پاکستان و امریکا میں دہشت گردی کیخلاف خفیہ معلومات کے تبادلے میں اضافہ

نمائندہ ایکسپریس  اتوار 15 مارچ 2015
سیکیورٹی اداروں کی دہشت گردعناصرکیخلاف کامیاب کارروائیوں سے شدت پسندگروہ پریشان، باہمی اتحادپرمجبورکردیا،ذرائع فوٹو: فائل

سیکیورٹی اداروں کی دہشت گردعناصرکیخلاف کامیاب کارروائیوں سے شدت پسندگروہ پریشان، باہمی اتحادپرمجبورکردیا،ذرائع فوٹو: فائل

اسلام آباد: پاکستان اورامریکا کے درمیان پچھلے چندماہ میں انٹیلی جنس شیئرنگ کے میدان میں نمایاں بہتری آئی اورماضی کے مقابلے میں دونوں ممالک کے خفیہ ادارے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں زیادہ یکسوئی سے کام کررہے ہیں۔

باخبرذرائع کے مطابق مئی2011 میں ایبٹ آبادمیں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی اسپیشل فورسزکے ہاتھوں ہلاکت کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات جہاں سردمہری کاشکارہوئے تھے وہاں اس کا گہرااثردونوں ممالک کے خفیہ اداروں میں تعاون پر بھی پڑاتھاتاہم اب صورت حال ایسی نہیں، پاکستانی ادارے جس طرح شمالی وزیرستان اور ملک کے دیگرحصوں میں دہشت گردوں کی سرکوبی کررہے ہیں امریکی حکام اس کااعتراف کررہے ہیں، پاک افغان سرحد پرسلامتی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے سلسلے میں پاک امریکا خفیہ اداروںکا تعاون پہلے سے بڑھ چکاہے۔

آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کے حالیہ دورہ واشنگٹن میں امریکی حکام نے پاکستانی اداروں کی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کاکھلے دل سے اعتراف کیااورتعریف کی۔ ذرائع نے بتایاکہ پاکستانی خفیہ اداروں اورسیکیورٹی اداروں کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں جاری خفیہ آپریشنزمیں جہاں سیکڑوں دہشت گرد گرفتار ہوئے وہاں کئی اہم شدت پسندوںکوبھی حراست میں لیاگیاہے، ان کامیابیوں سے دہشت گردوں کوبہت نقصان پہنچا ہے۔

ذرائع نے بتایاکہ پاکستانی اورامریکی اداروںکے درمیان بہترانٹیلی جنس تعاون سے افغان سرحدی علاقوں میں پاکستان مخالف شدت پسندوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں میں بھی مدد ملی ہے، کالعدم تحریک طالبان پاکستان، اس سے کچھ عرصے قبل الگ ہوجانے والی جماعت الاحرار اورخیبرایجنسی کے بڑے شدت پسندکمانڈرمنگل باغ میں حالیہ اتحادکے اعلان کوبھی اسی تناظرمیں دیکھاجارہاہے۔ پاکستان میں مصروف عمل شدت پسندگروہ اپنے خلاف کی جانے والی کامیاب کارروائیوں سے پریشان ہیں اوربڑے شدت پسند گروہوں کااتحادکااعلان کرنابھی یہی ظاہر کرتاہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کوباہمی اتحادسے دور کرناچاہتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔