ہاں مصباح، غلطی تمہاری ہے

اقبال خورشید  پير 30 مارچ 2015
iqbal.khursheed@express.com.pk

[email protected]

وہ سپہ سالار تھا۔ ایسی فوج کا سپہ سالار، جہاں بھیڑوں نے شیروں کی کھال پہن رکھی تھی۔

اسے منتشر فوج کے ساتھ مشکل ترین محاذوں پر لڑنے کی ذمے داری سونپی گئی۔ کف اڑاتے دانشوروں کے ترکش میں تنقید کے تیر تھے اور رعایا کی آنکھوں پر جذبات کی پٹی بندھی تھی۔

یہ اس شخص کا قصہ نہیں، جو غصے میں اپنے مداح پر چڑھ دوڑتا ہے، جس کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت نکلتا ہے، جو صحافیوں سے لڑ جاتا ہے، درجنوں کیمروں کے سامنے گیند چباتا ہے، کیسنو لنچ کرنے جاتا ہے، کوچ کی ہدایات ہوا میں اڑاتے ہوئے ٹریننگ سے انکار کردیتا ہے۔

نہیں، یہ کسی ایسے شخص کا تذکرہ نہیں، جس نے ڈسپلن کی دھجیاں بکھیریں، اصول پس پشت ڈال دیے۔

یہ تو ایسے شخص کی کہانی ہے، جس نے ٹیسٹ کی تیز ترین سینچری بنائی، سال میں سب سے زیادہ رنز اسکور کرنے والا بلے باز قرار پایا، اپنے ملک کو ایشیا کا فاتح بنوایا، ہندوستان کو، ہندوستان میں شکست دی، جنوبی افریقا کو اس کی زمین پر ون ڈے سیریز ہرانے والا پہلا ایشیائی قائد ٹھہرا، اور پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کا کامیاب ترین کپتان کہلایا۔

ان حیران کن کامیابیوں کے باوجود۔۔۔ بطور کپتان تین ہزار رنز بنانے والا یہ کھلاڑی، سری لنکا کے خلاف تاریخ ساز فتح اپنے نام کرنے والا کپتان، انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسی ٹیموں کے بخیہ ادھیڑ دینے والا سورما۔۔۔ قصوروار قرار دیا گیا۔

یہ مصباح الحق کا ذکر ہے۔ اس شخص کا ذکر، جس نے بطور قائد غیروں کی زمین پر جنگیں لڑیں۔ جو ایک نڈر سپاہی تھا۔ بڑھکیں مارنے کی خبط سے آزاد یہ شخص تنقید کے طوفان میں سر جھکائے اپنی ذمے داری نبھاتا رہا۔ مخالفت کا جواب خاموشی سے دیا۔ اور یہ متوقع تھا، وہ ایک تعلیم یافتہ شخص تھا۔

مصباح کے ناقدین کو جواب دینے کے ہم خواہش مند نہیں کہ جنھیں 42 کارآمد نصف سینچریاں قائل نہیں کرسکیں، 43.40 جیسی متاثر کن اوسط کے سامنے جن کی گردنیں نفی میں حرکت کرتی رہیں، انھیں کوئی کیا قائل کرے۔ ہاں، جب کبھی یہ اعتراض ہوتا کہ ’’مصباح کی سست بلے بازی سے ٹیم دباؤ میں آجاتی ہے‘‘ تو ہنستے ہنستے آنکھ سے آنسو نکل آتے۔

حضور، آپ تو بڑے تجزیہ کار ہیں، سنا ہے، اپنے دور میں فاسٹ بولر بھی ٹھیک ٹھاک تھے، کیا نہیں جانتے، کرکٹ ’’ٹیم گیم‘‘ ہے۔ مصباح کے علاوہ دس کھلاڑی اور بھی کھیلتے ہیں، تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں، مگر کارکردگی نہیں دکھاتے۔ یہ دیگر بیٹسمینوں کی بے پروائی سے گنوائی وکٹوں کا دباؤ ہوتا تھا، جس سے نبرد آزمانے ہونے کے لیے اسے اپنا انداز تبدیل کرنا پڑتا۔ باقی بلے بازوں کی غفلت تھی، جسے زائل کرنے کے لیے وہ خود کو محدود کرلیتا۔ ورنہ جب کبھی اوپر کے بلے بازوں نے ذمے داری نبھائی، مصباح نے تیز رفتار اننگز کھیل کر ثابت کیا کہ وہ کئی مقبول ’ہارڈ ہٹرز‘ سے بہتر ’ہٹر‘ ہے۔

مخالفین یہ جواز لائیں گے کہ اس کی اننگز سودمند ثابت نہیں ہوئیں۔ اعداد و شمار کے آئینے میں یہ جواز بھی چٹکلا ہی ثابت ہوگا۔ ٹیسٹ میں اس نے 8 بار سو کا ہندسہ عبور کیا، اور ہر بار فتح نے پاکستان کے قدم چوم کر اس سورما کو خراج تحسین پیش کیا۔

شاید آپ توجہ ون ڈے کی جانب مبذول کروانا چاہیں۔ یہاں بھی دلائل کمزور ہیں۔ آپ اس کی سینچری کو روتے رہے، دیکھ ہی نہیں سکے کہ وہ اپنی بیشتر بہترین اننگز میں ناٹ آؤٹ رہا۔ ذرا ان میچز کے نتائج کا جائزہ لیجیے۔ ادھر ون ڈے سے ریٹائرمنٹ کے سمے اس کی بیٹنگ اوسط پونٹنگ، لارا، انضمام، سارو گنگولی اور جے وردھنے جیسے کپتانوں سے زیادہ تھی۔ اس محاذ پر وہ عظیم میاں داد سے بھی آگے نکل گیا۔ یہ بھی یاد رکھیں، ون ڈے سے ریٹائرمنٹ کے وقت چالیس سالہ مصباح اپنی ٹیم کی جانب سے ٹاپ اسکورر تھا۔ سب سے فٹ۔ مسلسل رنز کررہا تھا۔ آخری ٹورنامنٹ میں چار نصف سینچریاں بنائیں۔ ورنہ کچھ کھلاڑی تو پانچ پانچ ورلڈ کپ کھیل کر بھی ایک نصف سینچری نہیں بناسکے۔

ون ڈے میچز میں آپ اس کی 44 فتوحات سے مطمئن نہیں۔ ٹھیک ہے، مگر یہ فرمائیں، آپ اس کا موازنہ آخر کس سابق کپتان سے کرتے ہیں؟ دنیا جانتی ہے، اسے بحرانوں میں گھری، کمزور ٹیم ملی۔ ماضی میں ورلڈ کپ مقابلوں میں کپتانی کرنے والا کوئی پاکستانی کرکٹر یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کے پاس مصباح سے زیادہ کمزور ٹیم تھی۔ اور اس کے سخت ترین ناقد کون ہیں؟ وہ بیٹسمین، بولر اور آل راؤنڈر، جو 2003 اور 2007 میں پاکستان کو اگلے راؤنڈ میں پہنچانے میں ناکام رہے تھے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ فائنل اور 2011 کے سیمی فائنل کا حوالہ دیا جاتا ہے، جب ہمیں انڈیا سے شکست ہوئی۔ ذرا جذباتیت ترک کرکے غور کیجیے۔ ان دنوں میچز میں کس کھلاڑی نے سب زیادہ اسکور کیا؟ کس نے ڈوبتی ناؤ سنبھالی؟ اور باقی بلے بازوں نے آخر کون سے کارنامے انجام دیے کہ ان سے رعایت برتی جاتی ہے؟ کیا آپ کو اس بات کا گلہ ہے کہ اس نے آخر دم تک امید قائم رکھی۔ اگر ان دو مقابلوں میں مصباح دیگر کھلاڑیوں کی طرح وکٹ گنوا کر خاموشی سے پویلین لوٹ گیا ہوتا، تو شاید آج تنقید کے زد میں نہ ہوتا۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے ہمیشہ اسے سراہا۔ دی ٹیلی گراف نے عصر حاضر کا سب سے قابل احترام کرکٹر ٹھہرایا۔ ایک انٹرنیشنل اسپورٹس ویب سائٹ نے تاریخ کے 10 بہترین کپتانوں کا چناؤ کیا، تو مصباح کو اس میں شامل کیا گیا۔ البتہ ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں تو اپنی ذمے داریوں سے جان چھڑانی ہے۔ بوجھ اتارنا ہے۔ اور مصباح آسان شکار ہے۔ غفلت کا ملبہ اس پر ڈال دیا، ہاتھ جھاڑ کر چل دیے۔

ویسے کبھی کبھی سوچتا ہوں، مصباح الحق کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کا ذمے دار خود مصباح بھی ہے۔ اگر وہ بگڑا ہوا شہزادہ ہوتا، بلند بانگ دعوے کرتا، میدان کے بجائے اشتہارات میں جلوے بکھیرتا، وقت بے وقت ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتا پھرتا، تو شاید ہیرو بن جاتا۔

ہاں مصباح، غلطی تمھاری ہے۔ تم کچھ زیادہ ہی مہذب نکلے۔ اپنے کارناموں کے ذکر سے اجتناب برتا، اینگری ینگ مین کی طرح بیانات نہیں دیے، ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کی، بھلا ہم تم سے کیوں محبت کریں۔ کیسے تمھیں اپنا ہیرو مان لیں۔ نہ تو تمھارے ہاتھ میں گنڈاسا، نہ ہی تم نے مکا لہرایا، نہ ہی گالیاں دیں۔

سوچو ذرا، اگر تم کسی اور ملک میں پیدا ہوتے، تو کیا ٹیسٹ ٹیم کا مستقل حصہ بننے کے لیے تمھیں 34 برس انتظار کرنا پڑتا؟ اگر آسٹریلوی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان ہوتے، تو کیا تمھارے ساتھ ہتک آمیز سلوک کیا جاتا؟ اگر تم جنوبی افریقا کی طرف سے سال میں سب سے زیادہ رنز بناتے، تو کیا تمھارے بارے میں شرمناک لطیفے مشہور ہوتے۔

نہیں۔ وہ تمھیں کاندھے پر بٹھاتے، پھول نچھاور کرتے، تمھارے لیے گیت لکھتے۔۔۔ وہ تمھیں دیوتا بنا دیتے۔

تو غلطی تمھاری ہے مصباح۔ تم نے صلاحیتوں کے اظہار کے لیے غلط زمین کا چناؤ کیا۔ کسی نے درست ہی کہا، تمھارا کیریئر ایک نفیس کتاب کے مانند تھا، اسے فقط خواندہ افراد ہی پڑھ سکتے تھے۔

بدقسمتی سے یہاں خواندگی کی کمی ہے۔

الوداع!!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔