ایک سزائے موت یہ بھی تھی

عبدالقادر حسن  بدھ 1 اپريل 2015
Abdulqhasan@hotmail.com

[email protected]

ان دنوں میڈیا میں نہایت سنگدلی اور غیر انسانی جذبات کے ساتھ مجرموں کو پھانسی دینے کا ذکر جاری ہے۔ ہماری بدقسمتی کہ ہم ایک جرائم پیشہ قوم بن چکے ہیں لیکن فی الحال میں ایک ایسی ’پھانسی‘ کا ذکر کرنے چلا ہوں جو ایک بار ٹل گئی اور پھر ہمیشہ کے لیے ٹل گئی جب کہ ان دنوں پھانسیوں پر عملدرآمد میں بعض صورتوں کسی وجہ سے کچھ تاخیر کی جاتی ہے لیکن یہ سزا ختم نہیں کی جاتی۔ مجھے ان دنوں پھانسی کے ایک حکم کی کہانی یاد آ رہی ہے۔

ایک فوجی عدالت نے نہ جانے کس حوصلے سے سید ابو الاعلیٰ مودودی کو پھانسی کی سزا کا حکم سنا دیا۔ ملک میں اس کا جو ردعمل ہوا اس کو مسترد کرنا بہت مشکل ہو گیا لیکن بظاہر یہی لگتا تھا کہ ملک کی نہیں عالم اسلام کی ایک عظیم شخصیت کو موت کی جو سزا سنائی گئی ہے اور اس پر عمل بھی ہو سکتا ہے۔ سزا کے اعلان کے بعد مولانا کو جو اس وقت پہلے ہی جیل میں تھے انھیں سزائے موت کے قیدی کے کپڑے پہنا دیے گئے اور ان کے جو معمول کے عام کپڑے اتارے گئے تھے وہ تبرکاً ان کے ساتھی قیدیوں کے پاس آ گئے۔

امام مولانا امین احسن اصلاحی بھی مولانا کے ساتھ ہی قید میں تھے ان کپڑوں کو کبھی سینے سے لگاتے اور کبھی آنکھوں سے اور زاروقطار روتے ہوئے یہ کہتے جاتے کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ مودودی اتنا بڑا آدمی ہے۔ دوسرے ساتھی بھی جو اس وقت جیل میں تھے ایک عجیب کیفیت سے گزر رہے تھے۔ ان کی جیل میں ہی ساتھ کے کسی کمرے میں ان کا قائد پھانسی کے کپڑے پہن کر اپنے معمولات میں مصروف تھا اور اس قدر مطمئن کہ جیل کے عملے کے بیان کے مطابق رات کو وہ اتنی گہری نیند سوئے کہ خراٹے لیتے رہے اور جیل کا عملہ حیرت زدہ ہو کر اس شخص کی نیند کے سکون کو دیکھتا رہا اور اس شخص کی عظمت پر کسی حد تک پریشان بھی ہوتا رہا کہ سزائے موت کا کوئی قیدی اس قدر پرسکون بھی ہو سکتا ہے۔

انھوں نے اپنی زندگی میں ایسے ایسے قیدی بھی دیکھے جو پھانسی کے لیے اٹھا کر لے جائے گئے کہ ان کے ہاتھ پاؤں جواب دے گئے تھے اور ایک یہ قیدی تھا جو باقاعدگی کے ساتھ نمازیں ادا کر رہا تھا اور گہری نیند سو رہا تھا جب کہ اس کے ساتھی زندگی و موت کی کیفیت سے گزر رہے تھے۔

انھی دنوں مولانا نے اپنے ساتھیوں کو تسلی دیتے ہوئے ان سے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میری موت پھانسی کے پھندے سے لکھ دی ہے تو اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا اور اگر میری زندگی لکھی ہے تو اسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی اس لیے اس پر کسی کو پریشان اور متفکر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ زندگی اور موت انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے اور جو چیز اپنے اختیار میں نہ ہو اور اس پر کسی انسان کا بس نہ چلے تو اس کے لیے رونا دھونا اپنے آپ کو ہلکان کرنے کے برابر ہے اور ایمان کی کمزوری ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے کلام میں یہ فیصلہ سنایا ہے کہ کسی انسان کی زندگی اور موت اللہ کے ہی اختیار میں ہے کسی اور کے اختیار میں نہیں ہے۔

مولانا کی پھانسی ختم کر دی گئی کیونکہ اللہ تبارک تعالیٰ کو ابھی ان کی زندگی منظور تھی اس کے کئی برس بعد وہ اپنی بیماری کی وجہ سے اپنے ساتھیوں اور اہل خانہ سے جدا ہو گئے۔ میں نے ان کے تابوت میں ان کی آخری زیارت کی ایک زندہ و تابندہ چہرہ دیکھا جو اب تک میری نظروں میں ہے لیکن سب لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ ایک متوفی انسان کا چہرہ ہے۔

مجھے بھی اس کا قائل ہونا پڑا اور میں اب تک یہی سمجھتا ہوں کہ وہ وفات پا چکے ہیں مگر اور تو جو ہے سو ہے ہی لیکن ان کی تحریریں تقریریں اور جماعت کی قیادت کے واقعات زندہ ہیں اور ان کے ساتھیوں کو یاد ہیں۔ ان کی تحریریں دیکھیں کہ وہ اپنے عہد کے مجدد تھے۔ انھوں نے عہد حاضر میں تجدید و احیائے دین کا فرض اس قدر خوبصورتی اور پراثر انداز میں ادا کیا کہ اس میں کسی کو شک و شبہ نہیں انھوں نے غیر اسلامی نظریات اور فکر و فلسفہ کو نیست و نابود کر دیا اور مسلمانوں کے سینوں میں ایمان کی توانا شمع روشن کر دی جو ہمیشہ شعلہ فشان رہے گی۔

مولانا کے نظریات اس قدر پختہ اور سوچ اس قدر واضح تھی کہ انھوں نے اپنی شام کی نشست میں ایک سوال کے جواب میں کمیونزم پر بحث کرتے ہوئے کہا اور یہ وہ دن تھے جب سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں جہاد جاری تھا اور سوویت یونین کا عروج بھی تھا کہ وہ دن دور نہیں جب کمیونزم ماسکو کے سرخ چوک میں اوندھے منہ پڑا ہو گا اور دنیا نے یہ حیرت انگیز واقعہ بھی دیکھ لیا کہ سوویت یونین کو شکست کیا ہوئی وہ ختم ہی ہو گئی اس کا نام و نشان تک مٹ گیا صرف تاریخ کا ایک حوالہ باقی رہ گیا۔

سرمایہ داری نظام کے بارے میں بھی ان کی زبان سے ایسے ہی الفاظ نکلے کہ یہ نظام نیویارک کی عمارتوں سے ٹکراتا ہوا پاش پاش ہو جائے گا اور وجہ یہ بیان کی کہ دونوں نظام غیر قدرتی ہیں اور غیر انسانی ہیں۔

ان میں انسان کی کوئی وقعت نہیں ایک میں انسان محض ایک مزدور اور مشین ہے اور دوسرے میں وہ ایک سامان تجارت ہے دونوں میں انسانی جذبات دکھائی نہیں دیتے اور انھیں آسانی کے ساتھ تھوڑے سے غور و فکر کے بعد انسانی ضروریات جذبات اور اس کی فطرت کے منافی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہم نے سوویت یونین اور کمیونزم کو تو مردہ حالت میں دیکھ بھی لیا ہے اب سرمایہ دارانہ نظام کی باری ہے جو رفتہ رفتہ اپنی موت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایک کو سزائے موت ہو چکی دوسرے کو ہونے والی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔