سے 1200چوزوں کی جنس کا تعین کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح ایک چوزے کے لیے اسے تین سے پانچ سیکنڈ ملتے ہیں۔ چِک سیکسر کے لیے غلطی کرنے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ چوزوں کی جنس کے تعین کے ضمن میں اس کا اندازہ 98 فی صد درست ہو۔

بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی کے دوران پوری ذہنی یکسوئی کے ساتھ اور بغیر کوئی غلطی کیے کام کرنا آسان نہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چِک سیکسر کا کام کس قدر مشکل ہے۔ علاوہ ازیں اس ملازمت کو تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ چِک سیکسرز کے شناسا ان کا مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ کوئی کام وام تو کرتے نہیں بس پورا دن کھڑے ہوکر چوزے دیکھتے رہتے ہیں۔ کام کی کٹھن نوعیت اور سماجی رویے کی وجہ سے لوگ، پُرکشش تنخواہ کے باوجود چِک سیکسر بننے سے کترارہے ہیں۔

2013ء میں پولٹری انڈسٹری ایک بھی چِک سیکسر ڈھونڈنے میں ناکام رہی۔ برطانیہ میں اس وقت چِک سیکسرز کی تعداد سو سے ڈیڑھ سو کے درمیان ہے جب کہ برآمدی آرڈرز کو پورا کرنے کے لیے فوری طور پر پندرہ چِک سیکسر درکار ہیں۔ اینڈریو لارج کے مطابق اگر جلد ہی یہ کمی پوری نہ ہوئی تو برآمدی آرڈرز کی تکمیل مشکل ہوجائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔