پاکستانی ماہرین کاعظیم الشان کارنامہ پاکستان کا پہلا اسلحہ بردارڈرون

سید عاصم محمود  اتوار 29 مارچ 2015
قومی دفاع مضبوط ترکرنے والا جدید فن ِحرب کا شاہکار تخلیق کر کے پاکستانی سائنس دانوں اور انجینئروں نے دنیا میں اپنی صلاحیتوں و قابلیت کے جھنڈے گاڑ دئیے ۔ فوٹو : فائل

قومی دفاع مضبوط ترکرنے والا جدید فن ِحرب کا شاہکار تخلیق کر کے پاکستانی سائنس دانوں اور انجینئروں نے دنیا میں اپنی صلاحیتوں و قابلیت کے جھنڈے گاڑ دئیے ۔ فوٹو : فائل

اسلحہ، گولہ بارود اور سامانِ حرب کی استعداد کار میں غیر معمولی ترقی ایک ایسا حیرت کدہ ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ لیکن اِس حوشربا ترقی کے پیچھے جو سب سے بڑی وجہ کار فرما ہے وہ ہے خوف۔ دشمن کے ہاتھوں نقصان اٹھانے کے خوف کے زیراثر جو ترقی ہورہی ہے وہ لڑنے والوں کے درمیان فاصلے کو بڑھاتی جارہی ہے لیکن ساتھ ساتھ ہتھیاروں کی ہلاکت خیزی میں بھی بے پناہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

سامانِ حرب میں ترقی کا ایک شاہکار مسلح ڈرون بھی ہے جو اس بنیادی تصور کا ابتدائی عملی اظہارہے جس کے تحت سپاہی کو میدانِ جنگ سے باہرکرکے مشینوں کے ذریعے دشمن کو زیر کرنا ہے۔ پاکستان کے لوگ اِن ڈرون طیاروں سے خوب واقف ہیں کہ طویل عرصہ سے ہمارے قبائلی علاقے اس ہتھیار کے وار سہہ رہے ہیں۔

لیکن اہم خبر یہ ہے کہ پاکستان کے ماہرین نے اپنے وسائل سے دنیا کی اس اہم ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کرکے مقامی طور پر مسلح ڈرون تیار کرنا شروع کردیئے ہیں۔سپرپاور بننے کے خواب دیکھتا ہمارا پڑوسی بھارت بھی تمام تر دعووں کے باوجود اسلحہ بردار ڈرون نہیں بناسکا۔ حقیقتاً ’’برّاق‘‘ تخلیق کرکے پاکستانی ہنرمندوں نے دنیا بھر میں ہمارا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔

کئی پاکستانی ڈرون کو بہ حیثیت ہتھیار نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وجہ یہی کہ پچھلے دس گیارہ سال میں امریکی ڈرون سیکڑوں پاکستانیوںکو بھی نشانہ بناچکے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ڈرون بذات خود برا ہے نہ اچھا، اسے استعمال کرنے والا نیک یا بد ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر میدان جنگ میں ڈرون کو سب سے پہلے اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا۔ اب پوری دنیا جانتی مانتی ہے کہ اسرائیلی غاصب و ظالم ہیں۔ لہٰذا ان کے ڈرون حملے بھی ظالمانہ اور جارحانہ قرار پائے۔ لیکن دفاع میں فلسطینی بھی ڈرون تیار کرلیں، تو ان کے اقدام کو بطور حفاظتِ ذات سراہا جائے گا۔ تب فلسطینیوں کے ہاتھ میں پہنچ کر ڈرون دفاعی جنگ کا بہترین ہتھیار بن جائے گا۔

امن کی خواہش ہر انسان رکھتا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مکمل امن صرف ’’یوٹوپیا‘‘ یا خیالی دنیا ہی میں جنم لے سکتا ہے۔ حقیقی دنیا میں ازل سے حق و باطل کی جنگ چلی آرہی ہے اور وہ ابد تک جاری رہے گی۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کائنات کے لیے ’’رحمت اللعالمین‘‘ بن کر آئے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپؐ سے بھی فرمایا کہ دفاع کی خاطر ہر دم گھوڑے تیار رکھو۔

ایک مسلمان کبھی حملے میں پہل نہیں کرتا اور نہ ہی جارحانہ رویہ اپناتا ہے۔ تاہم وہ اپنا دفاع ہمیشہ مضبوط رکھتا ہے تاکہ باطل کی قوتوں سے پوری طاقت کے ساتھ لڑے اور انہیں شکست دے۔ پاکستان کی افواج اسی آفاقی نظریے پر یقین رکھتی ہیں۔ انہی کو مخاطب کرتے ہوئے بانی قوم، قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا:

’’آپ لوگ ہی پاکستانی عوام کے مال،جان اور عزت کی حفاظت کرنے کے ذمے دار ہیں۔ پاکستان کے لیے خدمات انجام دینے والوں میں سب سے اہم ہمارے فوجی افسر و جوان ہی ہیں۔ اسی واسطے (پاکستان کی تعمیر و ترقی اور بقا کے لیے) ان کے کاندھوں پر نہایت بھاری ذمے داریوں کا بوجھ ہے۔‘‘

(سٹاف کالج، کوئٹہ، 14 جون 1948ء)

کہتے ہیں،ضرورت ایجاد کی ماں ہے… برّاق کی تیاری اس مقولے کی بھی بہترین مثال ہے۔ وطن عزیز کے شمالی علاقہ جات میں پاک افواج عرصہ دراز سے دشمنوں سے مصروف ِجنگ ہیں۔ وہاں عموماً دشمنوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے اور میزائل و بم گرائے جاتے ہیں۔ دشمن کی کمین گاہیں دشوار گزار پہاڑی راستوں پر واقع ہیں اور وہاں تک پہنچنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

دوسری طرف جے-ایف 17، ایف16- اور میراج طیاروں کے ذریعے دشمنوں پر میزائل و بم گرانا خاصا مہنگا سوداہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جے ایف۔17 اور ایف۔16 ایک گھنٹے تک پرواز کریں، تو ان پر 10 تا 12 لاکھ روپے کا خرچ اٹھتا ہے۔ یہ اخراجات جاری جنگ کو خاصا مہنگا بنا دینے ہیں۔

دوسری طرف اسلحہ بردار ڈرون ایک گھنٹے پرواز کرے، تو اس پر تقریباً ایک لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یوں اخراجات کئی گنا کم ہوگئے۔ فضائی حملوں کا یہی سستا طریق کار دیکھ کر 2009ء میں پاکستان نے امریکا سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنا اسلحہ بردار ڈرون،پریڈیٹر اسے فروخت کردے۔مدعا یہ تھاکہ اول پاکستان خود پہاڑوں میں چھپے دشمنوں کو نشانہ بنائے ۔دوم امریکی حملے رک جائیں جو مسلسل پاکستانی فضا کی خلاف ورزی کرکے اس کی خودمختاری کو داؤ پر لگا رہے تھے۔

لیکن امریکی حکومت نے انکار کردیا۔اسے خطرہ تھا کہ پاکستان کی وساطت سے چینی امریکی ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کر سکتے ہیں۔ تب پاکستان نے فیصلہ کیا کہ مقامی طور پہ اسلحہ بردار ڈرون تیار کیا جائے۔ ممکن ہے،اس سلسلے میں دیرینہ ساتھیوں چین اور ترکی سے بھی تکنیکی مدد مانگی گئی ۔ پاکستانی اور چینی سائنس داں، انجینئر اور ہنرمند باہمی اشتراک سے لڑاکا طیارے ، ٹینک، میزائل وغیرہ تیار کرچکے تو پھر اسلحہ بردار ڈرون کیوں نہیں؟

یاد رہے، خصوصاً بھارتی ماہرین عسکریات پاکستان پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ پاکستانی ساختہ اسلحہ چین کی نقل ہے۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ کائنات میں صرف خدا تعالیٰ کی ذاتِ بالا ہی نت نئی شے تخلیق کرنے پر قادر ہے۔ انسان تو دیکھ، سن اور محسوس کرکے ہی سیکھتا ہے۔ پھر نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔

بہرحال پاکستانی ماہرین کی کوششیں رنگ لائیں اور پچھلے دنوں پاکستان اپنا پہلا مسلح ڈرون ’’برّاق‘‘ بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ برّاق وہ مبارک سواری ہے جس پر سوار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمانوں کا سفر فرمایا تھا۔

براق کی تکمیل سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پہ یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ اسلحہ بردار ڈرون تیار کرنے والا دنیا کا نواں ملک بن گیا۔ اس ضمن میں پاکستانیوں نے روایتی حریف، بھارت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ اب تک امریکا، اسرائیل، فرانس، برطانیہ، چین، ایران، جنوبی افریقہ اور نائیجیریا ہی مسلح ڈرون بنا رہے ہیں۔

ایک اور قابل ذکر بات یہ کہ اب تک صرف امریکا، اسرائیل اور برطانیہ نے دورانِ جنگ اپنے ڈرون استعمال کیے ہیں۔اب شمالی علاقہ جات میں برّاق نے جب بھی دشمنوں پہ میزائیل برسائے،تو پاکستان بھی اس محدود صف میں آ شامل ہو گا۔ درج بالا تینوں ممالک اور پاکستان کے درمیان بڑا فرق یہ ہے کہ امریکا، اسرائیل اور برطانیہ حملہ آور و غاصب طاقتوں کی حیثیت رکھتے ہیں ،جبکہ پاکستان دفاعی جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔

واضح رہے، جاسوسی و نگرانی کرنے والے ڈرون تو سیکڑوں ممالک رکھتے ہیں۔ وجہ یہ کہ انہیں ریڈیائی لہروں کے ذریعے کنٹرول کرنا آسان ہے۔ لیکن بات جب یہ آئے کہ دور دراز مقام پرڈرون پہنچا کر اس سے میزائل مارا یا بم پھینکا جائے، تو اس کام کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی درکار ہوتی ہے۔ ہمارے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ماہرین اور ہنرمند مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس جدید ٹیکنالوجی پر عبور حاصل کرلیا۔ یہ ان کی بہترین صلاحیتوں کا عمدہ ثبوت ہے۔

براق اور اس کا لیزر گائیڈڈ میزائیل ’’برق‘‘ بنانے میں بنیادی طور پہ پاک فضائیہ اور نیسکوم (National Engineering and Scientific Commission) سے وابستہ ماہرین نے حصہ لیا۔ نیسکوم ایک سول ادارہ ہے جس میں ہزارہا سائنس داں و انجینئر کام کررہے ہیں۔ یہ ادارہ ماضی میں شاہین بلاسٹک میزائیل، بابر کروز میزائیل اور ایچ۔4 و ایچ۔2 پرسیشن گائیڈڈ گلائڈ بم سمیت کئی ہتھیار کامیابی سے تخلیق کر چکا۔’’برّاق‘‘ اور ’’برق‘‘ کی تیاری میں حصہ لے کر نیسکوم کے تاج میں مزید کلغیاں لگ گئیں۔

پائلٹ کے بغیر اڑنے والے ڈرون میں کاک پٹ نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ حفاظتی آلات جو انسانوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اسی لیے ڈرون بنانا اور استعمال کرنا جنگی جہاز کی نسبت سستا پڑتا ہے۔ ڈرون کو کروز میزائل کی طرح پروگرام کرکے اڑانا ممکن ہے۔ تاہم اسلحہ بردار ڈرون کو زمین پہ گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشن کے پُر سکون ماحول میں بیٹھا ڈرائیور ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑاتا ہے۔ برّاق بھی اسی قسم کا ڈرون ہے۔

براق ڈرون کا وزن 470 کلو گرام ہے۔ یہ 12 گھنٹے تک مسلسل محو پرواز رہ سکتا ہے۔ اس میں آسٹریا ساختہ روٹیکس 912 انجن نصب ہے۔ اس کی بدولت براق 220 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔اس کے پروں کی لمبائی شہپر ڈرون جتنی ہے۔

اس پہلے اسلحہ بردار پاکستانی ڈرون میں 100 تا 120 کلو گرام وزنی میزائل یا بم لادے جاسکتے ہیں۔ یہ اسلحہ لیے براق 16 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کرسکتا ہے۔ اس کی رینج یا اڑنے کی حد 200 کلو میٹر تک ہے۔ چونکہ پاکستان عسکری مواصلاتی (سیٹلائٹ)سیارے نہیں رکھتا ،اس لیے وہ امریکا جیسی بے پناہ صلاحیت کا حامل نہیں۔ امریکی تو اپنے ملک میں بیٹھے افغانستان سے ڈرون اڑانے پر قادر ہیں۔ لیکن براق پاکستانی عسکری ضروریات کے لیے بالکل موزوں ہے۔

براق میں لگنے والا لیزر گائیڈڈ میزائل ’’برق‘‘ 45 کلو وزنی ہے۔ یہ میزائل 1300 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے اڑتا اور 10 کلو میٹر تک حدِ مار رکھتا ہے۔میزائل کے ذریعے ساکت یا حرکت پذیر،دونوں قسم کے نشانے تباہ کرنا ممکن ہیں۔

پاک افواج میں اسلحہ بردار ڈرون کی شمولیت قومی دفاعی تاریخ کا ایک بڑا اہم سنگ میل ہے۔ اب پاکستان کو امریکا یا کسی اور ملک کی مدد درکار نہیں، ہم اپنے پائلٹوں اور جوانوں کی جانیں خطرے میں ڈالے بغیر پہاڑوں میں چھپے دشمنوں کا قلع قمع کرسکتے ہیں۔ مسلح ڈرون نے وطن کا دفاع مضبوط تر کردیا اور یہی اہم ترین بات ہے۔سنت نبوی ﷺ ہے کہ اپنے گھوڑے ہر دم تیار رکھو۔ ہزاروں سال قبل چینی ماہر عسکریات، سون تسی نے بھی کہا تھا:
’’اگر ناقابل شکست رہنا ہے، تو اپنا دفاع مضبوط کرلیجیے۔‘‘

سب سے بڑا پاکستانی ڈرون
پاکستان کے سرکاری و نجی ڈرون ساز اداروں سے منسلک ماہرین پچھلے 27 برس میں مختلف اقسام کے چھوٹے بڑے عسکری و غیر عسکری ڈرون بنا چکے۔ ان میں نشان، شیڈو، ہما، عقاب، مخبر، جاسوس، شہپر اور براق قابل ذکر ہیں۔ ان میں بہ لحاظ وزن اور قدروقامت شہپر سب سے بڑا ہے۔

شہپر ڈرون ایک سول ڈرون ساز کمپنی، گلوبل انڈسٹریل ڈیفنس سلوشنز کے ماہرین کی خوبصورت تخلیق ہے۔ (یہ کمپنی سات آٹھ مختلف اداروں کے ادغام سے وجود میں آئی)۔ شہپر سرحدوںکی نگرانی کرنے اوردشمن پر نظر رکھنے میں کام آتا ہے۔ اس سے جاسوسی کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ شنید ہے کہ اس پر بم یا میزائل بھی لگ سکتے ہیں۔ نیز اسے کوئی قدرتی آفت آنے پر بطور امدادی ڈرون بھی استعمال کرنا ممکن ہے۔

شہپر 13.77 فٹ لمبا ڈرون ہے۔ اس کے پروں کی لمبائی 21.65 فٹ ہے۔ یہ 480 کلو وزن کے ساتھ مسلسل سات گھنٹے محو پرواز رہتا ہے۔ اس میں 50 کلو وزن جاسوسی کے آلات، کیمرے وغیرہ کا ہے۔

یہ منفرد پاکستانی ڈرون 250 کلو میٹر دور تک جاکر رئیل۔ ٹائم ڈیٹا لنک کے ذریعے اپنے گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشن کو نیچے موجود مناظر کی لائیو وڈیو بھیجتا ہے۔ اس میں جدید ترین ریڈار اور کیمرے نصب ہیں۔ شہپر 16404 فٹ کی بلندی تک پرواز کرسکتا ہے۔ یہ ڈرون پاک فضائیہ اور پاک فوج، دونوں کے زیر استعمال ہے۔

شہپر میں روٹیکس 912 انجن نصب ہے۔ اس کی مدد سے یہ ڈرون 150 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرتا ہے۔ قابل ستائش بات یہ ہے کہ انجن اور ٹائروں کے علاوہ شہپر پر نصب ہر شے پاکستان ساختہ ہے۔ یہ ہمارے ہنرمندوں کی بیش بہا صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

وطن عزیز میں ڈرون کی تاریخ
وطن عزیز کے پہلے اسلحہ بردار ڈرون براق کی خبر جیسے ہی عام ہوئی، پاکستان دشمن عناصر یہ پروپیگنڈا کرنے لگے کہ پاکستانیوں نے ایک چینی ڈرون پر پاکستانی قلعی پھیر کر اسے مقامی بنالیا۔ اس پروپیگنڈے نے بعض پاکستانیوں کو بھی متاثر کیا اور وہ براق کو چینی ساختہ سمجھنے لگے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی سائنس داں اور انجینئر 1988ء سے ڈرون ٹیکنالوجی پر تحقیق و تجربات میں مصروف ہیں۔تب خلائی تحقیق کے قومی ادارے،سپارکو میں پاکستانی ڈرون منصوبے کا آغاز ہوا۔اس منصوبے سے منسلک ماہرین نے 1991ء میں پہلا باقاعدہ پاکستانی ڈرون تیار کر لیا۔انہی دنوں مشہور امریکی ادارے،نیشنل جیوگرافک چینل کی ایک ٹیم قراقرم سلسلہ ہائے کوہ میں آباد شاہانہ مزاج برفانی تیندوے پہ تحقیق کرنے پاکستان آئی۔امریکی محققوں نے پاکستانی ڈرون استعمال کر کے ہی برفانی تیندووں کی نایاب تصاویر اتاریں۔

دوسری بات یہ کہ پاکستانی ہنرمندوں نے ڈرون ٹیکنالوجی میں جدت لانے کے لیے چینی یا ترک ماہرین سے اشتراک کیا، تو یہ کوئی انہونی بات تو نہیں۔ انسان اپنے حواسوں اوردوسرے انسانوں کی مدد ہی سے کوئی نئی چیز بناتا ہے۔ مثلاً دنیا کے قدیم ہتھیاروں میں آتشِ یونانی (Greek Fire) شامل ہے۔

اس ہتھیار کے ذریعے دشمن پر آگ پھینکی جاتی تھی۔ آتش یونانی کی ایجاد میں اشوریوں، یونانیوں، فونیقیوں، چینیوں، مصریوں، فارسیوں اور عربوں نے حصہ لیا۔دور جدید میں ایٹم بم کئی اقوام سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے اشتراک سے وجود میں آیا۔ غرض کوئی شے ایجاد کرنے کی خاطر دوسرے کے نظریات یا کام سے مدد لینا قابل مذمت بات نہیں۔

پاکستان کے پہلے اسلحہ بردار ڈرون کی کہانی 2009ء سے شروع ہوتی ہے۔ تب پاکستانی حکومت نے امریکا سے درخواست کی کہ وہ چند پریڈیٹر ڈرون اس کے حوالے کردے۔ دراصل پاکستان متوحش تھا کہ امریکی ڈرون حملوں کی وجہ سے اس کی عزت متاثر ہورہی ہے۔ عالمی سطح پر اسے کمزور ملک اور امریکا کا طفیلی سمجھا جانے لگا ۔ تاہم امریکا نے ڈرون دینے سے انکار کردیا۔

اس وقت شمالی علاقہ جات میں امریکی ڈرون حملوں کی اجازت دینا پاکستانی حکومت کی مجبوری تھی۔ اور اب ثابت ہوچکا کہ پہاڑی علاقوں میں ریاست دشمن عناصر چھپے بیٹھے تھے۔وہ پاکستان بھر میں سرکاری تنصیبات اور پاکستانی عوام کو خودکش حملوں اور بم دھماکوں سے نشانہ بنارہے تھے۔ امریکی ڈرون پاکر پاکستان خود ان دشمنوں کو نیست و نابود کرنا چاہتا تھا۔ اس طرح بے گناہوں کے مارے جانے کا امکان بھی کم ہوجاتا۔

بہرحال امریکی انکار سے پاکستانی دل برداشتہ نہیں ہوئے بلکہ ان کا جوش و جذبہ جوان ہوگیا۔ انہوں نے طے کیا کہ اب وہ پاکستان ساختہ اسلحہ بردار ڈرون بناکر ہی دم لیں گے۔ چناں چہ عسکری اور سول، دونوں سطح پر تمام وسائل بھر پور انداز میں بروئے کار لائے جانے لگے۔ حقیقتاً بّراق عسکری اور سول اشتراک کا قومی شاہکار اور ذہانت، سخت محنت اور جذبہ حب الوطنی کا خوبصورت امتزاج ہے۔

واضح رہے ، جدید جنگ و جدل میں ڈرون نہایت اہم ہتھیار بن چکاہے ۔وجہ یہ کہ اس کے ذریعے انسانی جانیں ضائع کیے بغیر دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ممکن ہے۔ اسی واسطے امریکی ایسے جنگی طیارے تیار کرنے کے لیے تحقیق و تجربے کررہے ہیں جن میں پائلٹ سوار نہ ہوں۔ بس انہیں گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشن میں آرام و سکون سے بیٹھے پائلٹ اڑاتے رہیں، انہیں جان جانے کا خوف ہو نہ طیارہ گرنے کا خطرہ!

غرض ڈرون جدید فن حرب میں انقلابی ایجاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستانی سائنس دان و انجینئر ڈرون ٹیکنالوجی پہ نہ صرف دسترس پاچکے بلکہ بذریعہ تحقیق اسے بہتر سے بہتر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہی ذہین اور محب وطن ماہرین کی وجہ سے پاکستان کا دفاع بہت مضبوط ہوجائے گا۔

جب پاکستان میں ڈرون بنانے کا آغاز ہوا، تو اس منصوبے میں چینیوں کا نام و نشان نہیں تھا۔ وطن عزیز میں ڈرون کی تاریخ نے ذاتی دلچسپی و شوق کے بطن سے جنم لیا۔ ہوا یہ کہ علمِ طیرانیات سے وابستہ کچھ ماہرین بطور مشغلہ ڈرون بنانے لگے۔ حتیٰ کہ ان میں ایک ماہر، راجا صابری خان نے اسے بطور پیشہ اپنالیا۔

راجہ صاحب کی قائم کردہ کمپنی، اینٹی گریٹڈ ڈائنامکس( Integrated Dynamics) کے ہنرمندوں ہی نے وہ پہلا پاکستان ساختہ ڈرون بنایا جو عسکری طور پر بھی استعمال ہوا۔ ’’ڈیزرٹ ہاک‘‘ نامی یہ ڈرون تیار کرنے کا آرڈر پاک فوج نے 2003ء میں دیا ۔ 2004ء میں یہ ڈرون پاک فوج کو مل گیا۔

ڈیزرٹ ہاک ہاتھ سے چھوڑا جانے والا چھوٹا ڈرون ہے۔ یہ 120 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑتے ہوئے دو گھنٹے فضا میں رہ سکتا ہے۔ اس کے ذریعے بیس کلو میٹر دور تک بیٹھے دشمن کی جاسوس و نگرانی کرنا ممکن ہے ۔ پاک فوج ڈیزرٹ ہاک کو شمالی علاقہ جات میں استعمال کرنا چاہتی تھی۔

اس کے بعد دیگر ڈرون ساز نجی پاکستانی کمپنیاں بھی نگرانی و جاسوسی کا عسکری کام انجام دینے والے نت نئے ڈرون بنانے لگیں۔ ان کمپنیوں میں ایسٹ ویسٹ انفینٹی( East-West Infinity) سیٹوما( Satuma) اور گلوبل انڈسٹریل ڈیفنس سلوشنز (Global Industrial Defense Solutions) قابل ذکر ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ نجی پاکستان کمپنیاں اور وطن عزیز کے سرکاری عسکری ادارے آپس میں اشتراک کرنے لگے تاکہ زیادہ بہتر ڈرون تخلیق کیے جاسکیں۔ یوں پاکستانی سائنس داں و انجینئر ڈرون ٹیکنالوجی کے اصول و قوانین سے واقف ہوکر نت نئے ڈرون بنانے لگے۔ اس دوران انہیں چینی ماہرین کے تجربوں و تحقیق سے فائدہ اٹھانے کا موقع بھی ملا۔ جبکہ پاکستانی ہنرمندوں نے اپنے تجربات سے چینیوں کو آگاہ کیا۔ تالی دونوں ہاتھوں ہی سے بجتی ہے!

پاکستانی ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی و تعمیر میں پی اے سی (پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس)، اے ڈبلیو سی (ایئر ویپنز کمپلیکس )، این ڈی سی (نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس) اور نیسکوم سے وابستہ ماہرین نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ ان نامعلوم پاکستانی ہیروؤں نے شبانہ روز محنت سے ہمارا دفاع قوی بنایا تاکہ عام شہری دشمن کی پروا کیے بغیر چین وسکون کی نیند سو سکیں۔یہ وہ قومی ہیرو ہیں جنھیں کھلاڑیوں یا فلمی ستاروں کے مانند شہرت وپذیرائی نہیں ملتی مگر وہ ہر بات سے بے نیاز ہو کر بڑے خلوص سے اپنی ذمے داریاں نبھاتے چلے جاتے ہیں۔

عسکریات میں پاکستانی ماہرین اپنی قابلیت کا سّکہ پوری دنیا پر جماچکے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر عسکری شعبہ ہائے زندگی میں بھی سائنسی و ٹیکنالوجکل صلاحیتوں کے جوہر دکھائے جائیں۔ یہ حقیقت ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں مہارت تامہ پاکر پاکستان ہی نہیں عالم اسلام کے تمام ملک دوبارہ عروج پاسکتے ہیں۔

ڈرون ٹکنالوجی کے پاکستانی ماہر
پرندوں کو مزے سے آسمان پر اڑتے دیکھ کر انسانوں کا بھی جی کرتا ہے کہ کاش وہ بھی ان کی طرح پرواز کرکے لطف اٹھاسکیں۔ 850ء کے لگ بھگ قرطبہ،اندلس میں ایک مسلم سائنس داں، عباس ابن فرناس نے اسی تمنا کے زیر اثر پروں والا لباس پہنا اور پہاڑ پر کھڑے ہوکر چھلانگ لگائی۔ مورخین کی رو سے یہ فضا میں پہلی انسانی پرواز تھی جس کا انجام کچھ اچھا نہ ہوا۔ پروں کا لباس بھاری بھرکم ابن فرناس کو نہ سنبھال سکا اور وہ کچھ دیر پرواز کے بعد ہی گر پڑے۔ انہیں چوٹیں تو آئیں مگر جان بچ گئی۔

اس واقعے کو بیتے کئی صدیاں گزرگئیں، تو بیسویں صدی میں کراچی میں ایک لڑکے نے جنم لیا۔ وہ بھی بچپن میں پرندوں کو محو پرواز دیکھتا، تو مسحور ہوجاتا۔ جب ذرا بڑا ہوا، تو اڑتے پھرتے ہوائی جہاز اور شور مچاتے گزرتے لڑاکا طیارے اسے متحیر کردیتے۔ بچپن ہی میں اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ بڑا ہوکر ہوائی جہاز بنائے گا۔ اس لڑکے کا نام راجا صابری خان تھا۔

وطن عزیز میں بہت کم لوگ راجا صاحب سے واقفیت رکھتے ہیں، حالانکہ ان کا شمار پاکستانی ڈرون منصوبے کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ ان کی داستانِ حیات عیاں کرتی ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی مغرب والوں کی جاگیر نہیں بلکہ کوئی بھی انسان اپنی ذہانت، سخت محنت اور صدق دل سے سائنسی و ٹیکنالوجیکل علوم پر دسترس پاسکتا ہے۔

راجا صابری خان نے ابتدائی تعلیم کراچی ہی میں پائی۔ پھر این ای ڈی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور وہاں سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری لی۔ ان کا تعلیمی ریکارڈ بہت عمدہ تھا۔ اسی کی بنیاد پر انہیں امریکی تعلیمی ادارے، میسا چوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی یا ایم آئی ٹی میں داخلہ مل گیا۔ اس زمانے میں اور آج بھی دنیا میں یہ سائنس وٹیکنالوجی کی تعلیم دینے والے اعلیٰ ترین اداروں میں شمار ہوتا ہے۔

ایم آئی ٹی میں راجا صاحب نے ایروناٹیکس اینڈ آسٹروناٹیکس(Aeronautics and Astronautics) کے شعبے میں داخلہ لیا تھا۔ 1984ء میں انہوں نے کامیابی سے تعلیم مکمل کی اور ایروسپیس ڈیزائن انجینئر بن گئے۔ تب راجا صاحب چاہتے، تو انہیں امریکا میں لاکھوں روپے ماہانہ کی ملازمت باآسانی مل جاتی۔ دنیا بھر کے ادارے ایم آئی ٹی سے پڑھے نوجوانوں کو بہ رغبت ملازمت دیتے ہیں۔ مگر وہ اپنے وطن کی خدمت کرنا چاہتے تھے، اسی لیے پاکستان واپس آگئے۔

تاہم وطن میں راجا صاحب کو اسی مشکل کا سامنا کرنا پڑا جو عموماً اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو درپیش آتی ہیں۔ وہ یہ کہ انہیں اپنے شعبے میں ملازمت نہ مل سکی۔ تاہم راجا صابری خان صورت حال سے دلبرداشتہ نہیں ہوئے اور ٹریکٹر بنانے والی ایک کمپنی میں ملازمت کرنے لگے۔

امریکا میں دوران قیام ایک نئے مشینی پنچھی… ڈرون نے راجا صاحب کو بہت متاثر کیا تھا۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کی کماحقہ جان کاری حاصل کرلی۔ ان پر منکشف ہوا کہ یہ اڑن کھٹولا تو بہت کام کا ہے۔ اس کے ذریعے کئی انسان دوست سرگرمیاں انجام دینا ممکن ہے۔ڈرون کی افادیت دیکھ کر ہی راجا صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی صلاحیتیں کام میں لاکر پاکستان میں یہ ایسی اڑن مشینیں بنائیں جو سویلین شعبے میں استعمال ہوسکیں۔ مگر ڈرون بنانے والی کمپنی کے لیے سرمائے کی ضرورت تھی، وہ کہاں سے آتا؟

انہوں نے پاکستانی بینکوں اور سرکاری اداروں سے مدد مانگی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ کوئی اور ہوتا، تو مایوس ہوجاتا مگر راجا صاحب نے ہمت نہ ہاری۔ وہ بطور ثانوی ملازمت فیشن فوٹو گرافی کرنے لگے تاکہ زائد آمدن کما کر اسے محفوظ رکھ سکیں۔

1988ء میں آخر کار راجا صاحب کے پاس اتنی رقم جمع ہوگئی کہ وہ اپنا پہلا ڈرون تیار کرسکیں۔ انہوں نے پھر اپنی ٹیم بنائی جو ان کے علاوہ ایک پینٹر، ایک موٹر سائیکل میکنیک اور ایک ترکھان پر مشتمل تھی۔ اس ٹیم کی مدد سے آخر راجا صاحب اپنا پہلا ڈرون تیار کرنے میں کامیاب رہے۔ شاید اس پہلے پاکستانی ڈرون کی تیاری میں مائیکرو ویو اوون، فوٹو کاپی مشینوںاور ناکارہ کاروں کے پرزے استعمال ہوئے۔

راجا صاحب کی خوش قسمتی کہ 1988ء ہی میں سپارکو نے ڈرون منصوبہ شروع کردیا۔ اس کے سربراہ، سلیم محمود راجا صاحب کی بابت جانتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے امریکی پلٹ انجینئر کو بھی قومی ڈرون منصوبے سے منسلک کردیا۔1997ء تک راجا صابری خان سپارکو میں کام کرتے رہے۔ انہیں پھر محسوس ہوا کہ اپنی ڈرون کمپنی بناکر وہ زیادہ کمالات دکھاسکتے ہیں۔ یوں ان کا ڈرون ساز ادارہ،اینٹی گریٹڈ ڈائنامکس وجود میں آیا۔ والدین کے گھر کی چھت پر چھوٹی سی ورکشاپ بناکر کمپنی کا آغاز ہوا۔

محنت اور دیانت داری کے سبب کاروبار پھلا پھولا اور آج کمپنی نوے ہزار گز رقبے پر پھیلے شاندار کارخانے میں ڈھل چکی ہے۔ وہاں پندرہ اقسام کے ڈرون بنائے جاتے ہیں جو آسٹریلیا سے لے کر امریکا تک میں مختلف مفید کام انجام دے رہے ہیں۔ جی ہاں، راجا صاحب کی پاکستانی کمپنی کے تیارکردہ ڈرون اتنے پائیدار اور معیاری ہیں کہ امریکی و آسٹریلوی سرکاری و نجی ادارے انہیں اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے خریدتے ہیں۔ اس کی وجہ معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ سستا ہونا ہے۔

آج اینٹی گریٹڈ ڈائنامکس کے تیار کردہ ڈرون آسٹریلوی سمندروں میں ٹونا مچھلیوں کی کالونیوں پر تحقیق کرنے میں محو ہیں۔ ایمزن کے جنگلات میں ان کی مدد سے مختلف جانوروں کا مطالعہ کیا جارہا ہے۔ جبکہ امریکی انہیں اپنی سرحدوں کی نگرانی و حفاظت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں سیلابوں کے دوران پھنسے ہم وطنوں کی تلاش میں یہ ڈرون کام میں لائے گئے۔

راجا صاحب بوجوہ اسلحہ بردار ڈرون تیار نہیں کرنا چاہتے۔ ان کی توجہ ایسے چھوٹے و درمیانے درجے کے ڈرون بنانے پر مرکوز ہے جو کسی نہ کسی طرح انسانیت کی مدد کرسکیں۔ اس پاکستانی سپوت کے کارنامے مظہر ہیں کہ پاک سرزمین بہت زرخیز ہے، بس حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ بہترین نتائج پانے کی خاطر عمدہ کھاد ڈالے اور مناسب پانی دے،تب پاکستان کو ترقی کرنے اور خوشحال ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔