کراچی میں امن کی بحالی پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی، وزیراعظم

ویب ڈیسک  ہفتہ 21 مارچ 2015
کراچی آپریشن دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خاتمے تک جاری رہے گا جس سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے،وزیراعظم۔ فوٹو :فائل

کراچی آپریشن دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خاتمے تک جاری رہے گا جس سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے،وزیراعظم۔ فوٹو :فائل

سیالکوٹ: وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی معاشی حب ہے جہاں قیام امن پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائےگی جب کہ قوم نے حکومت کو خرابیوں کو ختم کرنے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے۔

سیالکوٹ میں ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ ملک میں سے بڑا چیلنج دہشت گردی کا خاتمہ ہے جس کے لئے موجودہ  حکومت نے اقدامات شروع کئے،یہ ہمارا اصولی فیصلہ ہے کہ ملک کو پرامن بنانا ہے جب کہ ماضی میں حکیم محمد سعید کو کراچی میں شہید کیا گیا تو اپنی صوبائی حکومت ختم کرکے وہاں گورنر راج لگایا اور اب بھی امن کے لئے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں قوم کے ساتھ مذاق کیا جاتا رہا ہے، لاہور میں گرجا گھر کے باہر بربریت اور ظلم کی انتہا کی گئی جب کہ ملک میں ایسی بھی تنظیمیں ہیں جو ایک دوسرے کا گلہ کاٹتی ہیں تاہم اب فتنہ پرور گروہوں کو ملک میں رہنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

اس سے قبل سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ  ملک میں بندوق لے کر پھرنے کے کلچر کو ختم کرنے کا مصمم ارادہ کر رکھا ہے،کراچی آپریشن کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں اور یہ کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ شہر کو روشنیوں کا شہر بنانے کے لئے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کیا جارہا ہے جو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خاتمے تک جاری رہے گا جس سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، جمہوری حکومت اور قوم کا یہی ایجنڈا ہے کہ ملک کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد سے پاک کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر پہلے کسی حکومت نے ہاتھ  نہیں ڈالا لیکن ہم نے پہلے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور جب بات نہ بنی تو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی ہے جس میں خاص طور پر پاک فوج مبارکباد کی مستحق ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں ہمیشہ ترقی جمہوری دور میں ہوئی اور آمروں کے دور میں ملک پیچھا کی جانب گیا اس کے باوجود صرف سیاستدانوں کی کوتاہیاں بتائی جاتی ہیں اور آمروں کی کیوں نہیں سامنے لائی جاتیں، اگر 1999 کی حکومت کو ہٹایا نہ جاتا تو آج ملک کو بحرانوں کو سامنا نہ کرنا پڑتا، 1997 میں دہشت گردی، گیس اور بجلی  جیسے بحران نہیں تھے اور ان پر وقت خرچ نہیں ہوتا تھا اور تمام تر توجہ ترقیاتی کاموں پر ہوتی تھی تاہم اب بیشتر وقت بجلی،گیس اور دہشت گردی جیسے مسائل پر خرچ کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ترقیاتی کاموں پر بہت کم وقت دینے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چین سے4 ہزارمیگاواٹ بجلی خریدرہے ہیں، کوئلے اور ایل این جی سے سستی بجلی پیدا ہوگی اور 2017 کے اختتام تک 10 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی پیدا ہوگی جس کے بعد بجلی کی تمام ترضروریات پوری کی جاسکیں گی۔

وزیراعظم نے سیالکوٹ سے لاہور ایکسپریس وے بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب سوچنا پڑتا ہے کہ پہلے بجلی بنائیں یا موٹروے، ہمیں اتنے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے کہ ان کے تصور سے بھی خوف آتا ہے جب کہ انتخابی نعروں پر نہیں عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں اور 2018 میں عوام کے سامنے سرخرو ہوکر پیش ہوں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔