شاعرہ ادا جعفری انتقال کرگئیں

اسٹاف رپورٹر  جمعـء 13 مارچ 2015
اداجعفری کی شاعری اور خودنوشت پر مبنی 6کتابیں منظرعام پرآئیں فوٹو: فائل

اداجعفری کی شاعری اور خودنوشت پر مبنی 6کتابیں منظرعام پرآئیں فوٹو: فائل

کراچی: ممتاز شاعرہ ادا جعفری انتقال کرگئیں۔ اداجعفری کو اردو کی پہلی بڑی خاتون شاعرہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے انھیں اردو شاعری کی پہلی خاتون کا خطاب ملا۔

ادا جعفری 22اگست 1924کو بھارتی شہر بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ ان کا خاندانی نام عزیزجہاں تھا۔ آغازمیں ادا بدایونی کے نام سے شعر کہے۔ 1947میں نورالحسن جعفری سے شادی کے بعد اپنا نام  ادا جعفری لکھنے لگیں۔ اداجعفری کی شاعری اور خودنوشت پر مبنی 6کتابیں منظرعام پرآئیں جن میں ’میں سازڈھونڈتی رہی، شہردر شہر، غزالاں تم توواقف ہو، سازسخن بہانہ ہے، موسم موسم (کلیات) اور خودنوشت جورہی سوبے خبری رہی‘ شامل ہیں۔

اداجعفری مصنفہ بھی تھیں اورمعاصر اردوادب میں انھیں نمایاں مقام حاصل تھا۔ حکومت پاکستان نے انھیں تمغہ امتیازعطاکیا۔  آدم جی ایوارڈ کے علاوہ انھیں پاکستان رائٹرز گلڈنے بھی ایوارڈ سے نوازاجبکہ نارتھ امریکا اوریورپ کی ادبی تنظیموں نے بھی ان کی شاندار خدمات پر اعزازات دیے۔ ان کے شعری مجموعوں میں شہردرشہر، سازسخن بہانا ہے اور موسم موسم شامل ہیں۔

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی ، برسرالزام ہی آئے



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔