جمہوریت کی افسوں گری

قادر خان  اتوار 22 مارچ 2015
qakhs1@gmail.com

[email protected]

دنیا کے بیشتر ممالک جمہوریت کے نام پر اپنے عوام کو محکوم بنائے ہوئے ہیں اور عوام بھی جمہوریت کے افسوں پر اپنی سوچوں کو پابند سلاسل کرچکے ہیں۔

مذاہب میں مذہبی پیشوائیت نے ’ہامان‘ بن کر غیر مرئی قوتوں سے خوفزدہ کرانے کے لیے انسان کی سوچوں پر اپنا قبضہ کیا تو دوسری جانب ’قارون‘ جیسے سرمایہ کاروں نے رزق کے بہتے سرچشموں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے عوام الناس کے لیے مختص رب کائنات کے خزانوں پر اجارہ داری قائم کرلی۔ ان دونوں استعارات کو بنا کر مطلق العنان حکومت ’فرعون‘ نے قائم کی اور آج فرعونی طرز حکومت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔

سوچا یہی گیا کہ شکل حکمرانی کو مزید اپنے ہاتھ میں کرنے کے لیے کچھ ایسا کیا جائے کہ بادشاہ کی طاقت بھی سرمائے کی محتاج ہوجائے اور سرمایہ دار اپنے گناہوں کی تلافی کے لیے مذہبی پیشوائیت کا محتاج ہوجائے، لہٰذا فرد واحد کی اصل طاقت کو لاکھوں افراد میں منتقل و بانٹنے کے لیے ایک پلان بنایا گیا جیسے جمہوریت کا پرفریب نام دیا گیا۔ تجارت، علم اور دولت کے حربوں سے معاشروں، ذہنوں اور مزاجوں کو تبدیل کرنے کا آغاز ہوا اور انسانوں کی ٹھوس قوت کو پرچیوں میں منقسم کرکے اور کرپشن کا عظیم راستہ کھول کر جمہور کی قوت کو لونڈی بنالیا گیا۔

وہ کام جو ایتھنز، روم، غرناطہ، بغداد اور فلورنس میں ممکن نہیں ہوا تھا، لندن پیرس اور نیویارک سے ہوتا ہوا آدھی دنیا کا مطالبہ بن گیا اور باقی آدھی دنیا کو کارل مارکس نے کمیونزم کی قربان گاہ پر لاکھڑا کیا۔ممکن ہے کہ جمہوریت کے شیدائیوں کو یہ بات گراں گزرے، لیکن کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے جمہوریت میں جیتنے والا اکثریت کا نمایندہ ہوتا ہے یا پھر اقلیت کا؟ جمہوریت میں جیتنے والا اکثریت کا نہیں بلکہ اقلیت کا نمایندہ ہوتا ہے، مثال کے طور پر ایک حلقے میں ایک لاکھ ووٹرز ہیں لیکن امیدواران کی تعداد دس ہے۔

9 امیدواران اگر برابر برابر کا ووٹ لیتے ہیں تو جیتنے والا وہی قرار دیا جاتا ہے جس نے کچھ ووٹ زیادہ لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ جیتنے والے کے ووٹ تمام امیدوارن کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کامیاب قرار دے کر اکثریت پر مسلط ہوجاتا ہے کیونکہ نمبروں کے ہیر پھیر میں وہ اقلیت کا نمایندہ ہونے کے باوجود اکثریت کے مقابلے میں جیت جاتا ہے اور دوسروں کے ووٹ اس کے خلاف ہونے کے باوجود اس لیے ضایع ہوجاتے ہیں کیونکہ مجموعی طور پر وہ تفرقے کا شکار ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر مقابلہ نہ کیے جانے کے سبب فرد واحد سے ہار جاتے ہیں۔

اس لیے وہ حقیر اقلیت کا نمایندہ ہونے کے باوجود اکثریت سے کامیاب شدہ قرار پاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت میں دوسرا سب سے بڑا ناقابل علاج نقص اہل علم پر جاہل کو فوقیت ہے۔ جاہل کو اہل علم سے زیادہ دانش مند قرار دیا جاتا ہے اور اہل علم کا درجہ جاہل کے برابر ہوتا ہے کیونکہ ووٹ سب کا ایک جیسا ہوتا ہے اور ہر ایک کا ایک ایک ہی ووٹ ہوتا ہے۔ یہاں سرمایہ دار اپنے سرمائے کے بل بوتے پر ووٹر پر حاوی ہوجاتا ہے اور ووٹر کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ سرمایہ دار کی سازش کا شکار ہوگیا ہے۔ علامہ اقبال نے ایسے یوں بیان کیا ہے۔

اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

ہم ہر انتخابات میں دیکھتے ہیں کہ سرمایہ داروں کے علاوہ کوئی اہل علم یا قابل ہنرمند و ماہر اس لیے کامیاب نہیں ہو پاتا کیونکہ اس کے پاس سرمائے کی وافر مقدار نہیں ہوتی۔ سرمایہ دار اپنی دولت کے بل بوتے پر الیکشن میں حصہ لیتا ہے اور پھر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مزید سرمایہ لگا کر ’عوامی نمایندوں‘ کو بھی خرید لیتا ہے۔جرمن فلسفی تھیوڈور ہرزل جو صہیونیت کے بانیوں میں سے تھا، اس نے اپنی ایک تصنیف ’’یہودی ریاست‘‘ میں جو اس نے 1896 میں لکھی تھی، کہا تھا۔

’’دانشمندانہ اور معقول فیصلے پارلیمانی اداروں سے سرزد نہیں ہوسکتے، عوامی خواہشات کی صحیح نمایندگی اور ریاست کے حقوق و مفادات کی محافظ وہی شخصیتیں ہوتی ہیں جو تاریخی قوتوں کی پیداوار ہوں۔ حکمرانی کے لیے یہی شخصیتیں پیدا ہوتی ہیں یہ عوام کا کام نہیں۔‘‘فرانسیسی ادیب والٹیئر جس کی تحریروں نے انقلاب فرانس کی راہ ہموار کی تھی ، جمہوریت کے بارے میں طنزیہ سوال کرتا ہے کہ ’’تمہاری موت آئے تو کیا پسند کرو گے؟ تمہیں ایک ہزار چوہے نوچ نوچ کر کھا جائیں یا شیر کا ایک ہی نوالہ بن جائو۔‘‘

جمہوریت دور جدید کی پیداوار ہے اور اقتدار کو سرمایے کی طاقت سے اپنے قبضے کا نام ہے جس میں وہی شخص یا جماعت کامیاب ہے جس نے جمہوریت کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی۔ اگر زمینی حقائق سے سمجھنا چاہتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی انتخابات آتے ہیں تو اگر ایک جانب معاشی نظام میں دسترس رکھنے والا ایک صاحب علم اور دوسری جانب کسی بھی سیاسی جماعت کا امیدوار کھڑا ہو تو پورا علاقہ سرمایے کی دولت سے رنگ دار بن جاتا ہے۔

جلسے جلوسوں میں عوام کی بڑی تعداد اس صاحب علم کے بجائے اپنی سیاسی جماعتوں کو اہمیت دیتی ہیں، اس میں قابلیت کے جوہر تلاش کرنے کے بجائے اس کی جاہلیت کے طمطراق سے متاثر نظر آتی ہے۔ اس کا موزانہ اہل علم سے نہیں کیا جاتا کہ امیدوار کی ایسی کون سے قابلیت ہے جس بنا پر عوام ایسے اپنا نمایندہ قرار دے کر اسمبلیوں میںبھیجا جائے۔

ایک قانون دان، جیسے ملکی قانون پر کماحقہ کمال حاصل ہوتا ہے وہ ایک جاہل کے مقابلے میں قانون سازی اسمبلی کا رکن بن جاتا ہے اور قوم کے مستقبل کے فیصلے اس ان پڑھ نمایندے کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں جو خود کو جمہوریت کی پیداوار قرار دیتا ہے۔ جسمانی قوت، ذہنی قابلیت اور دفاع کے لیے خصوصی تربیت لینے والا ایک ایسے شخص سے ہار جاتا ہے جو اپنے قدموں پر درست طریقے سے کھڑا بھی نہیں ہوتا۔

آزاد عدلیہ کے نعرے بلند کرنے والے اسی جج کے سامنے جیت جاتے ہیں جہاں ان کے مقدمات اور اہم فیصلے ایک قلم کی حرکت کے محتاج ہوتے تھے۔ انسان کی زندگی میں اس کے ہر پہلو کو مذہب کی روشنی میں چلانے والے ، جمہوریت کے اس نظام میں فیل ہوجاتے ہیں اور اس کی صدا پر رکوع و سجود کرنے والے جمہوریت کے نام پر سرمایہ داروں کے سامنے جھک جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک ہنرمند قابل اور ذہن پیشہ وارانہ اہلیت کے حامل شخص پر سیاسی اور سرمایہ دارنہ تشخص کو کامیابی ملتی ہے۔قدیم ہندو تہذیب، روما اور یونان کی تہذیبیں ، اسلام کی فتوحات اور اٹلی کی نشاۃ ثانیہ کی درخشاں مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ تہذیبوں کے احیا اور ترقی کے لیے کاغذ پر ووٹ اور ووٹ سے اقتدار لازمی نہیں ہے۔

آج ہمیں اس جمہوری دور میں تہذیبوں کی ترقی کا فقدان نظر آئے گا۔ یہ جمہوریت کے ہی ثمرات ہیں کہ اگر اقوام متحدہ کے تمام ممالک اسرائیل کے خلاف ووٹ دے بھی دیں تو ایک ویٹو پاور ملک، اپنے جمہوری ووٹ کا استعمال کرکے مجموعی ووٹوں کو معطل کردیتا ہے۔ یہ جمہوریت کے ہی ثمرات ہیں کہ جب مشرقی تیمور کا معاملہ ہو تو اقوام متحدہ سر بکف ہوجاتی ہے لیکن جب بات کشمیر اور فلسطین کی آئے تو کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود جمہوریت نیند سے بیدار نہیں ہوتی۔ یہ جمہوریت کی ہی کارستانی ہے کہ اپنے فیصلے خود نہیں کیے جاسکتے بلکہ عوام پر مسلط کردیے جاتے ہیں۔

قانون سازی کے عمل میں حقیقت سے زیادہ مفادات کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ جمہوریت کے ہی کمالات ہیں کہ پرائی جنگوں کو خود پر نافذ کرکے لاکھوں عوام کے خون پسینے کی کمائی سے فلاح کے منصوبے شروع کرنے کے بجائے جنگی ساز و سامان اور آلات حرب پر انسانوں کی تباہی کے لیے خرچ کیے جاتے ہیں۔

یہ جمہوریت ہی ہے کہ تعلیم کی وزرات کے وزیر انگوٹھا چھاپ رہے ہیں۔ دفاع کے لیے ایسے افراد وزیر بن جاتے ہیں جنھیں ایک فٹ سے دور دکھائی بھی صحیح نہیں دیتا، خارجہ پالیسوں اور معیشت پر ایسے افراد کو تعینات کردیا جاتا ہے جس کی وفاداریاں دنیا کے طاقت وروں اور سرمایہ داروں کے ساتھ ہوتی ہیں۔

پارلیمان میں بھیڑ بکریوں کی ایک بڑی تعداد سوچے سمجھے بغیر ایسے قوانین و پالیسیاں بنانے کی منظوری دے دیتے ہیں جن کے لیے ان کی جماعتوں کے لیڈروں نے حکم دیا ہوتا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ اس عبوری دور میں جہاں قابلیت اور اہلیت پر جاہلیت کو فوقیت دی جاتی ہے جمہوریت کا افسوں کب تک گمراہ کن تباہی لاتا رہے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔