ناقص کارکردگی نے حکام کو خواب غفلت سے جگادیا

سلیم خالق  پير 23 مارچ 2015
معین خان کے عہدے کی معیاد ورلڈکپ کے ساتھ ختم ہو چکی مگر درحقیقت ان سے 2 اور دیگر سلیکٹرز سے ایک سال کا معاہدہ ہوا تھا، ذرائع۔ فوٹو : فائل

معین خان کے عہدے کی معیاد ورلڈکپ کے ساتھ ختم ہو چکی مگر درحقیقت ان سے 2 اور دیگر سلیکٹرز سے ایک سال کا معاہدہ ہوا تھا، ذرائع۔ فوٹو : فائل

کراچی: ورلڈکپ میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی نے بورڈ حکام کو بھی خواب غفلت سے جگا دیا، مستقبل میں بہتری کیلیے مختلف اقدامات پر رواں ہفتے کے اجلاس میں غور ہوگا۔

دورہ بنگلہ دیش میں قومی کرکٹ اسکواڈز کو 3 کپتانوں کا ساتھ حاصل ہوگا، ون ڈے میں قیادت صہیب مقصود کو سونپی جاسکتی ہے، اسکواڈ میں محمد حفیظ، سعید اجمل، فواد عالم اور شعیب ملک کی واپسی ہوگی، یونس خان کی ون ڈے ٹیم میں شمولیت کا کوئی امکان نہیں، کھلاڑیوں کا انتخاب نئی سلیکشن کمیٹی کرے گی، قبل از وقت فارغ کیے جانے پر معین خان و دیگر سلیکٹرز کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا خوف بھی پی سی بی کو ستانے لگا، زرتلافی کا آپشن زیرغور مگر اس میں بھاری رقم خرچ ہو جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق آئندہ ماہ دورئہ بنگلہ دیش میں قومی کرکٹ ٹیم کو 3 کپتانوں کا ساتھ حاصل ہو گا، مصباح الحق ٹیسٹ اور شاہد آفریدی ٹی ٹوئنٹی میں فرائض انجام دیں گے، ون ڈے میں قیادت سنبھالنے کیلیے صہیب مقصود فیورٹ امیدوار ہیں، ذرائع نے نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ گوکہ یونس خان ون ڈے ریٹائرمنٹ سے انکارکرکے کیریئر جاری رکھنے کا اعلان کر چکے مگر بورڈ انھیں واضح پیغام دینے والا ہے کہ ’’آپ کی خدمات کا شکریہ، اب صرف ٹیسٹ کھیلنا چاہتے ہیں تو کھیلیں‘‘، یوں سینئر بیٹسمین کا قیادت کے حوالے سے خواب بکھر جائے گا،محمد حفیظ کے آپشن پر غور ہوا مگر تجویز مسترد کر دی گئی۔

بورڈ کے ایک حلقے کا خیال ہے کہ ان کے آنے سے ٹیم میں کئی مسائل شروع ہو جاتے ہیں،حکام کو ماضی میں سینٹرل کنٹریکٹ و دیگر معاملات پر ان کی مداخلت پسند نہیں آئی تھی، البتہ آل راؤنڈر کے ڈسپلن اور کمٹمنٹ کے سب معترف ہیں۔ بولنگ ایکشن کلیئر کرانے کے بعد آف اسپنر سعید اجمل اب قومی ٹیم میں واپسی کیلیے تیار ہیں، پی سی بی انھیں دورئہ بنگلہ

دیش میں آزما کر دیکھے گا کہ کتنے کارآمد ہیں، اس سیریز پر ان کے مستقبل کا دارومدار ہے، البتہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ سعید اجمل میں قائدانہ صلاحیتیں بالکل بھی موجود نہیں، ایسے میں ون ڈے میں کپتانی کا قرعہ فال صہیب مقصود کے نام نکل سکتا ہے، وہ تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے انسان ہونے کے ساتھ باصلاحیت بیٹسمین بھی ہیں،صرف ورلڈکپ میں اوسط درجے کی پرفارمنس اور کوارٹر فائنل میں مصباح الحق کی حکم عدولی ان کیخلاف جا سکتی ہے۔ ون ڈے اسکواڈ میں ریٹائر ہونے والے شاہد آفریدی اور مصباح کی جگہ سعید اجمل اور فواد عالم شامل ہوں گے، تجربہ کار آل راؤنڈر شعیب ملک کی واپسی متوقع جبکہ بورڈ نئے کھلاڑیوں کو بھی آزمانا چاہتا ہے۔

دوسری جانب یہ بات یقینی ہو چکی کہ موجودہ سلیکشن کمیٹی اب فارغ ہے، نئے سلیکٹرز بھی تنخواہ دار ہوں گے، نجم سیٹھی کے قریب سمجھے جانے والے معین خان کو انھوں نے مختلف عہدے دیے تاہم اب سابق سربراہ خود جون میں پی سی بی سے الگ ہو کر آئی سی سی کے کاغذی صدر کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں، ایسے میں موجودہ چیئرمین شہریار خان اب اپنے فیصلے کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے نئی سلیکشن کمیٹی تشکیل دینے کا پہلے ہی اعلان کر چکے، ان کی نظر میں محسن خان اور وسیم باری سمیت بعض سابق کرکٹرز موجود ہیں، رواں ہفتے رفقا سے مشاورت کے بعد کوئی قدم اٹھائیں گے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ گوکہ بورڈ نے یہ تاثر دیا کہ معین خان کے عہدے کی معیاد ورلڈکپ کے ساتھ ختم ہو چکی مگر درحقیقت ان سے 2 اور دیگر سلیکٹرز سے ایک سال کا معاہدہ ہوا تھا، قبل از فارغ کیے جانے پر سلیکشن کمیٹی کی جانب سے قانونی چارہ جوئی بھی خارج از امکان نہیں، ایک راستہ انھیں زرتلافی کی ادائیگی کا ہے جو بورڈ کو بہت مہنگا پڑے گا، اس مسئلے سے نکلنے کیلیے چیئرمین صلاح و مشورہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔