دہرا تشدد اور دو تجاویز

حمید احمد سیٹھی  اتوار 22 مارچ 2015
h.sethi@hotmail.com

[email protected]

ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اب یہ ردعمل ایک معمول کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جو بھی شخص اپنے حق کے حصول کے لیے چاہے وہ کتنا ہی حق اور سچ پر ہو اگر قانون اپنے ہاتھ میں لے گا وہ فی الفور قابل دست اندازیٔ پولیس ہو گا لیکن متعلقہ شخص کا مؤقف معلوم کریں تو وہ یہی کہے گا کہ اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔

زیادتی ہوئی ہے اور اسے قانون نافذ کرنے اور اس ظلم و زیادتی کا تدارک کرنے والی ایجنسی یا اتھارٹی پر اعتماد نہیں۔ جب کسی فرد یا کمیونٹی کا رویہ ایسی صورت اختیار کرنے لگے تو ارباب اختیار کو فوری سر جوڑ کر بیٹھنے، معاملات کا جائزہ لینے اور حل نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دیر کر دیں تو اندھیر مچ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

گزشتہ اتوار پندرہ مارچ 2015ء کو یوحنا آباد کے دو گرجا گھروں میں اتوار کی عبادت کے دوران دو خودکش بمباروں نے خود کو داخلی دروازوں پر بلاسٹ کیا تو18 جانوں کا جن میں 7مسلمان بھی تھے نقصان ہوا۔

یہ المناک واقع قابل افسوس و صد مذمت تو تھا ہی لیکن ہوا یہ کہ متاثرین، مشتعل اور غصہ سے بھرے افراد نے جن میں بلاشبہ شرپسند اور ہمدرد بھی شامل ہو گئے تھے سانحہ کے بعد کم و بیش ڈیڑھ دن تک توڑ پھوڑ جلائو گھیرائو لوٹ مار بلکہ قتل عمد کا وہ بازار گرم کیا کہ ہمدرد متاثرہ و مغموم لوگ اب شرمسار ہونے لگے ہونگے۔

اتوار کا سانحہ اور اس کا شرمناک ردعمل تو ساری دنیا نے دیکھا لیکن اس کا تجزیہ کرنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم کامیابی سے واقعی ہمکنار ہو رہے ہیں یا دہشت گردوں کا پلڑا ابھی تک بھاری ہے۔

یہ خیال بھی بے وزن نہیں کہ افسوس ناک وقوعے پر متاثرین اور ان کے ہمدردوں کا متشددانہ رویہ شاید کسی گزشتہ اسی نوعیت کے صدمے کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہے تو حکومت اور انتظامیہ کو اپنے اقدام اور رویوں میں TRANPARANCY کو اجاگر کرنا ہو گا تا کہ کسی طبقے یا فرقے کے دل میں زخم خوردگی کا عنصر گھر نہ کر سکے۔

اخبار پڑھنے والوں اور ٹی وی دیکھنے والوں کو ایسی خبریں کثرت سے پڑھنے، سننے، دیکھنے کو ملتی ہیں جو ارتکاب جرائم اور برائیوں کی مشتہری سے بھری ہوتی ہیں لیکن جرائم پر گرفت اور سزائوں کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

ہر وقت اور ہر جگہ دل و نگاہ کو منفی، دلخراش، متشدد، جرائم زدہ اور خطرناک خوراک ملے تو بعض لوگوں کو جرم دھوکا تشدد، بدی اور غلط کام کرنے اور برا سوچنے کی تحریک ملتی ہے جب کہ بدی کا برا انجام دیکھنے، سننے سے بھلائی کی طرف رغبت ہوتی ہے۔ چلیے سب اچھا نہ سہی سبھی کچھ برا تو نظر نہ آئے۔ متعلقہ لوگوں اور ذمے داروں کو اس بارے سوچنا چاہیے۔

فوجداری جرائم میں پہلا مرحلہ پولیس کی طرف سے جرم کی تفتیش ہے۔ اگر تفتیش مبنی بر حقائق ایماندارانہ، کسی سفارش یا دبائو کے بغیر ہو کر چالان جلد از جلد عدالت میں پیش کر دیا جائے اور عدالت بھی بغیر لمبی اور بالاوجہ التوا پر التوا دینے کے فیصلہ سنا دے تو انصاف کے تقاضے پورے ہوتے نظر آئیں گے۔

آج کل عدالت کی کوئی مثل بطور نمونہ اٹھا لیں اور مندرجہ بالا سات آٹھ مراحل کو ایک ایک کر کے پرکھیں تو مقدمے کی فائل اپنی حالت زار خود بتا دے گی۔ اگر فیصلے میں سزا سنا بھی دی گئی تو ابھی اپیل کا مرحلہ تو باقی ہو گا اس لیے زبان پر ایک شعر کا مصرع اتر آیا ہے؎

کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر

کیس کے ٹرائل سے پہلے مرحلے یعنی پولیس چالان پر کیس کی بنیاد پڑتی ہے لہٰذا کسی پولیس اسٹیشن پر سے کسی اہم مقدمے اور سنگین جرم کی زیر تفتیش فائل اٹھا دیکھیے۔ نوٹ کرنے کی بات ہے کہ صرف FIR ہی درج کروا لینا کوئی آسان اور روٹین کام نہیں ہے۔ اس کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور یہ وہی شخص جانتا ہے جو مدعی یعنی سائل بن کر تھانے کے محرر کے سامنے پیش ہو کر ابتدائی رپورٹ درج کرانے جاتا ہے۔

پولیس تفتیشی فائل کا معائنہ بتائے گا کہ تفتیش کا رخ صحیح سمت کے بجائے کھلے میدان کی طرف ہے اور کارروائی کے نتیجے میں کسی بھی شخص کو بطور ملزم لپیٹ میں لیا جا سکتا ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد سے سودے بازی طے کرنا ہوتا ہے۔ وہ تفتیش جسے تین ماہ میں چالان کی شکل دے کر عدالت میں پیش کر دیا جانا چاہیے سال بھر مدعیوں، ملزموں اور مشکوک افراد کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ جس کا مقصد رشوت اور سفارش کے معاملات طے کرنا ہوتا ہے۔

جب تک تھانہ کلچر کی تطہیر نہیں ہوتی جرم کا نتیجہ سزا پر منتج نہیں ہو سکتا اور جرائم میں کمی نہیں آ سکتی۔ تھانہ مافیا سیاست اور سفارش کی گرفت سے نکالے بغیر بہتری کی امید سراب ہے۔

ماتحت فوجداری عدلیہ اور ضلعی انتظامیہ کی بابت دو حکومتی فیصلوں نے انصاف میں تاخیر اور لاء اینڈ آرڈر پر منفی اثرات چھوڑے ہیں۔ قتل کے مقدمات پہلے مرحلے پر ضلع کے ایک سینئر مجسٹریٹ کے پاس ابتدائی ٹرائیل کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔ اس مجسٹریٹ کو Commitment Magistrate کہتے تھے۔ کیس کا چالان مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہوتا تو وہ ڈے ٹو ڈے ٹرائل کر کے استغاثہ اور صفائی کے گواہوں کے علاوہ ملزم کا بیان قلم بند کرتا۔

اگر استغاثہ کے گواہ ملزم یا ملزمان کو شناخت ہی نہ کرتے یا ان کو جرم کے ارتکاب کا ذمے دار ہی نہ گردانتے یعنی ان کے خلاف زیرو شہادت ہوتی تو مجسٹریٹ انھیں ڈسچارج کر دیتا لیکن ان کے خلاف گواہی ہوتی تو مقدمہ ریگولر ٹرائل کے لیے سیشن سپرد کر دیا جاتا جہاں ملزمان کی بریت ہوتی یا سزا یابی۔ اس طریقہ کار سے گواہ سیشن ٹرائل کے وقت منحرف نہ ہو سکتے اور زیرو EVIDENCE والے مقدمات کا بوجھ بھی سیشن جج پر نہ پڑتا۔ اب حالت یہ ہے کہ کمٹمنٹ ٹرائل ختم ہونے کی وجہ سے سیشن کورٹس کے پاس قتل کے مقدمات کی بھر مار ہے اور نتیجتاً قتل کے مقدمات تاخیر سے نمٹتے ہیں۔

لاء اینڈ آرڈر میں اضافے کی ایک وجہ حکومت کا مجسٹریسی سسٹم ختم کیا جانا ہے۔ اگلے وقتوں میں ایک ڈپٹی کمشنر یعنی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جس کے ساتھ مجسٹریٹس کی ٹیم ہوتی تھی اور امن قائم کرنے میں یہ ساری ٹیم کامیاب ہوتی تھی لیکن ماسوائے پنجاب کے دوسرے تینوں صوبوں میں مجسٹریسی سسٹم بحال ہو چکا ہے۔

خبر ہے کہ صوبہ پنجاب میں مجسٹریسی نظام بحال ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ایک بڑی غلطی کا ازالہ ہو جائے گا۔ یہی بات Commetment Proceedings  کی بحالی کے لیے بھی Valid ہو گی کیونکہ اس سسٹم سے تاخیر میں کمی ہو گی اور سیشن کورٹس سے قتل کے مقدمات کی Pendency میں خاطر خواہ فرق پڑے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔