بھگت سنگھ کی یاد میں…

ایم اسلم کھوکھر  پير 23 مارچ 2015

جنگ آزادی کے عظیم سپاہی بھگت سنگھ کو اس حقیقت کا پورا پورا ادراک تھا کہ آزادی ایسی چیز نہیں جوکہ خیرات میں مل جائے نہ ہی آزادی ایسی چیز ہے کہ سامراج آزادی تھالی میں رکھ کر محکوم قوم کو پیش کردے، بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ آزادی قربانی کی طالب ہوتی ہے اور تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کی آزادی سلب کی گئی تو پھر اس قوم کے ہیروز نے آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کی، اس قوم کے بہادر لوگوں نے جنگ کی، قوم کے وفاداروں نے اپنے ہیروز کا پورا پورا ساتھ دیا اور بزدلوں نے ہتھیار ڈالے۔

ان تمام حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی بھگت سنگھ نے آزادی کے حصول کے لیے پرتشدد راستہ اپنایا۔ یوں بھی عظیم مفکر کارل مارکس کا قول ہے کہ قوت کا جواب قوت ہی ہے۔ پھر کیونکر ہم یہ تصور کرلیں کہ آزادی عدم تشدد کے فلسفے پر عمل پیرا ہوکر حاصل کی جاسکتی ہے جیساکہ مہاتما گاندھی نے عدم تشدد کا فلسفہ پیش کیا تھا۔ بہرکیف ہماری آج کی گفتگو کا موضوع ہے بھگت سنگھ کی شخصیت۔

بھگت سنگھ نے 28 ستمبر 1907 کو گاؤں بگیانوالہ چک نمبر 105 گ،ب تحصیل جڑانوالہ ضلع لائلپور، موجودہ نام فیصل آباد میں آنکھ کھولی۔ تحصیل جڑانوالہ جوکہ فیصل آباد سے فقط چالیس منٹ کی مسافت پر آباد ہے۔ تحصیل جڑانوالہ نہ صرف زرعی اعتبار سے بڑی زرخیز ہے بلکہ اس تحصیل نے انقلابی جدوجہد کرنے والے مجاہد بھی قوم کو دیے، جن میں بھگت سنگھ کے بعد عظیم مارکسی دانش ور، ادیب، ڈرامہ نگار راولپنڈی سازش کیس کے اسیر بہشت نگر کسان تحریک کے قائد پاکستان مزدور کسان پارٹی کے بانی میجر اسحاق بھی شامل ہیں۔ بہرکیف بھگت سنگھ کا خاندان علاقے کا ایک بااثر زمیندار خاندان تھا۔ بھگت سنگھ کے والد کشن سنگھ تھے اور سندھو جٹ قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ جب کہ بھگت سنگھ کی والدہ ودیا وتی تھیں۔

بھگت سنگھ نے ابتدائی تعلیم خالصہ ہائی اسکول سے حاصل کی۔ یہ اسکول عبداللہ پور جڑانوالہ روڈ فیصل آباد میں ہے جب کہ ترقی پسند نظریات بھگت سنگھ کو گویا وراثت میں ملے تھے۔ کیونکہ بھگت سنگھ کے والد کشن سنگھ و چاچا جنگ آزادی کے نام ور و سرگرم کارکن تھے۔ بھگت سنگھ کے دادا ارجن سنگھ بھی ہندو آریا سماج کے سرگرم کارکن تھے۔ سانحہ جلیانوالہ باغ بھگت سنگھ کے سامنے رونما ہوا تھا۔ وہ اپنے بزرگوں کے ساتھ امرتسر گیا تھا اور اس احتجاج میں شریک تھا جو جلیانوالہ باغ میں کیا جا رہا تھا اور جس کے نتیجے میں جنرل ڈائر کے حکم سے ہونے والی فائرنگ میں لگ بھگ چار سو افراد جاں بحق و پندرہ سو زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھگت سنگھ کی عملی سیاست کا آغاز تھا۔ اس وقت بھگت سنگھ کی عمر فقط 11 برس و 8 ماہ تھی، 14 برس کی عمر میں اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی جو ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں پرامن لوگوں کو قتل کرنے کے خلاف کیا گیا تھا۔ 1925 میں 18 سالہ بھگت سنگھ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لاہور چلا گیا اور نیشنل کالج میں داخلہ لے لیا۔ مگر اس وقت وہ کرتی کشن پارٹی نوجوان بھارت سبھا برٹش سماج مخالف پارٹی نیا نام H.S.R.A کی رکنیت حاصل کرچکا تھا، 1925 ہی میں جب کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا قائم ہوئی تو بھگت سنگھ نے اس پارٹی کی بھی رکنیت حاصل کرلی۔ بھگت سنگھ نظریاتی طور پر رام پرشاد بسمل و اشفاق اللہ خان سے متاثر تھا۔

اس سے قبل وہ 1920 میں مہاتما گاندھی کی تحریک عدم تعاون میں بھی پیش پیش تھا۔ 1928میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے بھگت سنگھ کے ہاتھ میں بندوق تھمادی، اگرچہ بھگت سنگھ ایک دانش ور بھی تھا اور اچھا لکھنے والا تھا۔ واقعہ یہ ہوا تھا کہ لجپت رائے جوکہ لاہور کے مشہور اسپتال گلاب دیوی کا بانی و ادیب تھا اور 1924 میں اس کے مضامین ٹریبیون میں شایع ہوئے تھے۔ لجپت رائے نے رنگ و ذات کی بنیاد پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ لجپت رائے اس بات کا بھی حامی تھا کہ مسلم اکثریت والے علاقوں کو جن میں سندھ، مغربی پنجاب، مشرقی بنگال، NWFP ہیں، علیحدہ صوبے بنا دیے جائیں۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے لجپت رائے نے ایک تحریری مہم شروع کر رکھی تھی اور اپنے مطالبات کے حق میں وہ مضامین بھی لکھتا رہتا تھا۔

اس سلسلے میں برٹش سرکار نے ایک کمیشن تشکیل دیا جسے سائمن کمیشن کا نام دیا گیا۔ یہ کمیشن بھارت کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر اس کمیشن میں کوئی بھی بھارتی شریک نہ تھا، جس پر لجپت رائے نے اس کمیشن کی لاہور آمد کے موقعے پر ایک پرامن مظاہرہ کیا، جس کی پاداش میں اس کو گرفتار کرکے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ 63 سالہ لجپت رائے یہ تشدد برداشت نہ کرسکا اور جاں بحق ہوگیا۔ لاہور پولیس و سپرنٹنڈنٹ پولیس جیمس اسکاٹ جوکہ لجپت رائے کی موت سے لاتعلق ہوگیا۔ لجپت رائے بھگت سنگھ کا نظریاتی ساتھی تھا، بھگت سنگھ نے پختہ عزم کیا کہ وہ لجپت رائے کا بدلہ لے گا، مگر جب بھگت سنگھ نے جیمس اسکاٹ پر قاتلانہ حملہ کیا تو غلط شناخت کے باعث ASP جان سانڈرز کو قتل کردیا۔

یہ ذکر ہے 1928 کا۔ 1929 میں بھگت سنگھ نے دت کے ساتھ مل کر کیپٹل اسمبلی پر دستی بموں سے حملہ کیا اور پستول سے فائرنگ کرتے ہوئے انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا اور اسی برس یعنی 1929میں بھگت سنگھ و دت گرفتار ہوگئے۔ مقدمہ چلا، نامور وکیل آصف علی نے ان دونوں کی پیروی کی، مگر بھگت سنگھ و دت کو عمر قید کی سزا ہوگئی، مگر یہ آغاز تھا۔ کیونکہ 1929میں لاہور میں ایک اسلحہ ساز فیکٹری پکڑی گئی، الزام بھگت سنگھ و اس کے ساتھیوں پر آیا کہ یہ لوگ اسلحہ سازی میں ملوث ہیں، کچھ لوگ گرفتار بھی ہوگئے، چند ایک سلطانی گواہ بن گئے جن میں ایک سوبھا سنگھ بھی تھا جس کو اس غداری کے عوض برٹش سرکار سے ’’سر‘‘ کا خطاب ملا۔ اب جو مقدمہ چلا تو بھگت سنگھ و دت کو سیشن جج مڈلٹن نے ان کو سزا سنا دی۔ اور 23 مارچ 1931 کو اس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے بھگت سنگھ ، دت و دیگر دو ساتھیوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔

بھگت سنگھ پر چلائے جانے والے مقدمے نے خاصی شہرت حاصل کی اور بھگت سنگھ کو بھرپور عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ خوش آیند بات یہ ہوئی کہ عوامی شعور بیدار ہوچکا تھا۔ یہی سبب تھا کہ 1946 میں برصغیر میں انقلابی فضا پیدا ہوچکی، 1947 کو برصغیر آزاد ہوگیا اور برطانوی سامراج کو اپنا بوریا بستر گول کرنا پڑا۔ آج 23 مارچ 2015 بھگت سنگھ کی 84 ویں برسی کے موقعے پر بھگت سنگھ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اگرچہ عوامی مسائل بے شمار ہیں مگر ہم پہلی ترجیح کے طور پر ملک سے کم ازکم جہالت کا خاتمہ ضرور کریں گے اور موجودہ اور آنے والی نسلوں کو زیور تعلیم سے ضرور آراستہ کریں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔