پرستار ہوں تو ایسے، افغان بروس لی اور چیچنیا کے آرنلڈ شوازینگر سے ملیے!

ناصر ذوالفقار  اتوار 15 مارچ 2015
پرستار اپنی محبوب شخصیت سے والہانہ عقیدت عقیدت کے ساتھ انکے ہر انداز طرز عمل کی نقالی کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔فوٹو : فائل

پرستار اپنی محبوب شخصیت سے والہانہ عقیدت عقیدت کے ساتھ انکے ہر انداز طرز عمل کی نقالی کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔فوٹو : فائل

کہتے ہیں کہ شوق کا کوئی مول نہیں اور جنون کی انتہا نہیں! اسی شوق اورجنون میں دنیا میں غیر معمولی لوگوں نے اپنے اپنے شعبوں میں بڑے بڑے کام کیے اور خوب نام کمایا۔

ان میں نمایاں طور پر کھلاڑی اور گلیمر کی چکاچوند کردینے والی شوبزنس کی دنیا سے تعلق رکھنے والے گلوکار اوراداکار جب شہرت کی بلندیوں کو چھولیتے ہیں تو ان کے پرستاروں کا ایک وسیع حلقہ پیدا ہوجاتا ہے۔

ان کے پرستار اپنی محبوب شخصیت سے والہانہ عقیدت عقیدت کے ساتھ انکے ہر انداز طرز عمل کی نقالی کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

ان میں بعض تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہ اپنے آئیڈیل سے اس حد تک پیا ر کرتے ہیں کہ ان جیسا بن جانے کے جنون میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ان پر مرمٹنے کو بھی تیار رہتے ہیں۔ یہاں ہم ایسے آج کے دور کے دو غیرمعمولی پرستاروں کا ذکر کررہے ہیں جن کا تعلق کھیلوں کی دنیا سے ہے اور وہ اپنے عظیم لیجنڈز کے نقش قدم پر اس طرح چلے ہیں کہ انھیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ ان میں اپنے محبوب آئیڈیل کی روح سما گئی ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مشن میں کتنے کام یاب جارہے ہیں۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ جب آپ کسی بڑے انسان کی دل سے قدر کرتے ہوں اس کی زندگی سے متاثر ہوں تو پھر اس جیسا بن کر دکھائیں۔ یہ دونوں منفرد فینز مسلمان ہیں، جو عظیم انسانوں مارشل آرٹ کے جادوگر بروس لی اور باڈی بلڈنگ کی دنیا کے لیجنڈ اور اداکار آرنلڈ شوازنگر کے نقش قدم پر گام زن ہیں۔ یہ پرستار ہیں افغانستان کے عباس علی زادہ (افغان بروس لی) اور چیچنیا سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور اور ابھرتے ہوئے باڈی بلڈر محمد ابراہیموف۔

٭ عباس علی زادہ
ابھی کچھ ہفتوں پہلے کی بات ہے جب وہ ایک عام سا افغان نوجوان تھا، جس کے وسائل نہایت محدود تھے، مگر اس کے خواب بہت بڑے اور سب سے الگ تھے، لیکن مارشل آرٹ لیجنڈ بروس لی کی تصویر کے ساتھ اپنی تصویر فیس پر شیئر کرکے کابل کا یہ ’’کنگ فو‘‘ کا مداح سماجی ویب سائٹوں پر بے حد مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔

پہلی نظر میں آپ شاید دھوکا کھاجائیں۔ بروس لی سے اس کی اس قدر مشابہت ہے کہ نہ صرف اپنی شکل صورت بل کہ جسمانی ساخت سے بھی بروس لی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ اس نے اپنے جسم کو اس طرح بنایا ہوا ہے جس سے اس پر بروس لی کا گمان ہوتا ہے۔

یہ افغانستان کے 21 سالہ نوجوان عباس علی زادہ ہیں، جو کہ سوشل میڈیا میں زبردست پذیرائی کے ساتھ دنیا بھر کے اخبارات میں بروس لی کے حوالے سے ایک افغان ہیر و بن کر ابھرے ہیں، جن کی صلاحیتوں کو پریس میں جگہ دی جارہی ہے اور وہ گفتگو کا موضوع بن چکے ہیں۔ ’’بروس ہزارہ‘‘ کے نام سے وہ فیس بک پر اپنے مداحوں کا ایک حلقہ بناچکے ہیں جن کے لیے روزانہ سیکڑوں دوستی کے پیغامات موصول ہورہے ہیں۔ جیکی چن اور جیٹ لی جیسے بین الاقوامی شہرت کے حامل مارشل آرٹسٹوں کے لیے بھی افغان بروس لی کی دریافت ایک سرپرائز سے کم نہیں۔

بروس لی کی کہانی ہر اس لڑاکا انسان کی زندگی کی کہانی ہے جس میں کھیل، فن اور طاقت کا خوب صورت ملاپ موجود ہے۔ خاص طور پر فزیکل آرٹ کی دنیا میں ایک انسان کی عالم گیر کہانی! یہ ہر لڑنے والے کا خواب بن چکا ہے، جس نے بہادری کے ساتھ کھیل اور فنون کی ایک مثال رقم کی ہے۔

بروس لی کے ہونہار بیٹے کی وفات کے اگلے ہی سال5ستمبر1994 ء کو پیدا ہونے والے عباس علی زادہ عرف ’’افغان بروس لی‘‘ کا پچپن سے ایک ہی خواب تھا ’بروس لی ‘ اور صرف بروس لی! اس کی زندگی کی کہانی بروس لی ہی سے شروع ہوتی ہے۔ اپنے نیم معزور والد کی حوصلہ افزائی کے باعث 14سال کی عمر میں اس نے کھیلوں میں سنجیدگی سے حصہ لینا شروع کیا۔ وہ چینی انداز کی فائیٹنگ کی مشقیں کرتا رہا تھا۔

کنگ فو کے داؤ پیچ کی مشق کے ساتھ ساتھ کھیل کو باقاعدہ سیکھنے کے غرض سے ’’کنگ فو‘‘ سکھانے والے اسپورٹس کلب “catena of Konk Fu Toa”ـ  میں داخلہ لیا اور انتہائی مالی پریشانیوں کے لڑتے ہوئے کابل میں دو سال پریکٹس جاری رکھی پھر اسے یہ کلب چھوڑنا پڑا۔ وہ بروس لی کے مقبول لڑائی کے طریقوں کنگ فو کے علاوہ نن چکو، ,Shkhsytm Pdrmhrbanincوغیرہ سے بہت رغبت رکھتا ہے۔ چینی مارشل آرٹ کی روایتی لڑائی جسے  Wing chun, Wi Tsun/Vingtum کہا جاتا ہے، اسے عرف عام میں Weng Chun Kung Fu” ” کہتے ہیں جس کا چینی مطلب “Eternal Spring” ہے۔

یہ لڑائی اپنے دفاع میں لڑی جاتی ہے، جس میں لچک، متوازی لائن، مکّے، لاتوں اور دوسری تیکنیکوں کا استعمال کیا جاتا ہے او ر اس لڑائی میں چاقوؤں اور ڈنڈوں کو مخالف پر آزمایا جاتا ہے۔ علی زادہ نے ایک سال جمناسٹک کی بھی تربیت لی ہے، اس کے بعد کچھ ماہ سے وہ گھر پر ہی پریکٹس کرتا ہے۔

 

علی زادہ چودہ سال کی عمر سے ہی بروس لی کی فلمیں دیکھتا آیا ہے۔ تب سے وہ ایک لڑاکا بننا چاہتا تھا۔ افغانستان میں بروس لی اور جیکی چن کے طرز کے مارشل آرٹ ہیرو ہمیشہ سے مقبول عام رہے ہیں۔ ان کی فلمیں یہاں کے بازاروں میں بہ آسانی دست یاب ہیں۔ علی زادہ نے کابل میں ہونے والے چینی انداز کی لڑائی کے مقابلے میں اپنے وزن کی کیٹیگری میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ عباس علی زادہ کو نہ صرف ایکشن تصاویر بنوانے کا فن آتا ہے، بل کہ اس نے بروس لی کی فلموں کی کاپی کرتے ہوئے نن چکو اور کنگ فو کے ساتھ فوٹو سیشنز کروائے ہیں جس کا انھوں نے کابل کے اجڑے ہوئے مشہور ’’دارالامان محل ‘‘ کے پس منظر میں شان دار مظاہرہ کیا ہے۔

یہ لوکیشن بالکل کسی کلاسک ہالی وڈ فلمی منظر کا عکس دکھائی دیتی ہے۔ ان کی تصاویر کے بارے میں پہلے اکثریت کا خیال تھا کہ یہ جعلی ہیں اور وہ اس پر کم ہی یقین کرتے تھے، لیکن اب ان کا کہنا ہے میں ہی افغان بروس لی ہوں۔ وہ ایک مشہور مارشل آرٹسٹ یا اداکار بننے کے خواہاں ہیں، مگر ان کے خیال میں کبھی بھی اپنے ہیرو آئیڈیل جیسا مشہور نہیں ہوسکتے۔ انھوں نے یقینی طور پر لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیا ہے کچھ لوگ ان کی تصاویر کو جعلی ہی سمجھتے ہوں گے، لیکن عباس علی زادہ کو اس بات پر فخر ہے کہ انھوں نے ایک لیجنڈ بروس لی کی یاد نئے انداز سے تازہ کردی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بروس لی ایک اچھائی کا ماڈل ہے۔ اگرچہ اس جیسا دوسرا نہیں ہوسکتا ہے، مگر وہ جب تک زندہ ہیں اپنے محبوب کے نقش ِقدم پر گام زن رہیں گے۔ بروس لی کے اس جنونی مداح کے وسائل اب بھی اتنے ہی ہیں جتنے پہلے تھے، لیکن اس کی سوشل میڈیا میں تصاویر کی مقبولیت نے اس کی امیدوں کو اور بھی بڑھادیا ہے، جس میں اس کی مستقل مزاجی اور جفاکشی شامل ہے۔ اس نوجوان نے میٹرک کی تعلیم مکمل کرلی ہے اور اسے مزید تعلیم کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

اس کے والد رضا باوجود اس کے کہ وہ اپنے بیٹے کو کھیلوں کی اعلیٰ تربیت نہ دلاسکے خواہش رکھتے ہیں کہ ان کا بیٹا اپنے وقت کا بروس لی بنے۔ بظاہر افغان بروس لی کا مستقبل روشن دکھائی دے رہا ہے کہ وہ بروس لی کو دوبارہ سنیما کے پردے پر بھی زندہ کرسکتا ہے۔ اسے ابھی مناسب تربیت، سرپرستی اور راہ نمائی کی ضرورت ہے۔ اس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو اسے ایک بہترین ایتھلیٹ اور کام یاب اداکار بنا سکتی ہیں۔

٭ محمد ابراہیموف
محمدابراہیموف باڈی بلڈنگ لیجنڈ اور اداکار آرنلڈ شوازنگر سے بڑی عقیدت و محبت رکھتا ہے۔ اس کا تعلق روس کی جمہوریہ چیچنیا سے ہے۔ یہ خوب صورت نوجوان نیوگروزنی کے علاقے اِیوستریا گراٹس(Avstriya Grats)میں پیدا ہوا تھا، جو کہ دریائے “Sunzhas” پر واقع ہے۔ ابراہیموف اپنے خوابوں میں خود کو آرنلڈ جیسا بنتا دیکھتے آئے ہیں، جن کے وہ مدّاح ہیں۔

پہلی نظر میں ابراہیموف آرنلڈ کے بھائی یا بیٹے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی جسمانی ساخت اور قدکاٹھ ہوبہو آرنلڈ جیسا ہے اور ان کے چہرے کے خدوخال میں بھی آرنلڈ کی جھلک نظر آتی ہے۔ اسی لیے انہیں دیکھ کر نوجوان آرنلڈشوازنگر کا گمان ہوتا ہے۔ آرنلڈ نے باڈی بلڈنگ کیریر میں آرنی بننے تک سخت جدوجہد کی اور اپنے خوابوں کو پانے کے لیے جان توڑ محنت کی۔

15سال کی عمر میں آرنلڈ اَلائس شیوازنیگر ( Arnold Alois Schwarzenegger ) نے باڈی بلڈنگ کی ابتدا کی تھی۔ آسٹرین نژاد امریکی آرنلڈ عرف ’’آرنی‘‘ نے اپنی پہلی آسٹرین فوجی سروس کے دوران 18 سال کی عمر میں ’’مسٹر یورپ جونیئر‘‘ کا ٹائٹل حاصل کرلیا تھا۔ 1968 ء میں 21 سالہ نوجوان آرنی کے خواب کی تکمیل ہوئی جب وہ پہلی بار امریکہ آئے اور پھر نیک نامی و شہرت کے افق پر ستارہ بن کر چمکے اور امیر سے امیر ہوتے گئے۔

ابراہیموف بھی بڑی جاںفشانی سے اپنے کیریر میں کام یابیوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان کی ملاقات اپنے آئیڈیل سے ’’آرنلڈکلاسک اسپورٹس‘‘ میں ہوئی تھی۔ کھیلوں کا یہ منفرد سالانہ ایونٹ امریکی ریاست کولمبس، اوہایو میں ہوتا ہے، جوکہ آرنلڈ کے نام سے اور ان کی سرپرستی میں پچھلے 25 سالوں سے منعقد کیا جارہا ہے اور اب یہ ایک بڑا انٹرنیشنل اسپورٹس فیسٹول بن چکا ہے۔ آرنلڈ بھی اپنے اسپیشل فین سے مل کر بہت خوش ہوئے اور اس کی صلاحیتوں سے بے حد متاثر ہوئے۔

ابراہیموف کی لگن، جستجو اور جنون دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بھی آنے والے دنوں میں عظیم باڈی بلڈر کی طرح شہرت و نیک نامی حاصل کریں گے۔ ابراہیموف آرنلڈ کے انداز کی کاپی کرتے ہوئے بڑی خوشی محسوس کرتے ہیں اور اس پر انہیں فخر ہے۔ آرنلڈ کے فین ہونے کے علاوہ وہ عظیم باکسر محمد علی کے بھی پرستار ہیں اور ان سے محبت کرتے ہیں۔ ابراہیموف محمد روسی زبان کے علاوہ انگلش اور ڈچ زبانوں کی بھی سوجھ بوجھ رکھتے۔ وہ آج کل ماسکو میں رہائش پذیر ہیں۔

دنیا میں بہت کم پرستار ایسے ہیں جوکہ اپنے آئیڈیل کی جستجو میں اپنے خوابوں اور منزل کو پالیتے ہیں۔ انہیں میں عباس علی زادہ اور محمد ابراہیموف بھی شامل ہیں خوش قسمت انسان ہیں جو اپنے عظیم لیجنڈز کے نام سے شناخت بنارہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔