روسی صدر کی تصویر گاڑی پر لگائیں، چالان اور رشوت ستانی سے بچیں!

غزالہ عامر  منگل 17 مارچ 2015
کئی بار ٹریفک پولیس نے روکا مگر ہر بار صدر پیوٹن کی تصویر دیکھ کر جانے دیا، ڈرائیور۔ فوٹو: فائل

کئی بار ٹریفک پولیس نے روکا مگر ہر بار صدر پیوٹن کی تصویر دیکھ کر جانے دیا، ڈرائیور۔ فوٹو: فائل

پاکستانی پولیس کی رشوت خوری سے کون واقف نہیں لیکن روس کی پولیس بھی رشوت ستانی میں کسی سے کم نہیں ہے۔

رشوت خوری کے معاملے میں روس کی پولیس بھی کسی سے کم نہیں اور اس کی رشوت ستانی کے قصے بھی زبان زد عام ہیں۔ تاہم ایک شہری نے ٹریفک پولیس سے بچنے کے لیے انوکھی ترکیب ڈھونڈ نکالی ہے۔

چند روز سے روسی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کررہی ہے۔ ویڈیو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے یہ کسی کار کے ڈیش بورڈ پر نصب کیمرے کی مدد سے بنائی گئی ہے۔ کیمرے کا رُخ ونڈ اسکرین کی جانب ہے اور سامنے کا ہر منظر واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ٹریفک پولیس کے اہل کار گاڑی کو رُکنے کا اشارہ کرتے ہیں۔ گاڑی دونوں اہل کاروں کے قریب جاکر ساکت ہوجاتی ہے۔ اہل کار قدرے حیرانی سے ڈرائیور اور پھر کار کی چھت کی طرف دیکھتے ہیں۔ دفعتاً ایک کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ جاتی ہے جب کہ دوسرا سیلوٹ کے انداز میں ہاتھ اٹھالیتا ہے۔ پھر وہ کار کو جانے کا اشارہ کردیتے ہیں۔ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ کار کی چھت پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کی تصویرلگی ہوئی تھی!

ایک منٹ طویل ویڈیو کے اختتام پر ڈرائیور نے بتایا کہ وہ ماسکو سے ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع صنعتی شہر تولا جارہا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ہائی وے پر اسے کئی بار ٹریفک پولیس نے روکا مگر ہر بار صدر مملکت کی تصویر دیکھ کر جانے دیا۔ نہ تو انھوں نے کاغذات طلب کیے اور نہ ہی ڈرائیونگ لائسنس دکھانے کا مطالبہ کیا۔

اس ویڈیو پر سوشل میڈیا کے صارفین نے مختلف ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کچھ صارفین نے ارادہ ظاہر کیا کہ چالان اور رشوت ستانی سے بچنے کے لیے وہ بھی یہی ترکیب آزمائیں گے۔ کچھ کا کہنا تھا ٹریفک پولیس کے اہل کاروں کے گاڑی کو سیلوٹ کرنے اور ڈرائیور کو جانے کا اشارہ کرنے کی وجہ کچھ اور ہے، کیوں کہ ویڈیو میں کار کی چھت دکھائی نہیں دے رہی۔ ان تبصروں کے جواب میں کار کے ڈرائیور نے اپنے بیان کے درست ہونے پر اصرار کیا۔ اس نے ناقدین سے استفسار کیا کہ اگر یہ وجہ نہیں تھی تو پھر پولیس کے اہل کار اسے کیوں سیلوٹ کرتے؟ اور بغیرکاغذات کی چیکنگ کے اسے کیوں جانے دیتے؟

بہرحال اس بحث سے قطع نظر، توقع کی جارہی ہے کہ کئی منچلے مذکورہ شخص کی تقلید کرتے ہوئے اپنے صدر کو گاڑی کی چھت پر بٹھا کر سڑکوں پر نکل رہے ہوں گے۔ اب ان کے ساتھ کیا بیتتی ہے، یہ بھی جلد ہی سامنے آجائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔