یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

شبیر ابن عادل  جمعـء 20 مارچ 2015
’’اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے، مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اصل زندگی تو آخرت ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔‘‘۔ فوٹو: فائل

’’اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے، مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اصل زندگی تو آخرت ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔‘‘۔ فوٹو: فائل

زندگی کسے پیاری نہیں ہوتی، ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ طویل عرصے تک زندہ رہے اور زندگی کی تما م نعمتوں سے لطف اٹھائے۔

ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ زندگی کی تمام آسائشیں، کاریں، کوٹھیاں اور بہت سا مال و متاع اس کے پاس ہو۔ ان سب کے حصول کے لیے انسان کو بے پناہ محنت کرنا پڑتی ہے، اعصاب شکن محنت۔ دن رات ایک کرنا پڑتا ہے، اتنی مصروفیت کہ اپنا ہوش تک نہیں رہتا۔ اس کے بعد بھی دنیاوی آسائشیں حاصل ہوتی ہیں یا نہیں۔ اس کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ انسان اپنی من پسند تمام چیزیں حاصل بھی کرلیتا ہے اور لوگ اسے کام یاب قرار دے دیتے ہیں تو پھر۔۔۔ ؟ آخر ایک دن اسے مرجانا ہے۔ تب یہ معلوم ہوگا کہ

بعد مرنے کے ہم پہ یہ عقدہ کھلا
جو کچھ دیکھا خواب تھا، جو سنا افسانہ تھا

لیکن مرنے کے بعد ہوش آیا تو کیا؟ عقل مندی تو یہ ہے کہ اسی دنیا میں انسان کو اپنی زندگی کے مقصد کا علم ہو۔ اسے اس بات کا مکمل شعور ہو کہ اﷲ پاک نے انہیں دنیا میں کیوں بھیجا؟ اور یہ کہ اسے دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری کرنا ہے۔ کیوںکہ اصل بات تو یہ ہے کہ دنیا کی زندگی دھوکا اور کھیل ہے۔ قرآن پاک میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ترجمہ: ’’اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا ) سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔‘‘ (سورہ الانعام ۔32)

’’ اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے، مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔ اصل زندگی تو دارِ آخرت ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔‘‘ (سورہ العنکبوت۔ 64)

’’ یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔ اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اﷲ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا۔‘‘ (سورہ محمدؐ ۔ 36)

جان رکھو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا اور زینت (وآرائش) اور تمہارے آپس میں فخر (وستائش) اور مال و اولاد کی ایک دوسرے سے زیادہ طلب (وخواہش) ہے (اس کی مثال ایسی ہے) جیسے بارش کہ (اس سے کھیتی اْگتی اور) کسانوں کو کھیتی بھلی لگتی ہے پھر وہ خوب زور پر آتی ہے پھر (اے دیکھنے والے) تو اس کو دیکھتا ہے کہ (پک کر) زرد پڑ جاتی ہے پھر چورا چورا ہوجاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لیے) عذاب شدید اور (مومنوں کے لیے) اﷲ کی طرف سے بخشش اور خوش نودی ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو متاع فریب ہے۔ (سورہ الحدید۔ 20)

چند الفاظ میں اﷲ تعالیٰ نے دنیا کی پوری حقیقت کو واضح کرکے رکھ دیا۔ یہ دنیا کیا ہے۔۔۔ ؟ کھیل۔ بس ایک دل لگی۔ قلب و ذہن کے لیے تماشا اور جسم و اعضاء کے لیے ایک کھیل۔ جب کہ کھیل کی کبھی کوئی حقیقت ہوتی ہے اور نہ تماشے کی۔ اس کی کچھ حقیقت ہے تو یہی کہ ذہن کو مصروف کردے، دل کو لبھائے اور وقت برباد کرے۔ جو اس کی حقیقت سے بے خبر رہا، وہ اس تماشے میں اپنی عمر کھو بیٹھا۔ ہوش آیا تو تب نہ وقت باقی رہا اور نہ تماشا !

’’ اور نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو دنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔ وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہیں، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزقِ حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے۔ (سورہ طہٰ۔ 13)

’’اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا ) سے محبت رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔‘‘ (سورہ القیامہ۔ 20، 21)

حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے دنیا سے کیا دل چسپی؟ میری اور دنیا کی مثال ایسی سمجھو جیسے کوئی مسافر گرمی کے زمانے میں کسی درخت کے سائے میں تھوڑی دیر کے لیے دوپہر میں سو رہتا ہے، پھر اس درخت کے سائے کو چھوڑ کر اپنی منزل کی طرف چل دیتا ہے۔ (مسند احمد)

حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے میرے شانے کو پکڑ کر فرمایا کہ اے عبداﷲ! تم دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم اجنبی مسافر ہو، بلکہ راستہ چلنے والے کی طرح دنیا میں رہو، اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرو۔ (مسند احمد بن حنبل)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی کہ مجھ سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ ؓ ! اگر تم میرے ساتھ جنت میں رہنا چاہتی ہو تو اتنی دنیا تمہارے لیے کافی ہونی چاہیے جتنا سامان کسی مسافر کے پاس ہوتا ہے اور خبردار دنیا کے طلب گار مال داروں کے پاس مت بیٹھنا، اور کپڑا پرانا ہوجائے تو اسے مت اتار پھینکو، بلکہ پیوند لگا کر پہنو۔ (ترغیب وترہیب بحوالۂ ترمذی)

حضرت ابوذر غفاری ؓ روایت کرتے ہیں کہ بنی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دنیا سے بے رغبتی اور زہد یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے اوپر کسی حلال کو حرام کرلے اور اپنے مال کو برباد کردے (یعنی اپنے پاس مال نہ رکھے)، بلکہ زہد یہ ہے کہ تمہیں اپنے مال سے زیادہ اﷲ کے انعام اور بخشش پر اعتماد ہو، اور جب تم پر کوئی مصیبت آئے تو اس کا جو اجر و ثواب ملنے والا ہے اس پر تمہاری نگاہ جم جائے اور تم مصائب کو ذریعہ ثواب سمجھو۔   (ترمذی)

حضرت سہل بن عبداﷲ ؓ کی روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ دنیا اﷲ کی نگاہ میں مچھر کے پر کے برابر بھی اہمیت رکھتی تو کافر کو اس دنیا سے وہ پانی کا ایک گھونٹ بھی نصیب نہ ہونے دیتا۔ (ترمذی)

حضرت مستورد بن شداد کی روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: دنیا آخرت کے مقابلے میں بس اتنی ہے جتنا کوئی شخص بھرے سمندر میں انگلی ڈال کر دیکھے کہ اس کی انگلی نے سمندر میں کیا کمی کی، تب آپؐ نے اپنی شہادت کی انگلی کی جانب اشارہ کیا۔ (صحیح مسلم)

ایک مرتبہ آقائے دوجہاں ﷺ صحابہ کرامؓ کے ہم راہ سفر کررہے تھے کہ ایک مردہ بکری کے پاس انہیں روک لیا، فرمایا: کیا تم دیکھ رہے ہو۔ یہ اپنے مالک کی نظر میں کتنی بے کار اور بے وقعت ہوئی کہ وہ اسے یوں پھینک گیا۔ صحابہؓ نے عرض کی کہ اﷲ کے رسول ﷺ یہ بے قیمت تھی تو گھر والوں نے یوں پھینک دی۔ تب آپؐ نے فرمایا: تو پھر سنو! اﷲ تعالیٰ کی نظر میں دنیا اس سے بھی زیادہ بے وقعت ہے جتنی اپنے مالک کے لیے یہ مردہ بکری۔ (ترمذی)

حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ دنیا ملعون ہے۔ دنیا میں جو کچھ ہے وہ ملعون ہے، سوائے اﷲ کی یاد کے اور جو اس سے تعلق رکھے اور سوائے اس کے جو کچھ سیکھے یا سکھائے۔ (ترمذی)

حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے تو اس دنیا کی مثال ابن آدم کے کھانے کی صورت میں ہی بیان کردی، خواہ وہ اس کھانے کو کتنا ہی مزے دار اور چٹ پٹا بنالے بس کھانے کی دیر ہے پھر دیکھے وہ کیا سے کیا بن جاتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔