قومی ایوی ایشن پالیسی 2015ء

قادر خان  بدھ 25 مارچ 2015
qakhs1@gmail.com

[email protected]

پاکستان میں سماجی، سیاسی مسائل سمیت لاتعداد ایسے معاملات التوا میں پڑے ہوئے ہیں جس کے سبب اہم ایشوز پر سنجیدہ پالیسیاں ندارد ہیں۔ تاہم ان تمام دگرگوں حالات کے باوجود ملکی سلامتی کے اہم ادارے سول ایوی ایشن کی پالیسی کو ترتیب دینے کا عمل شروع کیا گیا۔

قومی ایوی ایشن پالیسی کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز نے شریک ہو کر ایک قومی پالیسی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ قومی ایوی ایشن کے حوالے سے پالیسی کافی عرصے بعد بنائی گئی ہے اور اس پالیسی کو بنانے کے لیے حکومت نے تمام اسٹیک ہولڈرز، ایوی ایشن کے ماہرین اور دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کی خدمات حاصل کیں۔

نئی پالیسی کو ملکی ایوی ایشن کی تاریخ کا اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ دنیا میں ترقی یافتہ ممالک میں سہل سفر کے لیے عوام کو جدید سہولیات کی یقینی فراہمی کو ممکن بنایا جاتا ہے اور کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے مواصلات کا بہتر و فعال نظام ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ قومی ایوی ایشن پالیسی میں اس امر کو اہمیت دی گئی ہے کہ محفوظ فعال ائیر ٹرانسپورٹیشن اسٹرکچر کو ترقی دینے کے لیے کاروبار کے بہتر مواقع اور وسائل کے موثر استعمال کے ذریعے اقتصادی سرگرمیوں کو بڑھایا جائے۔

اس میں ایک اہم نقطہ ایوی ایشن سیفٹی اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس کے ریگولیٹری اور خدمات کی فراہمی کے کاموں کو علیحدہ علیحدہ کیا جانا ہے، ساتھ ہی مثبت پالیسی یہ بھی ہے کہ سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ کو خودمختار بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

قومی ایوی ایشن پالیسی میں آزاد ائیر سروسز ایگریمنٹس کرنے، اوپن اسکائی پالیسی اختیار کرنے اور ہوائی اڈوں کے آپریشن اور انتظام کے لیے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تصور کو فروغ  کے ساتھ ساتھ عالمی کمپنیوں کے ساتھ مل کر پبلک پارٹنرشپ کے موزوں ماڈل تلاش کرنے کی پالیسی کا مرتب ہونا بھی ایک مثبت سوچ کی علامت ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ قومی ایوی ایشن پالیسی میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ تجارت و سیاحت ملکی اہم صنعت ہے لہٰذا اس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

دنیا کے بیشتر ممالک کا ذریعہ آمدنی سیاحت سے وابستہ ہے اور ملک کو کیثر زر مبادلہ اس ذرایع سے حاصل ہوتا ہے اگر اس شعبے پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے تو یقینی طور پر پاکستان کو سیاحوں کی جنت بنایا جا سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے جس قسم کے حالات پاکستان میں وقوع پذیر ہیں وہاں غیر ملکی سیاحوں کو آنے کی ترغیب دینا بذات خود ایک چیلنج ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں فضائی مسافروں کو اپنے سفر اور کارگو کے حوالے سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس حوالے سے ان کی مشکلات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ کچھ عرصے سے اس حوالے سے کافی شکایات سامنے آئیں جس میں مسافروں کے سامان کسی دوسرے شہر پہنچ جاتے تھے جب کہ سفر کے حوالے سے متعدد ایسے واقعات بھی سامنے آئے جس میں وی آپی کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔

فضائی قوانین کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ اقربا پروری اور سیاسی نفوذ کے وجہ سے مسافروں کو شدید کوفت کا سامنا کرنا پڑا اور اسی طرح کے کچھ ایسے واقعات میڈیا میں رپورٹ ہونے کی بنا پر حکومت کو سبکی کا سامنا ہوا۔ لہٰذا ان معاملات پر توجہ دینے کی انتہائی ضرورت ہے۔

ائیر پورٹس سے پیشہ ورانہ تربیت کے حامل چیف آپریٹرنگ افسران کی تعیناتی ایک اچھا اقدام ہو گا۔ اس حوالے سے ہوائی اڈوں پر کام کرنے والے تمام اداروں بشمول اے این ایف، کسٹمز اور امیگریشن کا آپریشنل کنٹرول چیف آپریٹنگ آفسرز کو دینے کی پالیسی میں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ایسے افسران کو کسی سیاسی بنیادوں پر تعینات نہ کیا جائے کیونکہ بیشتر اوقات یہی دیکھا جاتا ہے کہ سیاسی رسوخ کے حامل افراد اپنی سیاسی وفاداری کا پاس رکھنے کے لیے ایسا عمل کر جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

کسی مطلوبہ شخص کو امیگریشن کی نظروں سے بچا کر لے جانا اور بلیک لسٹ ہونے کے باوجود ملک سے فرار ہونے کے کئی واقعات ملک میں بدنامی کا سبب بن چکے ہیں، اس ضمن میں اسلام آباد ائیرپورٹ سے غیر قانونی طور روسی خواتین کا بغیر قانونی دستاویزات کے پاکستان آنا اور پھر وہاں سے واپس فرار ہو جانے جیسے متعدد واقعات امیگریشن حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔

اسی طرح گزشتہ دنوں کسٹمز کے حوالے سے یہ خبر آئی کہ کسٹمز ڈیوٹی بچانے کے لیے جہاز کے عملے کے اراکین قیمتی موبائل کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں، اسی طرح منشیات اور ممنوعہ اشیا کی ترسیل و منی لانڈرنگ جیسے واقعات کا سدباب کرنا اہم قومی ذمے داری بنتی ہے۔

مختلف اداروں کی تعیناتی کے باوجود غیر قانونی معاملات کا ہو جانا ملکی سلامتی کے لیے ایک مسلسل خطرہ ہے، جس کی ایک مثال ایک ایسے مسافر کی جانب سے صرف چند ڈالر کی رشوت کی سبب سامان کی تلاشی نہ لینے کی ایک ویڈیو کا اسکینڈل قومی اداروں کے ملازمین کی استعداد کار پر سوالیہ نشان بن کر ابھرا۔ اگر اس حوالے سے چیک و بیلنس کا موثر نظام واضح  اور ایسے ایماندار اور پیشہ ور تربیت کے حامل افسران کی تعیناتی سیاسی بنیادوں سے بالاتر ہو کر کی جائے تو اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ رشوت خور اہلکاروں کے لالچ کا احتساب  ممکن ہو سکے گا۔

پاکستان میں بدقسمتی سے رشوت، سیاسی اثر و رسوخ اور اقربا پروری کا رجحان خطرناک حد تک بڑھا ہوا ہے، ماضی میں ایسی کئی مثالیں سامنے آ چکی ہیں کہ ایوی ایشن کے قوانین کو بائی پاس کیا گیا، جس کے سبب متعدد فضائی حادثات ہوئے اور قیمتی جانوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا۔

تحقیقات کی سست روی اور وجوہات کی تلاش و اسباب کی سدباب میں ہمیشہ کوتاہی کا مظاہرہ کیا گیا جس کی وجہ سے قانون کی عملداری قائم نہیں ہو سکی اور زیادہ منافع کے لالچ میں ایسے طیارے فضا میں ملک الموت بن کے محو پرواز رہے جنھوں نے انسانوں کی قیمتی جانوں کا عظیم نقصان دیا۔ اگر ایوی ایشن فضائی نقل و حمل کی خدمات کو زیادہ سے زیادہ محفوظ اور فعال بنانے کی پالیسی پر سنجیدگی سے عمل کرے تو فضائی کمپنیاں اپنے مسافروں کے ساتھ درست رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گی۔

پاکستان کے دور افتادہ علاقوں میں قدرتی آفات کے واقعات کا زیادہ ہونا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ چھوٹے شہروں کے لیے چھوٹے طیاروں کی فراہمی سے فضائی سفر میں عوام کو ایک اہم خدمت میسر آ سکتی ہے۔ ملک کے اہم ائیرپورٹس پر کارگو کے قیام کی پالیسی ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔

جدید سہولیات سے آراستہ نئی ایوی ایشن پالیسی میں ایک لاکھ تیس ہزار ٹن کارگو کی گنجائش کو دگنا کرنے کا اعلان تجارت کے شعبے کے لیے خوش آیند خبر کہلائی جا سکتی ہے۔ قومی ایوی ایشن پالیسی کو جدید تقاضوں سے ہمکنار کرنے کے لیے سنجیدگی سے عمل درآمد کرنا ہو گا۔ کیونکہ دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ پیپر ورک میں ایک خوب صورت باغ تو سجا لیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اس کی آبیاری درست طریقے سے نہیں کی جاتی اور ملکی ترقی کے تمام منصوبے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لاپرواہی اور عدم توجہ کے سبب اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔

چونکہ ایوی ایشن ایک اہم ادارہ ہے لہٰذا اس حوالے سے جتنے منصوبے بھی شروع کیے جائیں اس میں شفافیت اور سنجیدگی کو ضرور بالضرور دیکھا جائے۔ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی اور تجارتی طبقے کو سہل سہولیات کا میسر آنا ملک کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم کہلایا جائے گا۔ لیکن عام سفری مہمان میں امتیازات کو فروغ دیا گیا تو اس سے اداروں اور اس کے لیے بنائی جانے والی پالیسیوں پر سوالیہ نشان ضرور کھڑا ہو گا جس سے عوام کا اعتماد کبھی بحال نہیں ہو سکتا۔ ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی ترقی میں اس اہم شعبے کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے۔

ہمارے سامنے دبئی جیسے ملک کی مثال موجود ہے جس نے صحرائوں میں نخلستان اور سمندروں میں جدید بستیاں آباد کر لیں اور دنیا میں سب سے زیادہ مصروف ائیرپورٹ بننے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا۔ کوئی چیز ناممکن نہیں ہے، بس اس کے لیے سچے اخلاص کی ضرورت ہے، جس کی بدقسمتی سے ہم میں شدید کمی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔