اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود خیبرپختونخوا میں تعلیم کا شعبہ بہترنہ ہوسکا

محمد ہارون  پير 16 مارچ 2015
 جہانگیر ترین نے وزیر تعلیم کوتنبیہہ کی ہے کہ کام میں تیزی اور بہتری لائیں۔ فوٹو: فائل

جہانگیر ترین نے وزیر تعلیم کوتنبیہہ کی ہے کہ کام میں تیزی اور بہتری لائیں۔ فوٹو: فائل

پشاور: برطانوی حکومت کے پاکستان میں ذیلی ادارے ڈیفڈ کی جانب سے خیبر پختونخوا میں تعلیمی اصلاحات کیلیے اربوں روپے کے فنڈز جاری کرنے کے باوجود ’’ورک ڈن پراگریس نل‘‘ کی شکایت پرتحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین نے وڈیو کانفرنس کے ذریعے وزیرتعلیم اور سیکریٹری تعلیم سے وضاحت طلب کرلی ہے۔

تقریباً 45 منٹ تک جاری کانفرنس میں جہانگیر ترین کے ہمراہ ذیلی ادارے کی پاکستان میں سربراہ بھی موجود تھیں،جمعرات 12 مارچ کوکی گئی وڈیوکانفرنس میں جہانگیرترین نے اسلام آباد سے خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم کے صوبائی سیکریٹریٹ کے کمیٹی روم میں وڈیو کے ذریعے وزیرتعلیم محمد عاطف خان اور سیکریٹری سے خیبر پختونخوا میں تعلیمی اصلاحات اور برطانوی ذیلی ادارے کی جانب سے اصلاحات کے فقدان بارے تفصیلی بات چیت کی جس میں سوال کیا گیا کہ فنڈز کی کمی نہ ہونے کے باوجود اصلاحات میں بہتری کیوں نہیں آ رہی ؟ جس پر وزیرتعلیم نے بتایا کہ صرف 6 اضلاع میں اصلاحات کرنے اور اسی تک محدود رہنے کا حکم دیا گیا تھا جب تک فری ہینڈ نہیں ملے گا اس وقت تک کیسے اصلاحات کا عمل بڑھ سکتا ہے یا بہتر ہوسکتا ہے؟ جس پر مرکزی جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین نے وزیر تعلیم کوکہا کہ کام میں تیزی اور بہتری لائیں۔

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔