ذلت نے بہت کچھ سکھا دیا

سید عون عباس  اتوار 22 مارچ 2015
گرامر سے بیزار کسی شخص کو بھی یہ کتاب تھما دی جائے تو اسے ختم کئے بغیر وہ اٹھ نہیں سکے گا۔

گرامر سے بیزار کسی شخص کو بھی یہ کتاب تھما دی جائے تو اسے ختم کئے بغیر وہ اٹھ نہیں سکے گا۔

شعبہ اِبلاغ عامہ میں داخلہ لینے کے بعد احساس ہوا کہ جب اس شعبے کا انتخاب کر ہی لیا ہے تو کیوں نہ اب شہر میں ہونے والے مضمون نویسی اور تقریری مقابلوں میں شرکت کرکے اپنے جوہر دکھائے جائیں۔

بس یہ سوچ کے ہم انتظار کرنے لگے کہ کب وہ وقت آئے گا جب ہم بھی اپنی آواز کا جادو جگا سکیں گے۔ آخر ایک دن ہمارے دوست نواز کی کال آئی اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ ریڈیو پاکستان میں 14 اگست کے حوالے سے تقریری مقابلہ منعقد کیا جارہا ہے، کیا تم شامل ہونا چاہو گے؟ بس پھر کیا تھا میں نے تو فوراً سے ہاں کردی۔

ہم نے سوچا کہ ہم تو صحافت کے طالبعلم ہیں، کیا تقریر یاد کرنی! بس جائیں گے اور جو کچھ پاکستان کے بارے میں جانتے ہیں وہ کہ ڈالیں گے۔ لیکن وہاں پر مقابلے کے بعد معزز ججز نے ہمارے ساتھ جو کیا، وہ الفاظ میں بیان کیا جانا کافی مشکل ہے۔ مقابلے میں ہماری پوزیشن تو کیا آتی، تینوں ججز نے ہمارے تلفظ اورجملوں کی کوئی بیس غلطیاں نکال کر ہمیں جو سنائی کہ ایسا لگا کہ گیس کے غبارے سے کسی نے ہوا نکال دی ہو۔

ہم مایوسی کے عالم میں واپس آگئے۔ ایک دن سوچا کہ اس طرح بیٹھے رہنے سے تو کچھ نہیں ہوگا کیوں نہ کسی کتاب کی تلاش کی جائے جو زیادہ مشکل نہ ہو اور اس کے ذریعے زبان و بیان کے معاملات بھی حل ہوجائیں۔ چند روز کی تلاش کے بعد آخرکار ہمیں معروف شاعر نصیر ترابی کی ایک کتاب ’’شعریات‘‘ ملی۔

میں نے دیکھا ہے کہ پاکستان میں بہت سے افراد بلکہ شعراء بھی لفظیات کا خیال نہیں رکھتے۔علم و ادب سے اس دوری کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ والدین، اساتذہ اور پھر طالبِ علم بھی ادب کی تربیت سے محروم ہوتے جارہے ہیں، جو کسی بھی شائستہ معاشرے کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ایسی صورتحال میں بھی اردو ادب کا یہ حصہ بلکل بھی لاوارث نہیں ہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے اس زمین کو ایسے موتی ملے ہیں جو اپنی چمک ہمیشہ بکھیرتے رہتے ہیں اور اسی حوالے سے ایک کاوش نصیر ترابی کی کتاب شعریات ہے۔

نصیر ترابی کی شعریات اصلاحِ زبان کی انہی کوششوں کے سلسلے کی کڑی ہے جو نمودِ اردو سے لے کرآج تک مختلف شکلوں میں جاری رہی ہیں۔ ماضی کے مصلحین کا مسئلہ یہ تھا کہ گلی محلے کی زبان کی وجہ سے اردوئے معلی پر بُرے اثرات مرتب ہورہے ہیں تو آج کا مصلحِ زبان واویلا کررہا ہے کہ ایف ایم ریڈیو، ٹی وی چینلز اور ڈائجسٹ ٹائپ کے رسالوں نے اردو کی شکل بگاڑ کررکھ دی ہے۔ چنانچہ نئی نسل کی توجہ صحتِ زبان کی طرف دلانا اشد ضروری ہے۔

نصیر ترابی کی تصنیف، شعر کی تعریف سے شروع ہوتی ہے۔ وہ شعر کہنے کے لئے پانچ عناصر کو ضروری قرار دیتے ہیں۔

1 ) موزونی طبع
2 ) شعری مطالعہ
3 ) زبان آشنائی
4 ) خیال بندی
5 ) مشقِ سخن

اس کے بعد وہ شاعر کی چار قسمیں گنواتے ہیں۔

1 ) بڑا شاعر
2 ) اہم شاعر
3) خوشگوار شاعر
4 ) محض شاعر

شاعر نصیر ترابی کی نظر میں اردو کے بڑے شعرا صرف پانچ ہیں۔ میر، غالب، انیس، اقبال اور جوش۔

جبکہ اہم شاعروں میں نصیر ترابی آٹھ نام گِنواتے ہیں۔ یگانہ، فراق، فیض، راشد، میراجی، عزیز حامد مدنی، ناصر کاظمی اور مجید امجد۔

اس کے بعد نصیر ترابی نے مروجہ اصنافِ سخن یعنی حمد، نعت، مناجات، منقبت، سلام، مرثیہ، غزل، مثنوی، رباعی، قطعہ سمیت تمام چیزوں کی تعریف کو مثالوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔

اگلے باب میں نصیر ترابی نے اَوقافی علامات یعنی PUNCTUATIONS کے بارے میں تفصیل سے بتایا ہے۔ اس ذیل میں انہوں نے ختمہ، سکتہ، وقفہ، رابطہ، سوالیہ، قوسین، خط ، زنجیرہ اور دیگر تمام اَوقافی علامات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس کے بعد جو باب شروع ہوتا ہے وہ ان لوگوں کے لئے بہت زیادہ اہم ہے جو ہمیشہ اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ہمیں اُردو میں درست تلفظ کا مسئلہ رہتا ہے۔

میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس باب کے مطالعے کے بعد بول چال کی وہ غلطیاں جو ہم عموماً کرتے ہیں اور ان کو معمولی سمجھتے ہیں لیکن وہی معمولی غلطیاں پورے جملے کے مطلب کوبدل دیتی ہیں وہ دور ہوجائیں گی۔ مثال کے طور پر نصیر ترابی نے غلط اور دُرست الفاظ کی ایک فہرست بنادی ہے تاکہ قاری آسانی سے یاد کرسکے، مثال کے طور پر؛

غلط                    دُرست

اَبلاغ                    اِبلاغ
اِخلاق                   اَخلاق
اَفطار                   اِفطار
اَصوُل                  اُصُول
تَذکَرہ                    تَذکِرہ

اسی طرح اس کتاب میں نصیر ترابی نے 250 الفاظ بتائیں ہیں جن کا دُرست تلفظ کچھ اور ہوتا ہے اور ہمیں غلط تلفظ کو صحیح سمجھتے ہیں۔

اس کے بعد والے باب میں تذکیر و تانیث یعنی MASCULINE-FEMININE کے معاملات پر تفصیلی بات کی ہے۔ یہ باب خصوصاً ایسے شعراء کے لئے بہت اہم ہے جو شاعری کے میدان میں ابھی قدم رکھنا شروع کررہے ہیں۔ اس باب میں نصیر ترابی نے مذکر اور مونث کے فرق کو بہت بہترین انداز میں بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر وہ لکھتے ہیں کہ دنوں اور مہینوں کے نام مذکر ہیں، صرف جمعرات مونث ہے۔ اب اگر آپ چاہیں تو اسے بول کے دیکھ لیں؛

پیر ہوگا
منگل ہوگا
بدھ ہوگا
جمعرات ہوگی
جمعہ ہوگا
ہفتہ ہوگا
اتوار ہوگا

اِسی طرح مذکر اور مونث کو بہترین انداز میں سمجھنے کے لئے ایک ایک چیز بہت آسانی کے ساتھ بیان کردی گئی ہے۔

پھر واحد ۔جمع SINGULAR-PLURAL، مُنافات OPPOSITES، پھر نئے باب میں مُشاَبہَ الفاظ یعنی SIMILAR WORDS بیان کئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر؛

آمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محفوظ
آمِن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے خوف
اِستاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔قیام
اُستاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مُعلم
دَخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا ، نفیس
دُخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ دُھواں

اس کے بعد تفصیلی طور پر سابقےلاحقے یعنی PREFIX-SUFFIX بیان کئے گئے ہیں۔ پھر ایک اور بہت ہی اہم باب غلط العام یعنی COMMON ERROR کا ہے۔ اس باب میں بھی نصیر ترابی نے مثالوں کے ذریعے غلط العام الفاظ بیان کئے ہیں اور بتایا ہے کہ اس کی جگہ دُرست الفاظ کیا ہیں۔ ہمارے سیاستدان حضرات اسمبلیوں میں غلط بولتے ہیں۔ جیسا کے اکثر کہا جاتا ہے کہ ’’یہ ہماری ذمہ واری نہیں ہے‘‘. اردو میں ذمہ واری کوئی چیز نہیں ہے۔ نصیر ترابی کے نزدیک یہ بلکل غلط ہے، کیونکہ ہندی میں ’’وار‘‘ کا لفظ حملہ، ضرب اور نچھاور کے معنوں میں آتا ہے، درست لفظ (ذمہ داری) ہے۔

اس کے بعد نافذہ اصطلاحات، اجازت و ممانعت، مُرادفات کی تعریف اور مثالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ،تاکہ سیکھنے اور سمجھنے والے کو کسی قسم کی کوئی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کتاب کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ نصیر ترابی نے اپنے مخصوص خوشگوار اور چلبلے انداز میں ان خشک قواعدی موضوعات کو بھی اتنا دلچسپ بنا دیا ہے کہ گرامر سے بیزار کسی شخص کو بھی یہ کتاب تھما دی جائے تو اسے ختم کئے بغیر وہ اٹھ نہیں سکے گا۔ کتاب میں جا بجا مشاہیرِ اردو کی تصنیفات سے انتہائی بر محل اقتباسات درج کیے گئے ہیں جن سے کتاب کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔

میں یہ دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد قاری خود اپنے اندر فرق محسوس کرے گا اور اُردو بولنے، پڑھنے اور لکھنے کے مسائل بھی کافی حد تک ٹھیک ہوجائیں گے۔

کتاب: شعریات
مصنف: نصیر ترابی
ناشر: پیرامانٹ پبلشنگ انٹر پرائز
صفحات: 215
قیمت: 345 روپے

نوٹ: روزنامہ ایکسپریس  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے ریویو لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]om.pk  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔

سید عون عباس

سید عون عباس

بلاگر نے جامعہ کراچی سے ابلاغ عامہ اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔ اس وقت وفاقی اردو یونیورسٹی سے ابلاغ عامہ میں ایم فل جا ری ہے۔ ریڈیو پاکستان، جامعہ کراچی کے شعبہ تعلقات عامہ سے منسلک رہنے کے علاوہ مختلف اخبارات اور رسالوں میں تحقیقی علمی و ادبی تحریریں لکھتے ہیں۔ ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے صحافی اور ایک نجی چینل سے وابستہ ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔