ورلڈکپ کے کامیاب ترین بیٹسمین

حسان خالد  اتوار 22 مارچ 2015
11ہزار سے زائد رنز اور 273 وکٹوں کے ساتھ جیک کیلس ون ڈے کے کامیاب ترین آل راؤنڈر ہیں فوٹو: فائل

11ہزار سے زائد رنز اور 273 وکٹوں کے ساتھ جیک کیلس ون ڈے کے کامیاب ترین آل راؤنڈر ہیں فوٹو: فائل

سچن ٹنڈولکر: بیٹنگ کے اعتبار سے جتنے بھی معتبر ریکارڈ ہیں، ان میں سے اکثر کے سامنے سچن ٹنڈولکر کا نام لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ ورلڈکپ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں بھی وہ سرفہرست ہیں۔ انہوں نے 1992ء سے 2011ء تک چھ ورلڈکپ مقابلوں میں حصہ لیا۔ ورلڈکپ میں سب سے زیادہ چھ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ بھی ان کے پاس ہے۔ انہیں کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں سب سے زیادہ مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ سچن ٹنڈولکر نے مجموعی طور پر 45 ورلڈکپ میچوں میں 56.95 کی اوسط سے 2278 رنز اسکور کیے ہیں۔

رکی پونٹنگ: رکی پونٹنگ نے مجموعی طور پر 46 ورلڈکپ میچوں میں 45.86 کی اوسط سے 1743 رنز اسکور کیے ہیں۔ انہوں نے پانچ کرکٹ ورلڈکپ (1996-2011) کھیلے، جن میں تین مرتبہ ان کی ٹیم فاتح رہی، جبکہ دو مرتبہ انہوں نے بحثیت کپتان ورلڈکپ ٹرافی وصول کی۔

سنگاکارا: سنگاکارا اب تک حالیہ ورلڈکپ کے سب سے کامیاب بیٹسمین ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس ورلڈکپ کی سات اننگز میں 108.20 کی اوسط سے 541 رنز اسکور کیے ہیں، جس میں لگاتار چار سنچریاں شامل ہیں۔ سنگاکارا اس اعتبار سے بدقسمت رہے کہ ان کے کرئیر کے دوران دو مرتبہ سری لنکن ٹیم نے ورلڈکپ فائنل کھیلا، لیکن دونوں میں ہی اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مجموعی طور پر سنگاکارا نے 37 ورلڈکپ میچوں میں 56.74 کی اوسط سے 1532 رنز اسکور کیے ہیں۔

برائن لارا: عظیم بلے باز برائن لارا نے 34 ورلڈکپ میچوں میں 42.24 کی اوسط سے 1225 رنز اسکور کیے ہیں۔

جے سوریا: میک گرا سے جب پوچھا گیا کہ ان کے کرئیر میں کون سا بیٹسمین سب سے مشکل ثابت ہوا تو ان کا کہنا تھا: ’’کسی کے بارے میں یہ کہنا بہت بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے کہ اس نے کھیل کا انداز تبدیل کر دیا۔ 1996ء میں جے سوریا نے اپنی شاندار کارکردگی سے اننگز کے آغاز کے متعلق سب کی رائے بدل ڈالی تھی۔‘‘ جے سوریا نے 38 ورلڈکپ میچوں میں 34.26 کی اوسط سے 1165 رنز اسکور کیے ہیں۔

جیک کیلس: 11ہزار سے زائد رنز اور 273 وکٹوں کے ساتھ جیک کیلس ون ڈے کے کامیاب ترین آل راؤنڈر ہیں۔ کرکٹ ورلڈکپ مقابلوں میں انہوں نے بیٹسمین کی حیثیت سے قابل قدر پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے۔ مجموعی طور پر انہوں نے 36 ورلڈکپ میچوں میں 45.92 کی اوسط سے 1148 رنز اسکور کیے ہیں۔

اے بی ڈویلیرز: حالیہ ورلڈکپ کی چھ اننگز میں ڈی ویلیرز نے اب تک 83.40 کی اوسط کے ساتھ 417 رنز اسکور کیے ہیں، جس میں ون ڈے کے تیزترین 150رنز بھی شامل ہیں، جو انہوں نے 64 گیندوں پر مکمل کیے۔ مجموعی طور پر انہوں نے 22 ورلڈکپ میچوں میں 60.10 کی اوسط سے 1142 رنز اسکور کیے ہیں۔ اگلے میچوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ورلڈکپ کے کامیاب ترین بیٹسمینوں کی اس فہرست میں وہ اپنی پوزیشن بہتر کر سکتے ہیں۔

http://express.pk/wp-content/uploads/2015/03/Players1.jpg

دلشان: دلشان نے 27 ورلڈکپ میچوں میں 52.95 کی اوسط سے 1112 رنز اسکور کیے ہیں۔

جے وردھنے: کوارٹر فائنل میں ساؤتھ افریقہ سے شکست کے بعد جہاں سری لنکا کا ورلڈکپ ختم ہو گیا ہے، اس کے ساتھ ہی ریٹائرمنٹ لینے والے سنگاکارا اور جے وردھنے کا ون ڈے کرئیر بھی ختم ہو گیا ہے۔ جے وردھنے نے مجموعی طور پر 40 ورلڈکپ میچوں میں 35.48 کی اوسط سے 1100 رنز اسکور کیے ہیں۔

گلکرسٹ: گلکرسٹ نے تین ورلڈکپ مقابلوں (1999-2007) میں حصہ لیا اور تینوں میں ہی آسڑیلیا فاتح قرار پایا۔ گلکرسٹ جدید کرکٹ کے پہلے وکٹ کیپر بیٹسمین ہیں۔ انہوں نے مجموعی طور پر 31 ورلڈکپ میچوں میں 36.16 کی اوسط سے 1085 رنز اسکور کیے ہیں۔

جاوید میانداد: جاوید میانداد کو کرکٹ کے پہلے چھ ورلڈکپ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ 1992ء ورلڈکپ میں پاکستان کی جیت میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ مجموعی طور پر جاوید میانداد نے 33 ورلڈکپ میچوں میں 43.32 کی اوسط سے 1083 رنز اسکور کیے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔