ڈالراسمگلنگ کیس ماڈل ایان کے موبائلز بلاک ہونے سے معاملہ مشکوک

صالح مغل / قیصر شیرازی  بدھ 18 مارچ 2015
موبائل بلاک ہونیکی وجہ سے فونوں کا ڈیٹا حاصل کرنے میں شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرھا ہے، کسٹمز حکام۔ فوٹو: فائل

موبائل بلاک ہونیکی وجہ سے فونوں کا ڈیٹا حاصل کرنے میں شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرھا ہے، کسٹمز حکام۔ فوٹو: فائل

راولپنڈی: غیر ملکی کرنسی سمگل کیے جانے کی کوشش کے دوران گرفتار ہونے والی معروف ماڈل ایان علی کے حوالے سے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کردیا گیا، گرفتاری کے فوری بعد موبائل فونز کو پراسرار طور پر بلاک کرانے اورملزمہ کے ابتدائی بیانات میں تضاد سامنے آنے پرمعاملہ مشکوک ہوگیا۔

ذرائع سے معلوم ہواہے کہ کسٹمز کی انوسٹی گیشن اینڈ پراسیکوشن برانچ نے مقدمہ کی باقاعدہ تفتیش شروع کردی جبکہ تفتیش کے دوران دلچسپ انکشافات سامنے آئے ہیں کہ ایئرپورٹ پرجیسے ہی ماڈل کوحراست میں لیاگیا مذکورہ کے زیراستعمال دو موبائل فون بلیک بیری اورآئی فون 6 پر اسرار اندازمیں دنوں فون بلاک کرادیے گئے جواگرچہ اب کسٹمز کی تحویل میں ہیں لیکن بلاک (لاک) ہونے کی وجہ سے کسٹمزکی تفتیشی عملے کو فونوں کا ڈیٹا حاصل کرنے میں شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرھا ہے۔

کسٹمزکے سینئرآفیسر نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایاکہ فونز کو کھلوانے اورڈیٹا حاصل کرنے کیلیے حساس ادارے سے رجوع کیا گیا ہے جبکہ کسٹمزانٹیلیجنس کی معاونت بھی حاصل کی گئی ہے اسی طرح ماڈل کے پاسپورٹس کامکمل ریکارڈ ایف ائی اے کوبھی ارسال کرکے مکمل ٹریول ہسڑی کہ مذکورہ نے کب کب اورکون کون سے ائیرپورٹ وشہرسے سفر کیے فراہم کرنے کیلیے کہا گیا دوسری جانب کسٹمزکی تفتیشی ٹیم آج سینٹرل جیل اڈیالہ میں جاکر ماڈل کوباقاعدہ طور پر شامل تفتیش کرکے بیان حاصل کرے گی۔

ادھر کسٹمزنے ماڈل کے بیان کے رقم پراپرٹی فروخت کرنیکی تھی کے حوالے سے تحقیقات کادائرہ بڑھاتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں پراپرپرٹی کاکام کرنیوالے ایک پراپرٹی ڈیلر کی بھی تلاش شروع کردی۔13 سالہ کی عمرمیں دبئی میں جاکراپنی والدہ کےساتھ رہنے والی ماڈل ایان دبئی، برطانیہ، رومانیہ، تھائی لینڈ اور ترکی سمیت دیگرممالک کے مابین متواتر سفرکرچکی ہے۔ ادھر سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ نے کسٹم کی خصوصی عدالت کے جج چودھری ممتازحسین کے ماڈل ایان علی کی والدسے جیل میں ملاقات کرانیکا حکم بھی مسترد کردیا۔

والد محمد حفیظ عدالتی حکم لیکرجیل پہنچے توسپرنٹنڈنٹ جیل ملک مشتاق نے کہاکہ ملاقات نہیں کرائی جا سکتی،وزارت داخلہ کا آرڈرلاؤ۔ گزشتہ روزگرفتارماڈل کے والد محمد حفیظ کسٹم عدالت پیش ہوئے اور بتایاکہ سپرنٹنڈنٹ جیل 3 دن سے انکی بیٹی سے ملاقات نہیں کرارہے انکی بیٹی عدالت کے حکم پر جیل گئی ہے اور استدعا کی کہ اسے بیٹی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے یہ درخواست منظورکرلی اور سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا کہ وہ یہ ملاقات کرائیں،والد عدالتی حکم لے کرجیل پہنچے تو انھیں 3 گھنٹے بٹھائے رکھا گیا بعد میں جواب دیا گیاکہ یہ ملاقات نہیں کرائی جاسکتی۔

وزارت داخلہ نے منع کررکھا ہے جبکہ گزشتہ روز ایان علی سے اس کے بھائی علی کے ساتھ3پراسراربندے ملاقات کیلیے جیل پہنچے ان کی گاڑی سپرنٹنڈنٹ جیل کے دفترکے دروازے تک گئی،اس دوران ماڈل کاوالد بھی جیل کے احاطہ میںموجودتھا انہوں نے بتایاکہ بیٹے کے ساتھ جوبندے تھے وہ ہمارے رشتہ دارنہیں ہیں بیٹا کن کے پاس ہے اس کابھی اسے علم نہیں ہے،والد آج بدھ کوعدالت میں سپرنٹنڈنٹ جیل کےخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکرے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔