چوری تیری پکڑی گئی

03332257239@hotmail.com

[email protected]

یہ 97 کی بات ہے جب نواز شریف دوسری مرتبہ برسر اقتدار آئے تھے۔ پنجاب میں ان کے بھائی شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے۔ یہ سال عمیر کی پیدائش کا سال تھا۔ جب وہ تین سال کا ہوا تو اسکول جانے لگا۔ اب پاکستان میں پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ عمیر کو تو صرف اسکول کی ٹیچرز اور کلاس فیلوز کے بارے میں علم تھا۔ چار سال کے طالب علم کو کیا خبر کہ بلدیاتی انتخابات کا ایم کیو ایم نے کیوں بائیکاٹ کیا تھا۔

وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ظفر اللہ جمالی کی ایک ووٹ سے کامیابی سے بھی ناواقف تھا۔ پانچ سال کے بچے کو کیا خبر کہ مشرف نے جمالی کو ہٹا کر شوکت عزیز کو وزیراعظم کیوں بنایا۔ وہ پہلی سے دوسری کلاس میں چلا گیا۔ عمیر کی کلاس بدل گئی لیکن پاکستان پر مشرف کی ہی حکومت تھی اور 2004 آگیا۔ آج ہمارے کالم کا ہیرو عمیر ہے اور ولن کا نام شفقت ہے۔ آئیے اب اس بدمعاش کی زندگی کو تاریخ کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔

مشرف کے سامنے جنرل ضیا کا ماڈل تھا۔ 81 میں ضیا الحق نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں سے نیا حلف لیا تو وہ سال شفقت کی پیدائش کا سال تھا۔ جب ضیا نے غیر جماعتی انتخابات کروائے تو وہ چار سال کا تھا۔ وزیراعظم جونیجو کی برطرفی کے وقت ہمارے ولن کی عمر سات سال تھی۔ بے نظیر کے دو برسوں کی حکومت نے شفقت کو نو سال کا کردیا۔ نواز شریف کی پہلی والی حکومت غلام اسحق خان نے ختم کی تو وہ بارہ سال کا ہوگیا۔ پھر تین برسوں بعد صدر فاروق احمد لغاری کے ہاتھوں بے نظیر حکومت کے خاتمے کے وقت وہ پندرہ سال کا تھا۔ جب نواز شریف کی حکومت کو پرویز مشرف نے ختم کیا تو شفقت شناختی کارڈ بنانے کے بارے میں سوچنے لگا۔ پھر مشرف برسر اقتدار آئے اور انھوں نے اپنی حکومت کے پانچ سال مکمل کیے تو شفقت کی عمر 23 سال ہوگئی۔

اب اس نے ایک بلڈنگ میں چوکیدار کی نوکری کرلی۔ یہیں سے شفقت نے عمیر کو دیکھا۔ یہاں کسی کو ہمارے ہیرو کی عمر پر کوئی شک نہیں کہ وہ سات کا تھا۔ ہم دوسری کلاس کے طالب علم کو ’’تھا‘‘ کیوں کہہ رہے ہیں۔ اسے ’’ہے‘‘ ہونا چاہیے تو اسے ’’تھا‘‘ کس نے کردیا؟ شفقت نے عمیر کو اغوا کیا اور قتل کر ڈالا۔ اس کے ماں باپ پر کیا گزری ہوگی، اس کا تصور کوئی بھی صاحب اولاد کرسکتا ہے۔ قتل کرنے کے بعد شفقت نے عمیر کے ماں باپ سے تاوان کا مطالبہ کیا۔ اسے علم نہیں تھا کہ یہ عام فون نہیں بلکہ موبائل فون ہے۔ وہ CLI سے تو واقف تھا لیکن اسے علم نہ تھا کہ اس طرح وہ پہچانا بھی جاسکتا ہے اور اس کی چوری پکڑی بھی جاسکتی ہے۔ ہیرو کو قتل کرنے کے الزام میں ولن گرفتار ہوگیا۔ اس کے قتل کرنے، اغوا کرنے اور تاوان کا مطالبہ کرنے پر کوئی جھگڑا نہیں۔ عمیر کی لاش بے رحم شفقت کی نشاندہی پر برآمد ہونے پر بھی کوئی تنازعہ نہیں۔ اختلاف کہاں ہے؟ شفقت کی عمر پر۔

عدالتی کارروائی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلا۔ کسی نے شفقت کی کم عمری کا معاملہ نہیں اٹھایا۔ کم عمر ملزم ہو تو سب سے پہلے یہی نکتہ اٹھایا جاتا ہے۔کسی نے اس نکتے پر غور نہ کیا کہ ملزم مضبوط جسم اور گہری کالی مونچھوں والا 23 سال کا نوجوان نظر آرہا تھا۔ عدالت نے شفقت کو دو بار موت کی سزا دی۔ معاملہ ہائی کورٹ پہنچا۔ وہاں بھی کسی نے مجرم کی عمر کی بات نہیں کی۔

وکیل صفائی کے لیے کسی کا خاتون ہونا یا کم عمر ہونا ضمانت پر رہائی اور سزا میں کمی کی اہم دلیل بنتا ہے۔ ہائی کورٹ نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 والی سزا کو پانچ سال کردیا جب کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ والی سزائے موت کو برقرار رکھا۔ معاملہ سپریم کورٹ سے صدر تک رحم کی اپیل تک پہنچا۔ کسی نے نہیں کہا کہ جرم کرتے وقت شفقت کی عمر تیرہ سال تھی۔ چوبیس سال کے ہٹے کٹے کو کون تیرہ سال کا معصوم بچہ کہتا؟ پھر کیا ہوا؟

پھر منگل کا دن آگیا۔ دسمبر کا مہینہ تھا اور شہر پشاور۔ یہ سولہ تاریخ تھی جب ہمیں تاریخ کا سب سے بڑا صدمہ بنگال میں سہنا پڑا تھا۔ آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں نے ڈیڑھ سو سے زیادہ بچوں کو گولیوں سے بھون دیا۔ کیا آپ کو سات سالہ عمیر یاد آرہا ہے؟ وہ عمیر جسے مجرم شفقت نے اغوا کرکے اس کی لاش نالے میں پھینک دی تھی۔ خیر! ہم آپ کی یاد کو ایک بار پھر پشاور لیے چلتے ہیں۔ معصوم بچوں کا قتل اتنا بڑا سانحہ تھا جس نے قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ہم نے اپنے ایک غلط فیصلے پر سوچ بچار شروع کردی۔

وہ غلط فیصلہ کیا تھا؟ مجرموں کو پھانسی کی سزا نہ دینا۔ مغرب کے کہنے پر آٹھ ہزار مجرمین شرق سے غرب تک یعنی صبح سے شام تک تین وقت کی روٹی اس قوم کی کھاتے تھے۔ پھانسیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو یورپ کے ماتھے پر بل پڑنے شروع ہوگئے اور امریکا بہادر تلملا گیا۔ قوم نے کہا کہ ہم دہشت گردی کا شکار ہیں۔ ہم گوروں کی ہدایت پر آٹھ سال سے عمل کرکے آٹھ ہزار مجرموں کو پھانسی کی سزا نہیں دے رہے۔ پاکستانیوں نے کہا Enough is Enough۔ ہم اپنے فیصلے خود کریں گے۔ ہم غلامی کا طوق اتار پھینکیں گے۔ آقا کبھی چاہتا ہے کہ غلام آزاد ہونے کا سوچ بھی سکے۔ وہ کہتا ہے کہ جب تم ہماری ایجادات سے فائدہ اٹھا رہے ہو تو جیو بھی ہماری طرح۔ تمہاری سوچ ہماری سوچ کے تابع ہونی چاہیے۔ اگر حکومتاور حزب اختلاف ایک ہوجائیں تو گوروں کے تمام حربے ناکام ہوجاتے ہیں سوائے ایک حربے کے۔

وہ حربہ کیا ہے؟ این جی اوز۔ ڈالر، پاؤنڈ اور یورو پر پلنے والی تنظیموں کو اشارہ کیا گیا۔ انھوں نے 23 سالہ شفقت کو تیرہ سال کا بنادیا۔ اس کی پرانی تصاویر نیٹ پر دکھا کر پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کیا گیا۔ پاکستان کو دنیا میں بدنام کرنے کا کوئی موقع نہ چھوڑنے والیوں کو اب پاکستانی معاشرے کو مغرب کے تابع کرنا تھا۔ ظاہر کیا گیا کہ پھانسی ایک 14 سالہ بچے کو ہو رہی ہے۔ یہ ’’جھوٹ‘‘ کہنے کی بھی زحمت نہ کی گئی کہ عمیر کو قتل کرنے اور اس کی لاش نالے میں پھینکنے کے وقت وہ کم عمر تھا۔

چوری کیسے پکڑی گئی؟ 2004 میں جیل میں جاتے وقت کھینچی گئی شفقت کی ایک تصویر منظر پر آئی۔ بڑی بڑی مونچھوں اور سخت چہرے والا تیرہ چودہ سال کا نہیں بلکہ چوبیس سال کا نوجوان دکھائی دے رہا تھا۔ تازہ ترین تصویر میں وہ داڑھی رکھ چکا ہے اور ہر انداز سے تیس سال سے زیادہ کا مرد دکھائی دے رہا ہے۔ عافیہ صدیقی کی امریکا میں گرفتاری اور چھیاسی سال کی سزا پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے والی این جی اوز کی چوری پہلی مرتبہ پکڑی گئی تھی۔ انسانی حقوق اور مساوات مرد و زن کی بات کرنے والیوں کا پردہ فاش ہوگیا تھا۔ اب شفقت کی تین تصاویر سامنے آنے پر ڈالر اور پاؤنڈز پر پلنے والی خواتین تنظیموں کی حقیقت پھر سامنے آگئی ہے۔ چودہ، چوبیس اور چونتیس سال کے شفقت کی تصویر دیکھ دیکھ کر ماڈرن اور لبرل خواتین سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ چوری تیری پکڑی گئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔