مسکینوں کی مقامی حکومتیں اور اشرافیہ

جبار جعفر  جمعـء 20 مارچ 2015

’’کرپشن مآب غنچہ شاہی اور لوکل گورنمنٹ کا ساتھ گویا آگ پانی کا ملاپ ہے۔دودھ بلی کا رشتہ ہے اور شیر بکری کی دوستی ہے۔ جو ناممکن ہے، ناممکن اور ناممکن ہے۔‘‘ یہ 25 دسمبر 2013 کو لکھے گئے کالم کے اختتامی کلمات ہیں۔ صرف ایک ساتھ دو ماہ بعد یکم مارچ کو ایکسپریس اخبار سے لیے گئے چند عدالتی ریمارکس ملاحظہ کیجیے، جس سے اندازہ ہوگا کہ سپریم کورٹ کیا کہتی ہے۔

A۔حکومت دراصل عوام کو بااختیار بنانا ہی نہیں چاہتی۔(جسٹس جواد ایس خواجہ)

B۔سپریم کورٹ اگر اختیار دے تو ہم شیڈول کا اعلان کردیں گے۔(اکرم شیخ وکیل الیکشن کمیشن)

C۔آئین کے آرٹیکل 219(D)کے تحت کمیشن کے پاس اختیار ہے۔ ہمارے آرڈر کی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی الیکشن کمیشن کو اپنی ذمے داری نبھانے سے روک نہیں سکتا۔‘‘ (جسٹس سرمد جلال عثمانی)

D۔بلدیاتی انتخابات نہیں کرانے تو آئین کو کوڑے دان میں پھینک دیا جائے۔(جسٹس جواد ایس خواجہ)

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آئین کی ضرورت، جمہوریت کی تکمیل اور ملک کے ستر فیصد مسائل (جن کا تعلق مقامی سیاست سے ہوتا ہے) کے حل کے لیے تشکیل پانے والی مقامی حکومتوں کے راستے کا حسب معمول لارا لپا جمہوریت کا پتھر بنی ہوئی ہے۔ ان کے تاخیری ہتھکنڈوں کے باعث سپریم کورٹ کو بھی کہنا پڑا کہ ’’اب انتخابات کے انعقاد کے لیے مزید تاریخیں دینے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔‘‘ (یعنی سندھ اور پنجاب میں 20 ستمبر کو ہی انتخابات ہوں گے)

آگے بڑھنے سے پہلے موجودہ سیناریو پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ ایک طرف کرپشن مآب مادرزاد اشرافیہ ہے جو ووٹ لینے سے پہلے خادم قوم اور منتخب ہوتے ہی مقدس گائے”VVIP”استحقاق کی پوٹلی، صوابدیدی اختیارات کی زنبیل، عوام کا ٹیکس اور اپنی تنخواہ بڑھانے کی فائنل اتھارٹی اور اس کے علاوہ حیلہ سازی، قانون سازی اور قانون بازی کے ماہر بھی ہیں۔

دوسری طرف مقامی حکومتوں کا بلدیاتی نظام ہے جہاں میگا ترقیاتی منصوبوں کا جمعہ بازار، ٹھیکے داروں کا جم غفیر، ٹھیکوں کا نیلام گھر اور کروڑوں کی چائے پانی کا چائے خانہ ہے۔ جہاں ایشیا کے بڑے بڑے منصوبے کا وزیر (On Paper)اور کروڑوں کا لین دین میز کے نیچے (Under the Table)تکمیل پاتا ہے۔ گویا یہ دنیا کا واحد محکمہ ہے جہاں ہر طرف چائے پانی کی نہریں بہتی ہیں۔

تیسری طرف افسر شاہی ہے جن کی راجدھانی اسلام آباد ہے جہاں آج تک کوئی مائی کا لعل بلدیاتی الیکشن نہیں کراسکا۔ 20 لاکھ آبادی والے شہر کا بجٹ 40 ارب سالانہ ہے جب کہ دو کروڑ آبادی والے شہر کراچی کا سالانہ بجٹ 35 ارب۔ اس کے علاوہ جب ملک میں بلدیاتی الیکشن نہیں ہوتے مسکین عوام کی مقامی حکومتوں کے بلدیاتی محکموں کی باگ ڈور (بطور ایڈمنسٹریٹر) ان کے ہی ہاتھ میں ہوتی ہے اور گلشن کا کاروبار چلتا رہتا ہے۔

الیکشن کمیشن لاچار ہے، زندگی کے مارے مسکین عوام نڈھال ہیں۔ سڑکوں پر آکر نعرے گنگناتے ہیں، جو حلق پھاڑ کر چلاتے ہیں وہ مارے نقاہت کے غش کھا جاتے ہیں الزام بے چارے پولیس والوں کی معصوم لاٹھیوں پر آتا ہے۔

جب جمہوریت کی نرسری (بلدیاتی نظام) میں خاک اڑ رہی ہو تو سیاسی رہنما اور کارکن کہاں سے آئیں گے؟ لازمی مادرزاد اشرافیہ جنم لے گی۔ ایسے میں سیاسی رویوں کا چلن اور جمہوری روایات کا جنم کیسے ہوگا؟ جمہوریت مضبوط کس طرح ہوگی؟ نتیجتاً سیاست میں ڈپلومیسی کی آڑ میں منافقت جمہوریت میں استحقاق کے پردے میں وراثت، اور ریاست میں کرپشن کے نام پر خباثت کا راج ہوگا۔ لوٹ مارکی بازیاں لگیں گی۔ آنیوالا جانے والے کو تحفظ فراہم کرے گا۔

سوال یہ ہے کہ اب کیا ہوگا؟ اس وقت عدالت سے آخری امید ہے۔ اگر انقلابی اصلاحات کی گئیں تو بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔ مثلاً:(1)۔آئین میں دیے گئے احکامات پر اس کی روح کے مطابق عمل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آزادانہ، خودمختارانہ، غیرجانبدارانہ کام کرے۔ (2)۔قانون سازی کا مینڈیٹ لے کر کامیاب ہونے والے صرف قانون سازی کریں اور ترقیاتی کاموں کا مینڈیٹ لے کر کامیاب ہونے والے ترقیاتی کاموں کی نگرانی کریں، ترقیاتی فنڈز خرچ کریں اور عوام کو جوابدہ ہوں۔ (3)۔پارلیمانی انتخابات کی مدت چار سال اور بلدیاتی انتخابات کی مدت پانچ سال ہو۔(4)۔غیر متنازعہ شفاف مردم شماری اور حلقہ بندیاں اپنے وقت پر الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہوتی رہیں۔ (5)۔منتخب نمایندوں پر غیر منتخب بیوروکریسی کا تسلط نہ ہو۔ (6)۔تمام مفاد عامہ کے شعبے مثلاً تعلیم، صحت، پولیس وغیرہ لوکل گورنمنٹ کے زیر اثر ہوں۔ (7)۔جب تک بلدیاتی نظام معطل ہو اس وقت تک اس کے فنڈز منجمد ہوں۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مارشل لا نافذ ہوا لارا لپا جمہوریت کے ڈسے ہوئے عوام نے سڑکوں پر آکر بھنگڑا ڈالا۔ اور (بقول چوہدری شجاعت) پاکستان میں مارشل لا کا نفاذ اسلام آباد میں ایک فوجی جیپ اور دو فوجی ٹرک کی مار ہے۔یہی وجہ ہے کہ جو بھی آمر آیا 5 سال وردی میں اور پانچ سال حرفوں سے بنی ہوئی مسلم لیگ (ج لیگ، م لیگ) بناکر شیروانی میں آسانی سے گزار لیتا ہے۔ صرف اس لیے کہ آتے ہی سب سے پہلے عوام کو مقامی حکومتوں کے بلدیاتی نظام کا تحفہ دیتا ہے خدانخواستہ اگر اب کوئی نجات دہندہ لیفٹ رائٹ لیفٹ رائٹ کرتا ہوا آیا مقامی حکومتوں کے ساتھ ساتھ بامقصد زرعی اصلاحات کا تحفہ بھی دے دیا تو۔۔۔۔؟اس کو پاکستان کا مصطفیٰ کمال بننے سے کون روئے گا؟

میرے مسکین ہم وطنو! اگر اب بھی کچھ نہیں ہوا تو آئیے میرے ساتھ آپ بھی۔۔۔۔ میں جو کچھ کہوں باآواز بلند دہراتے جائیے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون!)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔