آج کے بعد

امجد اسلام امجد  اتوار 29 مارچ 2015
Amjadislam@gmail.com

[email protected]

آج سے ٹھیک 23 برس اور اور چار دن قبل یعنی 25 مارچ 1992ء کو آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ میں فتح کا اعزاز حاصل کیا تھا اس کے سات برس بعد یعنی 1999ء میں ایک بار پھر ہماری ٹیم فائنل تک پہنچی مگر آخری رکاوٹ عبور نہ کر پائی۔

یوں حالیہ یعنی گیارہویں فائنل سے پہلے تک کے دس مقابلوں میں صرف ایک بار ہمیں کامیابی ہوئی جب کہ آسٹریلیا چار بھارت اور ویسٹ انڈیز دو دو اور سری لنکا ہماری طرح صرف ایک بار کامران ٹھہرے ہیں۔

آج کی فتح آسٹریلوی ٹیم کو پانچویں اور نیوزی لینڈ کو پہلے ورلڈ کپ کا حق دار بنا سکتی ہے یہ اور بات ہے کہ 48 گھنٹے قبل تک بھارت کی ٹیم سب سے زیادہ فیورٹ گردانی جا رہی تھی۔ سیمی فائنلز تک پہنچنے والی چوتھی ٹیم ساؤتھ افریقہ تھی جو اپنی ’’چوکرز‘‘ کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر پیچھے رہ گئی حالانکہ کاغذ پر اس کے مجموعی نمبر سب سے زیادہ نظر آ رہے تھے کہ بیٹنگ اور بالنگ میں اے بی ڈی ویلیرز اور ڈیل سٹین عالمی رینکنگ میں بالترتیب نہ صرف پہلے نمبروں پر تھے جب کہ ان کی صف میں ہاشم آملہ، ڈوپلیسی، ڈومینی، مورکل اور عمران طاہر جیسے کھلاڑی بھی تھے جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر میچ ونر کا درجہ رکھتا ہے۔

ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل ماہرین کے اندازوں کے مطابق یہی چار ٹیمیں بہترین سمجھی جا رہی تھیں جب کہ پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ دوسرے اور ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش اور زمبابوے تیسرے گروپ میں شمار کیے جا رہے تھے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو واحد سرپرائز انگلینڈ کا کوارٹر فائنل اسٹیج تک نہ پہنچنا ہی ہے۔

پاکستان کی ابتدائی دو شکستوں اور بعدازاں چار مسلسل کامیابیوں سے توقعات میں سب سے زیادہ اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا لیکن اگر جذبات اور خواہشات سے ہٹ کر خالص میرٹ اور استعداد کے حوالے سے دیکھا جائے تو ہماری موجودہ ٹیم اپنے حاصل کردہ مقام سے زیادہ کی حق دار تھی ہی نہیں۔

ہاں اگر اس میں سعید اجمل، محمد حفیظ، فواد عالم اور جنید خان شامل ہوتے اور محمد عرفان مکمل فٹ رہتا تو یہ مزید آگے جا سکتی تھی لیکن میری ذاتی رائے میں پھر بھی یہ فائنل جیتنے کے قابل نہ ہوتی کہ کم از کم آسٹریلیا، بھارت اور ساؤتھ افریقہ کے مجموعی نمبر زیادہ بنتے تھے۔ آخری تجزیے میں سب سے زیادہ حیران کن اور شاندار کارکردگی نیوزی لینڈ کی رہی کہ جس نے نہ صرف اپنی فتوحات کا تسلسل قائم رکھا بلکہ کھیل کے ہر شعبے میں اپنی برتری بڑے متاثر کن انداز میں ثابت کی اور بھارت کی طرح کوارٹر فائنلز تک ہر میچ جیتتے چلے گئے۔

T20 کرکٹ اور چند نئے رولز کی وجہ سے اس ورلڈ کپ میں باؤلرز کو بہت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور بعض ٹیموں نے کئی ئی بار تین سو کے ہدف کو عبور کیا اور بہت سی شاندار اننگز دیکھنے میں آئیں۔ متعدد سنچریوں کے علاوہ دو ڈبل سنچریاں بھی بنیں اور چھکوں کی تعداد بھی پانچ سو کے قریب پہنچ گئی اور پہلی بار کسی ورلڈ کپ میں چار سو سے زیادہ رنز پر مشتمل اننگز بھی دیکھنے میں آئیں۔

حیرت کی بات ہے کہ اتنے بڑے اور مہنگے ٹورنامنٹ میں اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی کو یہ کہہ کر استعمال نہیں کیا گیا کہ اس کا خرچہ بہت زیادہ تھا۔ میری رائے میں یہ کھلاڑیوں اور امپائرز دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ بالخصوص Hot Spot کی عدم دستیابی کے باعث آن اور آف فیلڈ امپائروں کے کچھ غلط اور مشکوک فیصلوں کی وجہ سے بعض میچوں کے حتمی نتائج کچھ سے کچھ ہو گئے اور کئی کھلاڑیوں کے کیریئرز پر بھی ان کا منفی اثر پڑا۔

امپائر کتنا بھی تجربہ کار کیوں نہ ہو۔ بہرحال اس کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے چشم زدن سے زیادہ کا وقت نہیں ہوتا جب کہ تھرڈ امپائر کو بہت سے کیمرے ایک ہی منظر کو اتنے مختلف اینگلز سے Slow Motion میں دکھاتے ہیں کہ اسے بسا اوقات اپنے فوری اور پہلے تاثر پر ہی بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔

140 کلو میٹر فی سیکنڈ سے زیادہ تیز رفتار بال کو ہیٹ یا پیڈ سے ٹکرانے کی آواز کو سننے اور سمجھنے کے لیے Hot Spot کے بجائے مختلف طرح کے ساؤنڈ میٹرز کی مدد سے اسے بصارت اور سماعت سے زیادہ بصیرت اور قیاس سے کام لینا پڑتا ہے جو کسی طور پر بھی درست طریقۂ کار نہیں۔ ماہرین کا یہ اعتراض اپنی جگہ درست سہی کہ فی الوقت موجود بہترین ٹیکنالوجی بھی سو فی صد درست ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کی مدد سے غلطی کا احتمال 20% سے کم ہوکر ایک یا دو فیصد تک رہ جاتا ہے۔

اب تک کے دس مقابلوں میں چھ بار رنگدار نسل کی حامل ٹیمیں فاتح رہی ہیں جب کہ یہ غالباً دوسرا موقع ہے کہ فائنل میں پہنچنے والی دونوں ٹیمیں سفید فام قوموں سے تعلق رکھتی ہیں اور دونوں ہی میزبان بھی ہیں بظاہر آسٹریلیا کا پلڑا قدرے بھاری نظر آتا ہے لیکن میری چھٹی حس کی اسکرین پر بار بار نیوزی لینڈ کا نام ہی لہریں لے رہا ہے۔

شاید اس کی ایک وجہ میرے اندر کا شاعر ہو جو Poetic Justice پر یقین رکھتا ہے۔ بہرحال فیصلہ جو بھی ہو ایک بات طے ہے کہ دونوں ٹیمیں زبردست ذہنی دباؤ کا شکار ہوں گی دونوں کے بیشتر کھلاڑی اس وقت اپنی بہترین فارم میں ہیں۔ سو امپائرز کا ایک آدھ غلط فیصلہ یا کسی بھی ٹیم کا کوئی چھوٹا Bad Patch بھی میچ کا رخ بدل سکتے ہیں۔

میری ذاتی رائے میں اس میچ کے ہائی اسکورنگ ہونے کے امکانات کم ہیں اور شاید کوئی بھی ٹیم 280 سے زیادہ اسکور نہ کر پائے گی بظاہر آسٹریلیا کی طرف سے وارنر، اسمتھ، میکسوئل، اسٹارک اور مچل جانسن اور نیوزی لینڈ کی جانب سے گپٹل، راس ٹیلر، ولیمسن، ویٹوری، بولٹ اور ساؤتھی ٹرمپ کارڈ دکھائی دے رہے ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ مقابلے میں شامل بائیس کے بائیس کھلاڑی غیر معمولی کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ بھارت کی ٹیم میں ایک ساؤتھ افریقہ میں دو اور پاکستان سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کا ٹیموں میں کم از کم تین تین کھلاڑی ایسے تھے جن کے معیار پر انگلی اٹھائی جا سکتی ہے۔

آخر میں چند باتیں پاکستانی ٹیم کی سلیکشن، صلاحیت، کارکردگی اور مستقبل کے بارے میں کہ یہ ورلڈ کپ کتنا بھی اہم کیوں نہ ہو بہرحال آخری ورلڈ کپ نہیں تھا۔ اب جب کہ مصباح الحق اور شاہد آفریدی ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں اور غالباً یونس خان عنقریب کر دیں گے، عمر گل اور محمد عرفان عملی طور پر مستقبل کی ٹیم کا حصہ بنتے دکھائی نہیں دیتے، محمد حفیظ اور سعید اجمل بھی کلیئر ہونے کے باوجود شاید زیادہ دیر نہیں چل سکیں گے۔

ایسے میں آپ کے پاس جو آزمودہ اور نسبتاً قابل اعتماد کھلاڑی بچتے ہیں ان میں وہاب ریاض اور سرفراز احمد ہی دو ایسے نام رہ جاتے ہیں جو کہ خود بخود سلیکٹ ہو سکتے ہیں۔ احمد شہزاد، عمر اکمل، صہیب مقصود، راحت علی اور یاسر شاہ کا نمبر ان کے بعد آتا ہے جب کہ اظہر علی، شعیب ملک، جنید خان، ذوالفقار بابر، فواد عالم، سمیع اسلم، بابر اعظم، انور علی، بلاول بھٹی، سہیل خان، احسان عادل، کامران اکمل اور رضا حسن سمیت کچھ اور لڑکے بھی اس فہرست میں شامل کیے جا سکتے ہیں لیکن ایمانداری سے دیکھا جائے تو یہ ’’حاضر مال‘‘ اس قابل نہیں کہ اس کا مقابلہ ورلڈ کپ 2015ء کی پہلی چار ٹیموں سے کیا جا سکے۔

سو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انڈر 19 بلکہ اس سے بھی کچھ پہلے کی سطح پر توجہ مرکوز کریں اور نوجوان کھلاڑیوں کو سخت ترین مقابلوں سے گزار کر میرٹ کی سطح پر اوپر لائیں ان کو روزگار کا تحفظ دیں اور ذہنی اور نفسیاتی سطح پر ایسے اعتماد سے بہرہ ور کریں کہ ان کی فطری صلاحیت کو جلا مل سکے۔ اسکول اور کالج کی سطح پر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

نئے گراؤنڈ بنائیں، ملک کے اندر بین الاقوامی مقابلوں کو واپس لائیں اور جونیئر ٹیموں کے دورے ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ تجربہ کار کھلاڑیوں کو مسلسل اور بہتر تربیت کے مواقع بھی فراہم کریں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کھیل کو صوبائی اور میڈیائی سیاست سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تا کہ نئے کھلاڑی اپنی توجہ صرف اور صرف کھیل تک محدود رکھ سکیں۔

ڈومیسٹک سطح پر فرسٹ کلاس کرکٹ کی سطح کو بلند کرنے کے لیے ٹیموں کی تعداد کو کم کریں کیونکہ کامیابی اور عظمت مقدار سے نہیں معیار سے حاصل ہوتی ہے۔ اور کیا مضائقہ ہے کہ ہم مصباح اور شاہد آفریدی کو اس عزت اور احترام کے ساتھ رخصت کریں جو ان کا حق ہے اور آئندہ بھی یہ حق ادا کرتے رہیں کہ اس سے کسی معاشرے کی تہذیبی قوت کا مثبت اظہار ہوتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔