ہماری آبادی کتنی ہے

عبدالقادر حسن  ہفتہ 21 مارچ 2015
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

ایک بھولی ہوئی اطلاع ملی ہے کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ملکوں کی طرح ہمارے ہاں بھی مردم شماری ہو گی یعنی کوئی اٹھارہ برس بعد ہم حساب لگائیں گے کہ ہمارے گھر میں کتنے لوگ آباد ہیں اور ہمیں کتنے انسانوں کی خوراک وغیرہ کا بندوبست کرنا ہے۔

ان کی صحت اور دیگر ایسی ضروریات کا دھیان رکھنا ہے جو کسی بھی ریاست کی اولین ذمے داری ہوتی ہے اور پھر اٹھارہ برس بعد ہونے والی اس مردم شماری کے شروع شروع یعنی اٹھارہ برس پہلے میں جو پاکستانی پیدا ہوئے وہ ماشاء اللہ اب اٹھارہ برس کے بالغ پاکستانی ہیں جن کا شناختی کارڈ بھی بن سکتا ہے اور وہ ایک مکمل پاکستانی کے تمام حقوق کے مالک بن سکتے ہیں دوسرے لفظوں میں ہم نے یہ اٹھارہ برس ایک اندھا دھند بے خبری کے عالم میں گزار دیے ۔

جس کے دوران ہمیں اپنا پتہ بھی نہیں تھا کہ ہم کتنے ہیں کیسے ہیں ہم میں سے بچے جوان اور بوڑھے کتنے ہیں اور ہم کیسے پاکستانیت کی یہ زندگی بسر کر رہے ہیں اور اب تو ہم اپنی اس بے خبری اور لاپرواہی میں اس حد تک گم ہو چکے ہیں کہ ہم ہر روز دھماکوں میں مر رہے ہیں اور اپنے ہاتھوں زندہ جل بھی رہے ہیں مگر ہم اپنے نقصان سے یوں بے خبر اور لاپروا ہیں کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔

ایک طرف ہمارے دشمن نے ہم پر بھرپور وار کرنے شروع کر دیے ہیں اور وہ ہمیں چین نہیں لینے دیتا دوسری طرف ہم اپنے دشمن کی طرف دوستی کا ہاتھ بھی بڑھاتے ہیں پھر کبھی پاکستانیوں کے جذبات کا کچھ احترام کرتے ہوئے اس کی زبانی کلامی مذمت بھی کر دیتے ہیں لیکن جس گھر والے کو اپنے گھر کے افراد کی تعداد کا علم بھی نہ ہو وہ ان کی نگہداشت کیا خاک کرے گا وہی بات ہے کہ ہم ایک اندھا دھند بے خبر زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اخبار میں ایک خبر سے معلوم ہوا کہ ہم نے پورے اٹھارہ برس یعنی ایک نوجوان پاکستانی کی زندگی کے برابر کے عرصہ میں اپنی مردم شماری نہیں کی۔ مجھے کچھ یاد پڑتا ہے کہ برسوں پہلے جب بچپن تھا برطانوی دور تھا تو مردم شماری ہوئی تھی۔

ہمیں گھر کے بڑوں نے کہا تھا کہ کوئی پوچھے کہ تمہاری زبان کون سی ہے تو تم جواب میں اردو بتانا پنجابی نہ کہنا کیونکہ ہماری اسلامی قومی زبان پنجابی نہیں اردو ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان میں دو قوموں کا مسئلہ تھا اور مسلمان قوم ملک کے قومی معاملات میں اپنی انفرادیت ظاہر کرتی تھی اور اس پر بضد رہتی تھی دوسری طرف ہندو قوم تھی جس کی قومی زبان الگ تھی بلکہ جس کی پوری زندگی ہی الگ تھی۔

ہمارے اسکول میں برآمدے کے ایک طرف ساتھ ساتھ دو چھوٹے سے کمرے تھے جن میں سے ایک میں مسلم پانی رکھا جاتا تھا دوسرے میں ہندو پانی۔ ہمارے لیے ہندو پانی والا کمرہ ایک راز تھا اور ہم کبھی موقع پا کر اس میں جھانک بھی لیتے تھے اور اپنے ہندو ہم جماعتوں سے پوچھتے تھے کہ تمہارا پانی کیسا ہوتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بچپن سے ہی ہمیں ہندو مسلم کا فرق معلوم تھا اور یہ ہمارے لیے کوئی عجیب بات نہیں تھی، ہم ہندوؤں کے گھروں کے اندر نہیں جاتے تھے اور ان کے کسی برتن وغیرہ کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے اس سے ہندوؤں کے برتن وغیرہ ناپاک ہو جاتے تھے۔

ہمارے گھر میں گاؤں بھر کی عورتیں آتی جاتی تھیں لیکن کبھی کوئی ہندو عورت ہم نے اپنے گھر میں نہیں دیکھی تھی اور نہ ہی یہ بات کبھی محسوس کی تھی کیونکہ یہ سب پہلے سے معلوم تھا اور ہماری سوسائٹی کی ہندو مسلم نفسیات اور روایات کا حصہ تھا، بات مردم شماری کی ہو رہی تھی اور کون نہیں جانتا کہ یہ کتنی ضروری ہے اور ہمارا کوئی بھی ترقیاتی اور معاشی منصوبہ اس کے بغیر نہیں بن سکتا مگر یہ پورے اٹھارہ برس تک نہیں کی گئی اور اندازوں سے کام چلایا جاتا رہا جس کا نتیجہ ہم دیکھ رہے ہیں۔

ہمیں ہماری ضروریات کا صحیح اندازہ ہی نہیں۔ کارخانوں میں بننے والی ضروری اشیا کتنی ہونی چاہئیں اور وہ کتنی ہیں یہ ہمیں کارخانہ دار بتاتے ہیں کہ ان کے مال کی کھپت کتنی ہے اسی طرح بجلی پانی کا بھی ہمیں اس کی قلت وغیرہ سے پتہ چلتا ہے کہ کتنا ہے اور کتنا چاہیے، اب ان دنوں ہمیں اخباروں سے پتہ چل رہا ہے کہ پانی کا بحران سر پر کھڑا ہے رنگا رنگ بحرانوں کی اس سرزمین میں اب تازہ بحران پانی کا ہو گا اور پانی کا بحران جان لیوا بحران ہو سکتا ہے کیونکہ پانی صرف عام انسانی ضرورت ہی نہیں یہ صنعتی ضرورت بھی ہے۔

تازہ خبر تھی کہ فرنس آئل اور پانی کی قلت کی وجہ سے بجلی کی پیداوار کم ہوتی جا رہی ہے۔ شکر ہے کہ ہوا پر کسی حکمران کی حکومت نہیں ہے ورنہ اس کے بغیر ہم ختم ہی ہو جاتے۔ قدرت کو اپنے انسانوں کا پتہ ہے کہ وہ کتنے بے رحم بھی ہوسکتے ہیں۔ اس لیے اس نے دریا بھی بنائے ہیں اور ہوا بھی عام کر دی ہے کہ کچھ بھی ہو تم زندہ تو رہو اور تمہیں کسی وجہ سے تو خدا بھی یاد آتا رہے۔

امید ہے اب مردم شماری ہو جائے گی جس کے بعد ہم اپنے پاکستانیوں سے متعارف ہو جائیں گے اور ہمیں اپنے گھر کی خبر بھی ہو گی کہ ہم کتنے ہیں اور کس حال میں ہیں۔ جب کسی حد تک صحیح حالات کا علم ہو گا تو پھر اس کے مطابق کسی عمل کی توقع بھی کی جا سکے گی۔ یہ مردم شماری تو صرف قومی معلومات یعنی قوم سے تعارف کا ایک ذریعہ ہے جس کے بعد ہم اس کو سامنے رکھ کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔

اب تو میں اخباروں میں یہ تک بھی پڑھتا ہوں کہ فلاں قوم میں نوجوانوں کی تعداد مناسب ہے اور یہ قوم ان کے توانا دست و بازو سے ترقی کر سکتی ہے یہ اطلاع بھی ملتی ہے کہ فلاں قوم بوڑھی ہو گئی ہے یعنی بوڑھوں کی تعداد بڑھ گئی اور اسے زیادہ محنت کر کے ان معمر افراد کی ضروریات بھی پوری کرنی ہوں گی۔ غرض زندگی اپنی انسانی معلومات سے آگے بڑھتی ہے اور تو جو کچھ ہے کم از کم ہمیں اپنا تعارف تو ہونا چاہیے کہ ہم کتنے ہیں اور کون ہیں کتنے بچے، کتنے جوان اور کتنے بوڑھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔