پولیو مہم کی ملک گیر کامیابی ناگزیر

ایڈیٹوریل  بدھ 18 مارچ 2015
امید کی جانی چاہیے کہ ملک گیر پولیو مہم پر امن اور ہائی الرٹ سیکیورٹی انتظامات میں شیڈول کے تحت مکمل ہوجائے گی۔ فوٹو : فائل

امید کی جانی چاہیے کہ ملک گیر پولیو مہم پر امن اور ہائی الرٹ سیکیورٹی انتظامات میں شیڈول کے تحت مکمل ہوجائے گی۔ فوٹو : فائل

ملک گیر انسداد پولیو مہم شروع ہوگئی ہے۔ پنجاب سمیت سندھ، بلوچستان اور پختونخوا میں موبائل ٹیمیں پولیو کے قطرے پلانے پر مامور ہیں ۔ وزیراعظم کی پولیو پر فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت پولیو کے خاتمہ میں سنجیدہ ہے۔ شیڈول کے مطابق کراچی میں سہ روزہ انسداد پولیو مہم 4 اضلاع میں پیر سے شروع ہے۔

جس میں 11 لاکھ37 ہزار بچوں کو خوراک پلائی جائے گی جس کے لیے رضاکاروں کی ہزاروں ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں۔تاہم دیگر صوبوں سے قطع نظر کراچی میں انتظامیہ نے اپنا پرانا سیکیورٹی نسخہ استعمال کرتے ہوئے 6 روز کے لیے ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی ہے ۔

جس کے باعث دو کروڑ آبادی میں شہریوں کو آنے جانے کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ان کو ڈبل سواری کی وجہ سے بسوں اور کوچز کے کرائے میں بچت سے محروم ہونا پڑیگا۔ ادھر  خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے 12اضلاع میں سخت سیکیورٹی کے تحت بچوں کوقطرے پلائے گئے ۔

ضلع ٹانک میں مقیم آئی ڈی پیزخاندانوں کے بچوں جوشمالی وزیرستان واپس جارہے ہیں پولیوسمیت دیگرامراض سے بچاؤ کے لیے ویکسین فراہمی کی اطلاع بہترین انتظام کے زمرے میں آتی ہے ۔

اسی طرح حافظ آباد میں بھی مہم شروع ہوگئی،اس حوالے سے ڈی ایچ کیواسپتال میں بچوں کو قطرے پلانے کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا، بتایا جاتا ہے کہ سخت سیکیورٹی میں بلوچستان کے29اضلاع میں بھی مہم شروع ہوئی جب کہ کوئٹہ میں سیکیورٹی کی عدم دستیابی کے باعث مہم چندروزکے لیے موخرکردی گئی تاہم خبردار رہنا چاہیے کہ کوئٹہ میں پولیوکا نیا کیس سامنے آگیا ہے ، پنجاب ، بلوچستان ، سندھ اور خیبر پختونخوا میں پولیو مہم کے مخالفین پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے ۔

ادھر کوئٹہ کے نواحی علاقے پشتون آبادکے 3 ماہ کے عبدالرحمان میں پولیوکی تصدیق ہوئی ہے، مذکورہ کیس سامنے آنے کے بعد2015 میںبلوچستان میںپولیوکے رپورٹ ہونیوالے کیسزکی تعداد تین ہوگئی۔ امید کی جانی چاہیے کہ ملک گیر پولیو مہم پر امن اور ہائی الرٹ سیکیورٹی انتظامات میں شیڈول کے تحت مکمل ہوجائے گی ۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔