لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر

اسلم خان  پير 16 مارچ 2015
budha.goraya@yahoo.com

[email protected]

ظلم ہو گیا ماما قدیر کو امریکا جانے سے روک دیا گیا، انسانی حقوق پامال کر دیے گئے، ہمارے بعض روشن خیال حضرات شام غم برپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،حالانکہ پاکستان میں اور بھی بڑے غم ہیں لیکن ان پر کسی کی توجہ نہیں۔ ماما قدیر درحقیقت پاکستان کے باغی بلوچ گوریلوں کا سیاسی چہرہ ہے، ان کے بیٹے کی ہلاکت پر مجھے بھی افسوس ہے، لیکن اس حوالے سے بھی سچ بولا جانا چاہیے جس کا سب کو پتہ ہے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا البتہ یہ حقیقت واضح ہے کہ ماما قدیر کی تمام تر جدوجہد ان گوریلوں کے لیے ہے جو وفاق پاکستان کے خلاف ہیں۔

عالمی سطح پر مصروف عمل لاتعداد ادارے اور تنظیمیں ایسی شخصیات کو ہاتھوں ہاتھ لیتی ہیں، ماما قدیر بیرون ملک اس لیے نہیں جا سکے کہ ان کا نام ای سی ایل میں تھا، ایسا کیوں ہوا، اس کا جواب بھی انھیں بیرونی ملک بھجوانے والوں کو لازمی معلوم ہو گا۔ زیادہ بہتر ہوتا کہ انھیں بیرون ملک بھجوانے سے پہلے قانونی معاملات کو طے کر لیا جاتا۔ اگر یہ طے ہو جاتے توماماقدیر بیرون ملک چلے جاتے لہٰذا اس معاملے پر کوئی بات کرنے سے پہلے حقائق کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسا تاثر پیدا کر رہے ہیں جیسے ماما قدیر، ایدھی یا مدرٹریسا جیسی کوئی بزرگ ہستی ہو حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

بلوچستان کے حالات کو حقائق کے تناظر میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ کئی لاپتہ افراد فراری کیمپوں سے پکڑے گئے کئی سیکیورٹی اداروں سے لڑائی کے دوران مارے گئے۔ بڑی تعداد سرحد پار مقیم ہیں اور اس کا بھی بہت سے لوگوں کو علم ہے۔

ماما قدیر سے اس کالم نگار کا سامنا گزشتہ سال اُس وقت ہوا جب وہ اپنے لانگ مارچ کے بعد وفاقی دارالحکومت میں نیشنل پریس کلب میں آئے تھے۔ پریس کلب کے محافظوں نے ان کے ساتھ آنے والے لوگوں کو کلب کے احاطے میں داخل ہو کر ہلڑ بازی سے منع کیا تھا جس پر ماما قدیر اور ان کے ساتھیوں نے نیشنل پریس کلب کے منتخب عہدیداران کو ایجنسیوں کا ایجنٹ ہونے کا ’تمغہ‘ عطا کر دیا۔سچی بات یہ ہے کہ اسلام آباد نیشنل پریس کلب گزشتہ دہائی سے عوامی جدوجہد کے منظر نامے پر روشنی کا مینار بن کر ابھرا ہے، خصوصاً پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف وکلاء تحریک کے دوران پریس کلب کو مرکز ثقل کی حیثیت حاصل رہی تھی جو سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں کے لیے اس شہر جور و جفا میں آخری پناہ گاہ تھا۔ اس عالی شان نیشنل پریس کلب کو ناروا الزامات سے داغدار کرنا کہاں کا انصاف ہے۔

پاکستان کے دشمن ہر جگہ کوئی نہ کوئی سیاسی چہرہ تخلیق کرتے ہیں جس کی نقش گری کے لیے انسانی نفسیات سے کھیلنے والے نجانے کتنے چوٹی کے ماہرین بروئے کار رہے ہوں گے، وہ مصور جن کا موئے قلم نجانے ایسے کتنے شاہکار تخلیق کر چکا ہے۔ نام نہاد سول سوسائٹی کے عالی دماغ بلوچستان کے معاملے پر بڑے جذباتی ہوتے ہیں۔اچھی بات ہے، میں بھی ان کا حامی ہوں۔ میں بھی یہ کہتا ہوں کہ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے بند ہونا چاہیے لیکن سول سوسائٹی والے بلوچستان میں آباد پنجابی محنت کشوں کے قتل عام کو بھلا چکے ہیں جنھیں شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

باغیوں کے لیے نوحہ کناں سول سوسائٹی اور روشن خیال بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور میڈیکل کالج کے پرنسپل کا نام بھی بھول چکے ہوں گے جنھیں وحشیانہ درندگی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ وہ پاکباز روحیں تھیں جنہوں نے جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے بلوچستان میں علم کا نور پھیلانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ کیا کریں ہر کسی کا اپنا اپنا سچ ہے۔

پیارے پاکستان کی بھی کیا عجب المناک کہانی ہے جس کے زخموں سے لہولہان جسم پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں ہے جو باغیوں کے ترجمانوں سے یہ بھی پوچھنے کی ہمت کرے کہ مظلوم محنت کشوں کا جرم کیا تھا جنھیں شناخت کر کے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور اس وحشیانہ واردات کی ذمے داری بھی قبول کی گئی۔

چلتے چلتے یہ بھی گوش گزار کر دوں کہ میں یہ دیکھ کر بڑا حیران ہوا کہ لانگ مارچ کے دوران ماما قدیر تھورایا سیٹیلائٹ فون استعمال کرتے رہے۔ یہ سیٹیلائٹ فون کہاں سے آئے، ان کے بل کون ادا کرتا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں، لیکن یہ میں نے دیکھا ہے۔ اس لانگ مارچ کی فلم بندی کے لیے جدید ترین آلات اور ماہرین ہمہ وقت حاضر و موجود رہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ عالمی میڈیا کی ٹیمیں ہوں لیکن لوگوں کو یہ چیزیں بھی محسوس ہوتی ہیں۔ ’انھوں نے ریاستی‘ خاص طور پر خفیہ اداروں کو مسلسل ہدف تنقید بنائے رکھا لیکن ایک بار بھی کھانے پینے کی اشیائے خور و نوش کی کمیابی یا بھوک کا ذکر تک نہ کیا جو کہ ایسے لانگ مارچ کرنے والوں کا مقدر ہوا کرتی تھی۔

بلوچستان کے حوالے سے بعض حضرات درجنوں مرتبہ دہرائے گئے رٹے رٹائے جملے بولتے رہتے ہیں وہ در پیش معاملات کو سلجھانے کے بجائے اُلجھانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ وہ عالمی برداری سے بلوچستان میں مداخلت کی اپیل کر رہے ہیں۔ نیٹو فوج اور یورپی یونین کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی راہ دکھا رہے ہیں۔ایسا کرنے والوں کو حالات کی نزاکت کا احساس کرنا چاہیے۔ اپنے گھر کے معاملے کو غیروں کے سپرد کرنے سے کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

کیا عجب وقت آن پڑا ہے کہ پاکستان کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہیں، وفاق، ریاست اور اس کے ادارے نشانے پر ہیں اور ہم اپنی غیر جانبدار ی ثابت کرنے کے لیے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

ماں مٹی نے خوں مانگا تھا اور بیٹے
پانی سے تالاب کو بھرتے جاتے ہیں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔