’’انارکزم‘‘ کا طلسم (پہلا حصہ)

تشنہ بریلوی  جمعـء 20 مارچ 2015
tishna.brelvi@yahoo.com

[email protected]

وزیر اعظم صاحب سخت محنت کے بعد بہت تھک گئے تھے، لہذا انھوںنے ہفتہ بھر کی چھٹی لی اور اہلیہ کے ساتھ ایک تفریحی مقام پر چلے گئے۔ چہل قدمی کے دوران کئی بار ایک بہت مہذب اور قدرے شرمیلا نوجوان نظر آیا جو سیدھے ہاتھ کی انگلیوں کے پورے ماتھے پر چپکا کر وزیر اعظم صاحب کو ادب سے سلام کرتا تھا ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ اطالوی اخبار پوپولو (عوام) IL POPOLO کا نامہ نگار ہے۔

لیکن نوجوان صحافی کی انگلیوں کے پورے کچھ اور ٹریننگ بھی حاصل کرچکے تھے ۔ ایک صبح جب وزیراعظم اور ان کی بیوی ہوٹل کے برآمدے میں ناشتہ کررہے تھے تو وہ نوجوان پھر نمودار ہوا جیب سے پستول نکالا اور تین گولیاں حیرت زدہ وزیر اعظم کے سینے میں پیوست کردیں ۔ جب غضب ناک اہلیہ نے ’’قاتل قاتل‘‘ کہہ کر شور مچایا تو نوجوان دھیمے لہجے میں بولا ’’ سینیورا ۔ میں قاتل نہیں ہوں ۔ میں نے تو اپنے انارکسٹ کامریڈوں کی طرف سے انتقام لیا ہے جو میرا فرض تھا ۔‘‘

مقتول وزیر اعظم تھا ’’انتونیوکانوواس ‘‘ جو پانچویں بار 1895ء میں اسپین کا وزیر اعظم بنا تھا ۔ وہ شاعر اور ادیب بھی تھا، اس نے دس جلدوں میں اسپین کی تاریخ لکھی تھی مگر اپنے ملک کے ’’دہشتگردوں‘‘ یعنی انارکسٹوں کو بھی سختی سے کچلا تھا ۔

انارکسٹ دہشت گردی یعنی DIRECT ACTIONکا یہ سلسلہ 1881 ء میں شروع ہوا جب NARODNYA VOLYAنامی انارکسٹ تنظیم نے روسی زار الگیزینڈر دوئم کو قتل کیا جس نے بیس سال پہلے کسانوں (SERF)کو غلامی سے آزاد کرا دیا تھا ۔ اس کے چھ سال بعد زار الگیزینڈر سوئم پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا جو ناکام رہا مگر اس سازش میں لینن کا بڑا بھائی بھی ملوث تھا جو گرفتار ہوا اور پھانسی پر چڑھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب تیس سال بعد زار نکولس دوئم اور اس کے بیوی بچوں کو ’’ایکاتیرن برگ ‘‘ میں نئی بالشیوک حکومت کے حکم پر قتل کیا گیا تو رومانوف خاندان سے یہ لینن کا انتقام ہی تھا ۔ انارکسٹ دہشت گردی کا یہ سلسلہ پہلی جنگ عظیم کے آغاز تک جاری رہا ۔ فرانس اس تحریک کا گڑھ تھا لیکن اٹلی، اسپین ‘ آسٹریا اور امریکا بھی اس کی زد میں آئے۔ جو اہم شخصیتیں قتل کی گئیں وہ یہ تھیں:

1884 میں فرانس کا صدر سادی کارنو قتل ہوا ۔ جب وہ ایک نمائش کا افتتاح کرنے اپنی اوپن لیموزین میں جارہا تھا تو ایک اطالوی نوجوان CASERIOاسے پھولوں کا گلدستہ پیش کرنے کے لیے آگے بڑھا اور خنجر صدر فرانس کے پیٹ میں بھونک کر نعرہ زن ہوا ’’انقلاب زندہ باد‘‘ (VIVE LA REVOLUTION)یہ قتل انارکسٹ ہیرو راواشول کا انتقام تھا ۔ جس کی اس نے پیش گوئی کی تھی۔1897میں اسپین کا وزیر اعظم کانوواس مارا گیا ( جس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔)

1898میں آسٹریا کے شہنشاہ فرانس یوزف کی ملکہ الزبتھ قتل کی گئی ۔ وہ ایک ایسی خوبصورت خاتون تھی کہ ’’ ایک صدی میں ایک ہی اتنی حسین عورت پیدا ہوتی ہے۔‘‘ 61 سال کی عمر میں بھی حسن و جمال کا ایسا نمونہ کہ پریاں رشک کریں مگر اس کی زندگی ٹریجڈی سے بھری ہوئی تھی۔ اس کا قاتل ایک اطالوی نوجوان لوکینی تھا جس نے بے حد غربت میں زندگی گزاری تھی ۔ وہ اتنا غریب تھا کہ ایک خنجر بھی نہیں خرید سکا اور خود ہی ایک چھری تیارکرکے معصوم ملکہ کو قتل کیا ۔ اس نے اپنے کارنامے پر بیحد خوشی کا اظہار کیا اور ’’انارکزم زندہ باد ‘‘کا نعرہ لگایا ۔

1900میں اٹلی کا بہت نرم مزاج بادشاہ اومبرت قتل کردیا گیا ۔ اس پر تین سال پہلے بھی حملہ ہوچکا تھا جس میں وہ محفوظ رہا تھا لیکن اس بار بادشاہ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے محل کے قریب کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کر رہا تھا ۔ قاتل بریش نام کا ایک اطالوی تھا لیکن وہ امریکا سے آیا تھا ۔ بریش ایک بہت اہم انارکسٹ لیڈر ’ ’ مالاتستا ‘‘ کا شاگرد تھا۔

1901 میں امریکا کا پچیسواں صدر ولیم مک کفلی (MCKINLEY)کو بفیلو شہر میں ایک نمائش میں گولی ماردی گئی، محض اس لیے کہ ’’ حکمرانوں کو ختم کرنا تو انارکسٹوں کا فریضہ ہے ۔‘‘ قاتل تھا ایک پولش امریکن لیون ’’چو لگوش‘‘ جو روسی یہودن انارکسٹ، ایما گولڈ مین کی جوشیلی تقریروں سے متاثر ہوکر صدر امریکا کے قتل پر آمادہ ہوا تھا ۔ نیویارک اور شکاگو وغیرہ میں روسی جرمن اور اطالوی مہاجرین بہت بڑی تعداد میں آباد تھے۔ روسیوں میں یہودی زیادہ تھے جو اپنے ملک میں مظالم کا شکار ہوئے اور اب امریکا میں غربت اور بیروزگاری کی زندگی گزار رہے تھے ۔

1905 میں روس میں بھی سوشلسٹ انقلابی انارکسٹ بہت سرگرم عمل تھے۔ ظالم وزیر داخلہ کو قتل کیاگیا پھر جنوری 1905میں ’’ خونی اتوار‘‘ کا واقعہ پیش آیا ۔ محنت کشوں نے دستور کے لیے پر امن مظاہرہ کیا لیکن ’’ونٹر پیلس ‘‘ کے سامنے ان پر فائرکھول دیا گیا جس میں ہزار سے زیادہ لوگ مرے۔ انتقاماً انارکسٹوں نے ماسکو کے جابرگورنر جنرل اور زار کے چچا گرانڈ ڈیوک سرگئی کو بم پھینک کر ہلاک کردیا۔ اکتوبر 1905میں ناکام انقلاب برپا ہوا ، لیکن روسیوں کو دستور مل گیا۔

1912میں اسپین کا ایک اور وزیر اعظم ’’ خوزے کانا لیخاس ‘‘ نشانہ بنا ۔ اسپین میں انارکسٹ بہت مضبوط تھے چھ سال پہلے بادشاہ الفانسو اور اس کی دلہن پر ان کی شادی کی تقریب میں بم پھینکا گیا ۔ شاہی جوڑا تو بچ گیا لیکن بیس لوگ مر گئے ۔ پھر 1909میں انقلاب برپا کرنے کی ایک کوشش بارسیلونا میں کی گئی تھی جو کچل دی گئی ۔ انتقاماً ایک انارکسٹ ’’پاردی فاس ‘‘ نے میڈرڈ کی ایک سڑک پر اس روشن خیال وزیر اعظم کو شوٹ کردیا۔

1914 میں ’’گاو ریلوپرنسپ‘‘ نے آسٹریا کے ولی عہد اور اس کی ملکہ کو ’’سراجیوو‘‘ میں گولی مار دی جس کے نتیجے میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی اور دو کروڑ لوگ لقمۂ اجل بن گئے ۔ یہ قاتل سربیا کی آزادی کے لیے لڑ رہا تھا وہ ’’ بلیک ہینڈ‘‘ اور ’’چتنک‘‘ انقلابی تنظیموں سے وابستہ تھا جن پر انارکسٹ تحریک کا بہت زیادہ اثر تھا ۔انارکسزم یعنی ’’نراج‘‘ کا بنیادی مطلب تو یہ ہے کہ حکومت اور ملکیت کا تصور جبر اور ظلم پر قائم ہے ۔ انسانی معاشرہ امداد باہمی کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے سب مل کر رہیں‘ محنت کریں ‘ خوش رہیں اور دوسروں کو خوش رکھیں ۔ سولہویں صدی میں عیسائی فرقوںANABAPTISTاور DIGGERSنے اس فکر کو آگے بڑھایا OWENاورST.SIMONنے بھی’’حکومت کے بغیر‘‘ آبادیاں قائم کیں۔ ہندوستان میں گاندھی جی کا آشرم بھی ایسا ہی ایک نمونہ تھا جس کی بعد میں نقل مولانا بھاشانی نے مشرقی پاکستان میں سنتوش نگر قائم کرکے پیش کی۔ موجودہ دور میں اسرئیل میں موجود KIBBUTZMمیں ایسی بستیاں ہیں جہاں حکومت اور ملکیت کے بغیر زندگی گزاری جاتی ہے اور سوشلزم اور صہیونیت ZIONISMکا ملاپ دیکھنے میں آتا ہے۔

سولہویں صدی میں سر ٹامس مور SIR THOMAS MORE نے یونانی لفظ UTOPIOایجاد کیا ( یعنی خیالی جگہ) اور اس نام سے ایک داستان لکھی اور پھر یہ نام ’’ خیالی جنت ‘‘ کے طور پر مشہور ہوگیا ۔ انقلابیوں نے اس نام کو پرچم بنالیا ۔ انارکسٹوں ‘ سوشلسٹوں، کمیونسٹوں حتیٰ کہ فاشسٹوں تک نے یہ وعدہ کیا کہ ان کا نظام یوٹوپیا کا نمونہ ہوگا جب کہ ان میں سے بیشتر نے اپنے عوام کو DYSTOPIA(’’جہنم‘‘) کا مزہ چکھایا اور ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ۔ مشہور شاعر شیلی کے سُسر اور ناول FRANKENSTEINکی مصنفہ کے والد ولیم گوڈون نے اپنی کتاب POLITICAL JUSTICEمیں ’’انارکزم‘‘ کا پرچار کیا ۔اٹھارویں صدی میں انقلاب سے پہلے فرانس میں کئی فیلسوف پیدا ہوئے ۔ ان میں والتی اور ژاں ژاک روسو بہت نمایاں تھے ۔ روسو دراصل جنیوا میں پیدا ہوا تھا لیکن اس کو بھی فرانسیسی ہی سمجھا جاتا ہے ۔ اس کی عہد آفریں تصنیف DU CONTRAT SOCIAL(معاہدہ عمرانی) کا پہلا جملہ ہی سب کچھ کہہ دیتا ہے

L` HOMME EST NE` LIBRE

ET PARTOUT IL EST DANS LES FERS

ازل سے خوار ہے مظلوم انساں
یہ کیسی کج روی تقدیر میں ہے

بشر آزاد ہی پیدا ہوا تھا
مگر وہ ہر جگہ زنجیر میں ہے
(تشنہ)
(جاری ہے ۔)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔