پاکستانی آئین و قانون کا اصولی حوالہ

ایڈیٹوریل  ہفتہ 21 مارچ 2015
  پاکستان کا اپنا آئین اور قانونی نظام ہے جس کے تحت بین الاقوامی قوانین کے طریقہ کار کے اندر رہ کر سزائے موت پر عمل درآمد کیا جاسکتا ہے فوٹو:فائل

پاکستان کا اپنا آئین اور قانونی نظام ہے جس کے تحت بین الاقوامی قوانین کے طریقہ کار کے اندر رہ کر سزائے موت پر عمل درآمد کیا جاسکتا ہے فوٹو:فائل

پشاور میں ہونے والے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد دہشت گردوں کا مورال ڈاؤن کرنے کے لیے پاکستانی جیلوں میں قید خطرناک قیدیوں کو فوجی عدالتوں کے تحت سزائے موت دیے جانے اور ان پر عملدرآمد کے بعد نہ صرف عالمی میڈیا بلکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی طرف سے بھی پاکستان پر کڑی تنقید کی گئی اور بار بار یہ باور کرایا گیا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں موت کی سزا کو کالعدم قرار دیا جاچکا ہے۔

کئی جانب سے پاکستان کو ملنے والے جی ایس پی پلس کے درجے پر بھی انگلیاں اٹھیں کہ اگر پاکستان سزائے موت پر عملدرآمد جاری رکھتا ہے تو جی ایس پی پلس کا یہ درجہ واپس لیا جاسکتا ہے۔مذکورہ تناظر میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد کے حوالے سے جاری کیے جانے والے بیانات کے ردعمل میں دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ پاکستان کا اپنا آئین اور قانونی نظام ہے جس کے تحت بین الاقوامی قوانین کے طریقہ کار کے اندر رہ کر سزائے موت پر عمل درآمد کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد کے حوالے سے کسی بین الاقوامی قانون یا انسانی حقوق کے کنونشن کی خلاف ورزی نہیں کی جا رہی۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سزائے موت پر یک طرفہ پابندی کا خاتمہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں۔ یہ پاکستان کا بنیادی حق ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کرے اور سزائے موت پر عمل درآمد لوگوں کے حقوق کے تحفظ اور لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے کیا جا رہا ہے، اس معاملے سے جی ایس پی پلس کا درجہ متاثر نہیں ہوگا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں برسوں سے قید سزائے موت کے مجرم پھانسیوں کے منتظر ہیں۔ سزاؤں پر عملدرآمد جرائم کا گراف کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، جن ممالک کے قوانین سخت اور سزاؤں کا خوف ہو وہاں جرائم کی شرح بھی کم ہوتی ہے۔ یہ انسانی سرشت ہے کہ محتسب کا خوف نفس کو سرکشی سے باز رکھتا ہے، سخت سزاؤں کی وعید بھی اس لیے دی جاتی ہے کہ جرم کا ارتکاب کرنے والا انجام سے باخبر اور جرم سے اجتناب برتے۔ اقوام عالم کی جانب سے پاکستان میں سزائے موت پر نکتہ چینی مناسب طرز عمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب کہ کئی دیگر ممالک میں بھی موت کی سزا برقرار ہے۔

بریفنگ میں پاک بھارت تعلقات اور ممبئی حملہ کیس پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ ممبئی حملہ کیس کی سماعت میں تاخیر پاکستان کی وجہ سے نہیں بلکہ بھارت کے عدم تعاون کے رویے کی وجہ سے ہو رہی ہے کیونکہ بھارت نے پاکستان کے جوڈیشل کمیشن کو بھارت میں شواہد کے مشاہدے کے لیے رسائی نہیں دی، یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ پاکستان کو اس واقعہ کے واحد بچ جانے والے فرد تک بھی رسائی نہیں دی گئی اور عدالتی کمیشن کے ارکان کو اس وقت رسائی دی گئی جب اس میں بچ جانے والے واحد فرد کو بھی پھانسی دے دی گئی تھی۔

قابل افسوس امر یہ ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کی سماعت اس حقیقت کے باوجود ابھی تک شروع نہیں ہوئی کہ انتہاپسند سوامی نے اس واقعے میں بھارتی فوج کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کی تفصیلات بھی دی تھیں۔ دہشت گردی کے واقعات پر دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔ نائن الیون کے بعد سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرنے کے باعث خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، اس جنگ میں پاکستان نے بے پناہ نقصان اٹھانے کے باوجود دہشت گردوں و شرپسندوں کے خلاف آخری محاذ تک ڈٹے رہنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔

گزشتہ دنوں لاہور میں 2 گرجا گھروں پر خودکش حملوں پر بین الاقوامی ردعمل کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے بہت سے واقعات میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہلاک ہوئے ہیں، وہ تمام پاکستانی تھے اور مذہب یا اقلیت کی بنیاد پر اس واقعے کو اچھالنے کا کوئی جواز نہیں۔ پاکستان پر تنقید کرنے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں دیگر ممالک کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ جب آگ پھیلتی ہے تو وہ سرحدوں کا تعین نہیں کرتی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔