شرح سود میں آدھا فیصد کمی

ایڈیٹوریل  پير 23 مارچ 2015
جولائی سے فروری 2015ء کے دوران بیرونی اثاثے بڑھے ہیں جب کہ بینکاری نظام کے خالص اثاثوں میں کمی ہوئی ہے۔ فوٹو : فائل

جولائی سے فروری 2015ء کے دوران بیرونی اثاثے بڑھے ہیں جب کہ بینکاری نظام کے خالص اثاثوں میں کمی ہوئی ہے۔ فوٹو : فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آیندہ دو ماہ کے لیے سود کی شرح ساڑھے آٹھ فیصد سے آدھا فیصد کم کر کے آٹھ فیصد کر دی ہے۔ مرکزی بینک کے بورڈ اجلاس میں بتایا گیا کہ بیشتر معاشی عشاریوں میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ جہاں تک شرح سود کے تعین کا معاملہ ہے تو اس کا اختیار ماہرین اقتصادیات کے ہاتھ میں ہے جن کے بارے میں مالیاتی جادوگر کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔ اب ایک سو روپے میں سے پچاس فیصد شرح سود میں کمی کے فوائد و نقصانات کیا ہونگے اس موضوع پر بھی سیر حاصل بحث تو ماہرین معاشیات ہی کے سزاوار ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اس حکومتی فیصلے کا عوام کی زندگی پر کیا اثر مرتب ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری وضاحتی بیان کے مطابق مہنگائی کی شرح چار سے پانچ فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے جو کہ زیادہ نا قابل برداشت نہیں۔ شرح نمو میں بھی اضافے کے امکانات کی نوید دی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کی رقوم کی آمد اور تیل کی کم قیمتوں کی بنا پر بیرونی منظرنامہ بہتر ہوتا جا رہا ہے نیز حکومت کی مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششیں بھی درست سمت میں بتائی گئی ہیں لیکن ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ محصولات کی وصولی کی نمو سست روی کا شکار ہے۔ جہاں تک زراعت کا تعلق ہے تو اس میں خریف کی بڑی فصلوں خصوصا کپاس اور چاول کی بہتر پیداوار اور ربیع میں گندم کے لیے سازگار موسمی حالات کے پیش نظر جی ڈی پی کی نمو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں زیادہ رہنے کی توقع ہے۔

جولائی سے فروری 2015ء کے دوران بیرونی اثاثے بڑھے ہیں جب کہ بینکاری نظام کے خالص اثاثوں میں کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ ششماہی میں نجی شعبے نے 158.9 ارب روپے بینکوں کا قرض لیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں لیے گئے قرضے سے ڈیڑھ سو ارب روپے کم ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ شرح سود 13سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے جس کے بعد توقع کی جا سکتی ہے نجی شعبہ مزید قرضہ جات لے گا اور یوں وطن عزیز میں اقتصادی اور کاروباری سرگرمیوں میں لامحالہ تیزی آئے گی۔1

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔