عربوں کے انوکھے ساتھی لارنس آف عربیا کی ’’خلافت‘‘

سید عاصم محمود  اتوار 15 مارچ 2015
عالمی قوتوں کے مُکروفریب کی حیرت انگیز داستان جنھوں نے مشرق وسطی کو ٹکروں میں تقسیم کر ڈالا فوٹو : فائل

عالمی قوتوں کے مُکروفریب کی حیرت انگیز داستان جنھوں نے مشرق وسطی کو ٹکروں میں تقسیم کر ڈالا فوٹو : فائل

آج سے ٹھیک سو برس پہلے کا واقعہ ہے جب ایک انگریز ماہر آثار قدیمہ نے مشرق وسطیٰ میں عرب خلافت کے قیام کا سنہرا سپنا دیکھا۔ یہ ایک عجوبہ خیز بات تھی مگر وہ انگریز اپنے اس انوکھے خواب کو عملی تعبیر دینے نکل کھڑا ہوا۔ اس انگریز کا نام ٹی ای لارنس تھا جو دنیا بھر میں لارنس آف عربیا کے عرف سے زیادہ جانا گیا۔

لیکن ٹی ای لارنس کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا کیونکہ اس کی اپنی برطانوی حکومت نے فرانسیسیوں اور روسیوں کے ساتھ مل کر عرب علاقے ہتھیانے کا خفیہ پروگرام بنالیا۔ یوں مشرق وسطیٰ میں مصر سے لے کر ایران تک پھیلی وہ عرب خلافت معرض وجود میں نہ آسکی جس کا خاکہ کرنل لارنس نے تخلیق کیا ۔

حیرت انگیز بات یہ کہ تقریباً ایک سو برس بعد عربوں کا ایک گروہ عراق وشام میں اپنی خلافت قائم کرنے کا دعوی کر چکا۔گو مسلمانوں کی اکثریت اس خودساختہ خلافت کو تسلیم نہیں کرتی۔تاریخ عیاں کرتی ہے کہ سو برس قبل یورپی استعمار نے عثمانی ترک خلافت مٹانے کی خاطرعرب خلافت کی بنیاد رکھنے کا فیصلہ کیا۔

یورپی استعمار نے پھر جو تہ در تہ سازشیں کیں،ان کی داستان بہت عبرت اثر ہے۔ وہ عیاں کرتی ہے کہ جب بھی مسلمان اتحاد و یگانگت چھوڑ کر تقسیم ہوئے ذلت و زوال کے گڑھوں میں جاگرے۔

یہ داستان بتاتی ہے کہ شروع میں یورپی استعمار نے عثمانی ترک خلافت ختم کرنے کے لیے عربوں کو سہانے سپنے دکھائے۔ لیکن جوں جوں کامیابی نزدیک آئی،اس نے مشرق وسطیٰ پہ قبضہ کرنے کا تہیہ کر لیا…وہ یوں کہ نئی عرب ریاستیں تشکیل دے کر وہاں کٹھ پتلی حکمران بٹھا دئیے جائیں۔
٭٭
1888ء میں برطانوی علاقے ‘ ویلز میں پیدا ہونے والا ناجائز بچہ‘ تھامس ایڈورڈ لارنس بہ لحاظ پیشہ ماہر آثار قدیمہ تھا۔چھوٹا ہی تھاکہ تاریخی عمارات دیکھنے ذوق و شوق سے جانے لگا۔ 1909ء میں اکیس سالہ لارنس تن تنہا شام پہنچا اور وہاں آثار قدیمہ کا مطالعہ کرتا رہا۔ تاریخ میں گریجویشن کرنے کے بعد وہ 1910ء تا 1914ء لبنان‘ شام‘ مصر اور عراق میں آثار قدیمہ پر مصروفِ تحقیق رہا۔ اس دوران لارنس نے عربی زبان سیکھی نیز عرب قبائل کی روایات‘ معاشرت اور تاریخ سے آشنا ہوا۔

جنوری 1914ء میں لارنس عارضی طور پر برطانوی فوج کا جاسوس بن گیا۔ فوج نے اس سے موجودہ اسرائیل میں واقع صحرائے النقب (Negev) کا سروے کرایا۔ عثمانی ترک فوج اسے پار کر کے مصر پر حملہ آور ہو سکتی تھی جہاں انگریزوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔اس زمانے میں مصر کو چھوڑ کر بیشتر مشرق وسطی (شام‘ عراق‘ اردن‘ سعودی عرب‘لبنان اور اسرائیل) عثمانی ترکی خلافت میں شامل تھا۔

جولائی 1914ء میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی۔ اس میں جرمنی اور عثمانی ترکی اتحادی تھے جن کا برطانیہ و فرانس سے مقابلہ ہوا۔ برطانوی اور فرانسیسی اتنے طاقتور نہیں تھے کہ وہ مشرق وسطی میں لشکر کشی کر دیتے۔ لیکن انگریزجانتے تھے، مشرق وسطی میں بیٹھے ترک بحر ہند میں برطانوی تجارت کی ناکہ بندی کر کے برٹش ایمپائر کو معاشی طور پر تباہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے مشرق وسطی میں ترکوں کے خلاف جنگ چھیڑنا اشد ضروری ہو گیا… مگر کس طرح؟

اس مسئلے کا حل مشرق وسطی میں موجود ’’عربسٹوں‘‘ نے نکالا۔ یہ اصطلاح ان عیسائی دانش وروں اور ادبا کے لیے استعمال ہوتی ہے جنہوں نے مغربی استعمار کی آشیر باد سے مشرق وسطی میں انیسویں صدی کے دوران عرب قوم پرستی کی بنیاد رکھی ۔اس تحریک کے ذریعے مختلف ہتھکنڈوں سے عربوں کو ترکوں کے خلاف ابھارا گیا۔ مگر یہ حقیقت ہے ،عثمانی ترک حکومت کی ناانصافیوں نے بھی عرب قوم پرستی کو پنپنے میں مدد دی۔

بیسویں صدی کے آغاز تک یہ تحریک جڑ پکڑ چکی تھی۔ چنانچہ برطانیہ اور فرانس نے طے کیا کہ عرب قبائل کو عثمانی ترکی کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیاجائے۔ لیکن پھر یہ سوال پیدا ہوا کہ وہ کس طرح؟ لارنس آف عربیا ہی نے اس کٹھن سوال کا جواب دیا۔ٹی ای لارنس چار برس مشرق وسطی میں گذارنے کی وجہ سے عرب قبائل کی اقدار و روایات کے بارے میں خاصی معلومات رکھتا تھا۔

اسی خصوصیت کے باعث جنوری 1915ء میں ا سے بہ حیثیت جاسوس فارن آفس میں بھرتی کر لیا گیا۔تب برطانیہ کا یہی سرکاری ادارہ دنیا بھر میں برطانوی سلطنت کے مفادات کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ اس کی پہلی تعیناتی فارن آفس کی قاہرہ شاخ میں ہوئی۔

یہ قاہرہ شاخ ہی ہے جہاں 1915ء میں لارنس اور دیگر برطانوی مدبریہ نظریہ سامنے لائے کہ کسی عرب سردار کو خلافت بنانے کا لالچ دیا جائے… ایسی عرب خلافت جو تقریباً پورے مشرق وسطی پہ محیط ہو۔ یوں وہ شان و شوکت اور طاقت میں عباسی خلافت کی ہمسر بن جاتی جو اپنے وقت میں دنیا کی سپر پاور تھی۔

درج بالا نظریے کے سلسلے میں ٹی ای لارنس ہی نے ایک مبسوط مقالہ لکھا اور اس میں عرب قبائل کی تاریخ‘ قبائلی اختلافات‘ تہذیب و معاشرت اور اطوار تفصیل سے بیان کیے۔ مقالے میں لارنس نے لکھا’’مشرق وسطی کے سنی عرب قبائل کو متحد کر کے وہاں ایسی خلافت کا قیام ممکن ہے جو طاقت و حشمت میں عباسی خلافت کے ہم پلّہ بن جائے۔‘‘

برطانوی حکومت نے فوراً اس عرب خلافت کے قیام کی تجویز منظور کر لی۔ چناں چہ اب مشرق وسطی میں ایسے طاقتور عرب سردار کی تلاش شروع ہوئی جو بغاوت کا سرغنہ بن سکے۔ انگریزوں کی نظریں شریف مکہ،حسین بن علی پر جا کر ٹھہر گئیں۔

حسین بن علی خادمِ حرمین شریفین کی حیثیت سے عرب قبائل میں شہرت رکھتا تھا۔ مزید براں پہلے ہی اس کے دل میں شاہ حجاز بننے کی تمنا سمائی ہوئی تھی۔ اس کی جاہ طلب خواہشات سے انگریزوں نے فائدہ اٹھایا اور پُرکشش ترغیبات دے کر اسے عثمانی ترکی کے خلاف بغاوت کرنے پر آمادہ کر لیا۔ یہ جولائی 1916ء کی بات ہے۔

اکتوبر 1916ء میں ٹی ایس لارنس کو حجاز بھجوایا گیا تاکہ وہ حسین بن علی کی فوج کے ساتھ مل کر عثمانی ترکوں کی چوکیوں پہ حملے شروع کر سکے۔ تب تک وہ کیپٹن بن چکا تھا۔ عرب بغاوت میں کرنل لارنس کا اہم کردار یہ ہے کہ اس نے حسین بن علی اور اس کے بیٹے، شہزادہ فیصل کو قائل کر لیا کہ وہ برطانوی جنگی حکمت عملی کے مطابق عمل کریں۔

اس حکمت عملی پہ چلتے ہوئے باغی عرب قبائل چھاپہ مار کارروائیاں کرنے لگے اور ترکوں سے براہ راست مقابلہ نہیں کیا گیا۔ جلد ہی حجاز اور نجد کے کئی قبائل شریف مکہ سے آن ملے۔ انہوں نے حجاز ریلوے کو سخت نقصان پہنچایا جس سے ترک فوج کو سپلائی ملتی تھی۔ سپلائی کٹنے سے عرب شہروں میں مورچہ بند ترک فوج محصور ہوگئی۔

برطانیہ نے شریف مکہ کی عرب فوج کو جدید اسلحہ دیا اور مالی امداد بھی دی۔ آنے والے دو برس میں ٹی ایس لارنس کی راہنمائی میں اس عرب فوج نے حجاز و نجد میں کئی اہم قلعے ترکوں سے ہتھیا لیے۔ ان کامیابیوں کی بدولت وہ عرب فوج کے کمانڈر، شہزادہ فیصل کا دست راست اور لیفٹیننٹ کرنل بن گیا۔

دلچسپ بات یہ کہ جب مشرق وسطیٰ میں کرنل لارنس عربوں کے ساتھ مل کر ترکوں سے نبرد آزما تھا، تو برطانیہ، فرانس اور روس کی حکومتیں جنگ عظیم میں کامیابی یقینی دیکھ کر مشرق وسطیٰ کے حصّے بخرے کرنے کا معاہدہ تیار کرنے لگیں۔ نومبر 1915ء سے معاہدے پر بات چیت شروع ہوئی اور وہ مئی 1916ء میں پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔

تاریخ میں یہ معاہدہ ’’سائیکس پیکوٹ معاہدہ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔اس معاہدے کی رو سے موجودہ عراق، کویت، اردن اور اسرائیل کے علاقے انگریزوں کے حصے میں آئے۔ لبنان، شام اور شمال مشرقی ترکی فرانسیسیوں کوملے جبکہ استنبول سمیت بقیہ سارا ترکی روسیوں کومل گیا۔

مغربی مورخین کا دعوی ہے کہ کرنل لارنس سائیکس پیکوٹ معاہدے سے بے خبر تھا۔ جب اواخر 1918ء میں مشرق وسطیٰ میں ترک فوج کو شکست ہوئی تو پھراسے معاہدے کا علم ہوا۔ اس کی بابت جان کر قدرتاً حسین بن علی کے علاوہ کرنل لارنس کو بہت صدمہ پہنچا۔

برطانوی حکمران اب ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ مشرق وسطیٰ میں طاقتور عرب خلافت کا قیام عمل میں آئے۔یوں عرب طاقت پاکر علاقے میں برطانوی تجارتی و معاشی مفادات کے لیے خطرہ بن جاتے۔ مغربی طاقتیں مشرق وسطیٰ میں چھوٹی عرب ریاستیں قائم کرنا چاہتی تھیں تاکہ عرب طاقت تقسیم ہوکر کمزور ہوجائے۔

مزید برآں برطانوی حکومت کا ایک بااثر رکن، وزیر خزانہ ڈیوڈ لائڈ جارج جو بعدازاں وزیراعظم بھی بنا، انتہا پسند عیسائی تھا۔ ان عیسائیوں کو آج کل عیسائی صیہونی (Christian Zionists) کہا جاتا ہے۔ یہ عیسائی سمجھتے ہیں کہ یہود ہی فلسطین کے اصل مالک ہیں ۔اور یہ کہ مسجد اقصیٰ کی شہادت کے بعد جب ہیکل سلیمانی تعمیر ہوگا، تب ہی حضرت عیسیٰؑ زمین پہ نزول کریں گے۔

دسمبر 1916ء میں یہی ڈیوڈ لائیڈ جارج برطانوی وزیراعظم بن بیٹھا۔ اس نے پھر صیہونی رہنماؤں سے وعدہ کیا کہ فلسطین میں انہیں ایک علیحدہ وطن (اسرائیل) دیا جائے گا۔ نومبر 1917ء میں ہونے والا ’’اعلان بالفور‘‘ اسی وعدے کی عملی شکل ثابت ہوا۔

پہلی جنگ عظیم میں حسب توقع عثمانی ترکوں کو شکست ہوئی اور ان کی خلافت سمٹ کر ترکی تک محدود ہوگئی۔ اگر مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں ترک فوج انگریزوں اور یونانیوں کو مار نہ بھگاتی، تو آج کا ترکی شاید کہیں چھوٹا اور کٹا پھٹا ہوتا۔اُدھر یورپیوں سے دھوکا کھا کر حسین بن علی سخت غصّے میں تھا۔ برطانوی حکومت نے اپنے حقیقی منصوبے پہ عمل درآمد کرتے ہوئے اس کے بڑے بیٹے، عبداللہ کو اردن جبکہ دوسرے فرزند فیصل کو عراق کا بادشاہ بنا دیا۔لیکن بظاہر اس اقدام سے یہ دکھایا گیا کہ برطانیہ نے عربوں سے کیے گئے اپنے وعدے کا پاس رکھا۔اسے کہتے ہیں مکارانہ سیاست!

ترکوں کے خلاف بغاوت کرنے والے شریف مکہ کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ وہ 1925ء تک ہی شاہ حجاز رہ سکا کہ ابن سعود نے اس کی حکمرانی کا خاتمہ کردیا۔برطانوی اب ابن سعود کی حمایت کر رہے تھے۔

اُدھر عراق میں 1958ء میں فوج نے شہزادے فیصل کی اولاد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اب صرف اردن میں حسین بن علی کے وارث بادشاہ بنے بیٹھے ہیں۔پچھلے ایک سو برس میں یہ بنیادی تبدیلی بھی آئی کہ اب مشرق وسطی میں جاری گریٹ گیم میں سلطنت ِانگلشیہ کی جگہ ریاست ہائے متحدہ امریکا لے چکا ہے۔

ٹی ای لارنس…ایک معّمہ
سوا پانچ فٹ کا پست قامت کرنل ٹی ای لارنس پُراسرار شخصیت کا مالک تھا۔ مغربی مورخین کا دعویٰ ہے کہ وہ عربوں کا حامی تھا۔ اسی کی سعی سے عرب ’’آزاد‘‘ ہوئے۔اس نظریے کو اصل تقویت لارنس کی آپ بیتی ’’Seven Pillars of Wisdom‘‘ سے ملی۔بتایا جاتا ہے ، اکتوبر 1918ء میں برطانوی شاہ جارج پنجم خدمات کے باعث کرنل لارنس کو ’’سر‘‘ کا خطاب دینا چاہا۔ مگر عربوں سے دھوکے بازی کرنے پر لارنس اپنی حکومت سے خوش نہیں تھا۔ اس نے سر کا خطاب لینے سے انکار کردیا۔ یہ واقعہ دلیل ہے کہ وہ دل سے عربوں کا خیر خواہ تھا۔

لیکن اسی کرنل لارنس نے دسمبر 1918ء میں صیہونی رہنما، ڈاکٹر حائیم ویزمان (پہلے اسرائیلی صدر) اور شہزادہ فیصل کی لندن میں ملاقات کرائی۔مدعا یہ تھا کہ مستقبل کے فلسطین میں صیہونیوں کے حقوق کو تحفظ دیا جاسکے۔

ڈاکٹر ویزمان نے شہزادے کو یقین دلایا ، فلسطین میں یہودی امن و امان سے رہیں گے ۔اور یہ کہ فلسطین میں مقیم ہونے والے چالیس پچاس لاکھ یہودی فلسطین عربوں سے کوئی تعرض نہیں کریں گے۔ اس پر شہزادہ فیصل نے صہیونی رہنما کو اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔

یاد رہے، اس وقت شہزادہ یہی سمجھے بیٹھا تھا کہ فلسطین کرنل لارنس کی تجویز کردہ ’’عرب خلافت‘‘ میں شامل ہوگا۔درج بالا واقعہ آشکارا کرتا ہے کہ کرنل لارنس عربوں کا دوست نہیں تھا، بلکہ بہ حیثیت جاسوس وہ اپنے ملک کے مفادات کو ہر ممکن تحفظ دیتا رہا۔نیز اس نے اپنی آپ بیتی میں خود کو تو ہیرو دکھایا،جبکہ عرب پس ماندہ،جھگڑالو اور اجڈ دکھائے گئے۔یہ امر لارنس کا تعصب عیاں کرتا ہے۔

کرنل لارنس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس نے کبھی رسمی جنگی تربیت نہیں پائی۔ تاہم اس نے کئی معرکوں میں عرب گوریلوں کی راہنمائی کی ۔موٹر سائیکل تیز چلانے کا شوقین تھا۔ یہی شوق مئی 1935ء میں اس کی جان لینے کا سبب بن گیا۔ وہ 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بائک بھگا رہا تھا کہ دو بچوں کو بچاتے بچاتے گرا اور شدید زخمی ہوکر چھ دن بعد چل بسا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔