دہشت گردی کیخلاف آپریشن فیصلہ کن مرحلے میں داخل

ارشاد انصاری  بدھ 18 مارچ 2015
شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، ان کی تربیت گاہیں ان کے اسلحہ خانے تباہ کئے جا چکے۔ فوٹو: فائل

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، ان کی تربیت گاہیں ان کے اسلحہ خانے تباہ کئے جا چکے۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: جنوبی ایشاء خصوصاً ملک میں امن و استحکام کیلئے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور پندرہ جون کو شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، ان کی تربیت گاہیں ان کے اسلحہ خانے تباہ کئے جا چکے جبکہ شمالی وزیرستان کا زیادہ تر علاقہ کلیئر کروایا جا چکا ہے اورمتاثرین کی واپسی کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے جو اس بات کا مظہر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ تکمیلی مراحل میں ہیں اور وزیراعظم نوازشریف کی حکومت اس جنگ کو جیتنے کیلئے پْرعزم ہیں حکومت اور فوج ایک ہی صفحے پر ہیں اور اسی عزم کی یقین دہانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز پھرکرائی جس میں انہوں نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں پیغام دیا ہے کہ دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے کی تباہی اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اس جنگ کو جاری رکھا جائیگا۔

یہ بھی اسی عزم اور حکومت و فوج کے ایک صفحہ پر ہونے کا نتیجہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں مفاہمت کے نتیجے میں افغانستان کی سرزمین بھی ان پر تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مرکزی کردار اب شائد یہ جنگ اس خطے سے مشرق وسطٰی میں مُنتقل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ عالمی کھلاڑی ان دہشت گردوں کو مشرق وسطٰی میں کھیلے جانیوالے اس گھناؤنے کھیل میں بطور ایندھن استعمال کرنے کے خواہاں ہیں۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت انسدادِ دہشت گردی کے لئے جدید تربیت اور جدید ہتھیاروں سے لیس خصوصی فورس کی تیاری کا عمل بھی جاری ہے جس کیلئے حال ہی میں لاہور میں اس کی پہلی پاسنگ آوٹ پریڈ بھی ہو چکی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ عوام کی ذہنی تربیت اور سکیورٹی کے حوالے سے سرکاری ادارے کسی کوتاہی کے مرتکب ہوں تو اس کی نشاندہی بھی ضروری ہے یہی نہیں بلکہ کوتاہی کے ذمہ داروں کا محاسبہ بھی لازمی ہے۔

دوسری اہم پیشرفت یہ ہوئی ہے کہ ملک بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائی کا آغاز کردیا گیا ہے اور کراچی میں رینجرز کی جانب سے کئے جانے والے آپریشن میں بھی بغیر کسی تفریق کے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اعتراضات بھی اٹھائے گئے ہیں اور اسے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن قرار دے کر معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر سوشل میڈیا پر جو ویڈیوز اپ لوڈ ہو رہی ہیں وہ انتہائی خطرناک ہیں جس میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی وارداتیں اور ماتمی جلوسوں پر کاروائیاں کرنے کے اعتراف سامنے آرہے ہیں جس سے ایم کیو ایم کے خلاف ملک بھر میں بہت غلط تصور ابھر رہا ہے اور یہ سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں کہ ایم کیو ایم پر پابندی کیوں نہیں لگائی جا رہی۔

اس تاثر کو دور کرنے کی ضرورت ہے، ایم کیو ایم کو بھی اس میں کردار ادا کرنا چاہئے، اپنی صفوں میں شامل مجرموں سے لاتعلقی کرکے قومی سیاسی دھارے میں فعال کردار ادا کرے بعض سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس تاثر کو ختم نہ کیا گیا تو اس سے ایم کیو ایم کو شدید نقصان پہنچے گا اور شائد تحریک انصاف کو کراچی میں تقویت ملے گی۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ملک بھر میں بغیر کسی تفریق کے مجرموں کے خلاف کاروائیوں کے آغاز سے ان لوگوں کے منہ بند ہوگئے ہیں جو قومی ایکشن پلان کے تحت مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف کاروائیوں اور مجرموں کو پھانسیاں دینے پر تحفظات کا اظہار کر رہے تھے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کراچی کے بعد ملک بھر میں مدارس و امام بارگاہوں سے صفائی کا عمل شروع ہونے کا امکان ہے اور بغیر کسی مذہبی فرقہ کی تفریق کے تمام مسالک کے مدارس ، مساجد وامام بارگاہوں کی آڑ لینے والے انتہا پسندوں و دہشت گردوں یا دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی۔ البتہ جہاں تک کراچی آپریشن کا تعلق ہے تو ملک کی عسکری و سیاسی قیادت نے پھر واضح کیا ہے کہ یہ کاروائیاں کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کیلئے یہ سب کچھ ہو رہا ہے بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے جس کیلئے وزیرداخلہ چوہدری نثار نے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں اور پھر منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کا تعلق خواہ ن لیگ سے ہو یا کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو اسے بطور مجرم تصور کرتے ہوئے کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے اور آئندہ بھی کی جائے گی۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ کراچی آپریشن تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت و اتفاق رائے اور ایم کیو ایم کے مطالبہ پر شروع کیا گیا، ڈیڑھ سال میں وزارت داخلہ نے اہم اہداف حاصل کئے۔ وزیرداخلہ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اور پھر قومی اسمبلی کے اجلاس میں بہت ٹھوس اور مدلل موقف اپنایا ہے یہی وجہ ہے کہ کسی بھی طرف سے ان کے موقف کو جھُٹلایا نہیں گیا اور حکومت کی جانب سے سول آرمڈ فورسز کو اہم شخصیات کی سکیورٹی پر مامور نہ کرنے کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے جس پر عملدرآمد کا آغاز بھی وزیر داخلہ نے اپنے آپ سے شروع کیا اور اپنی سکیورٹی کے لئے فراہم کردہ 22 رینجرز اہلکار بھی یہ کہہ کر واپس کر دیئے کہ سول آرمڈ فورسز کا کام شخصیات کا نہیں ملک کا تحفظ کرنا ہے، سول آرمڈ فورسز صدر، وزیراعظم اور چیف جسٹس کے علاوہ کسی کو سکیورٹی نہیں دیں گی ۔

جیسے جیسے امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے تو معیشت میں بھی بہتری آرہی ہے کل تک ملکی معیشت کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کرنے والے عالمی ادارے و ممالک آج پاکستانی معیشت کی بہتری کی رپورٹس جاری کر رہے ہیں ، اس کا اعتراف نہ صرف آئی ایم ایف نے کیا ہے بلکہ عالمی بینک نے بھی اپنی جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں معاشی ترقی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔گذشتہ ہفتے اسلام آباد انٹرنیشنل ائر پورٹ پر منی لانڈرنگ کے الزام میں ملک کی معروف ماڈل ایان علی کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ۔ اگرچہ اب معاملہ ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے ٹیک اپ کرلیا ہے لیکن کسٹمز کی جس ٹیم نے یہ کیس پکڑا ہے وہ اس بااثر ماڈل کو ہاتھ ڈال کر خود بھی پریشانی سے دوچار ہوگئی ہے۔

ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ ماڈل کو پکڑنے والی کسٹمز ٹیم کو بھی انکوائری کا سامنا ہے اب دیکھنا ہے کہ ملزم کے خلاف کوئی کاروائی ہوتی ہے یا ملزم پکڑنے والے نشانہ بنتے ہیں۔ تاہم ڈی جی انیٹلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی ٹیم ماڈل سے تحقیقات کیلئے اڈیالہ جیل جائے گی جہاں وہ منی لانڈرنگ کے الزام میں گزشتہ ہفتے سے بند معروف ماڈل گرل ایان علی سے پانچ کروڑ روپے سے زائد مالیتی زر مبادلہ برآمد ہونے اس پر ادا شدہ ٹیکس کی پوچھ گچھ کرے گی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈائریکٹریٹ انٹیلی جنس سے ڈپٹی ڈائریکٹر عامر الیاس مقرر کیا گیا ہے جبکہ ٹیم میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر راشد غازی اور انسپکٹر محمد رحیم خان بھی شامل کئے گئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔