دونوں سو چتے رہتے ہیں

آفتاب احمد خانزادہ  بدھ 1 اپريل 2015

ہمارے ملک میں حکمران اور عوام دونوں ہر وقت سو چتے رہتے ہیں۔ حکمرانوں کے ذہنوں میں ہمیشہ ایک ہی سوچ پیدا ہوتی ہے کہ اقتدار کو کس طرح اور کیسے طویل کیا جائے، مزید اختیارات کیسے حاصل کیے جائیں۔ کس طرح ان کا اقتدار لافانی ہو جائے ایسے کون کون سے ایکٹ نافذ اور آئینی ترامیم کی جائیں جن کی رو سے ان کا اقتدار ہمیشہ کے لیے قائم ہو جائے۔

دوسری طرف ہمارے عوام سوچتے ہیں کہ آزادی، خوشحالی، جمہوریت، روٹی کپڑا اور دوا کب ہمیں میسر ہو گی۔ ہمارے عوام یہ سو چتے ہیں کہ عہد ے والوں کے یہ ٹھا ٹھ باٹھ اور شان و شوکت کیوں ہے؟ اور ہماری زندگی محض تکلیفوں، بھوک ، بے روزگاری، غلامی، گالیوں اور ذلتوں میں کیوں گزر رہی ہے۔ دنیا کے لوگ روزگار پر لگے ہوئے ہیں ہم کیوں بے روزگار ہیں اور جو روزگار پر ہیں آخر کیوں انھیں بہانے بہانے سے روزگار سے نکالا جا رہا ہے۔

سارے ملکوں میں اصل اختیارات عوام کے پاس ہیں لیکن وہ کیوں اختیارات سے محروم ہیں، دنیا بھر میں ہر حکمران کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ ملک اور عوام خوشحال ہو ں ملک میں حقیقی جمہوریت قائم ہو عوام آزاد اور بے فکر ہوں۔ لیکن ہمارے عوام کو ہمیشہ صرف حکمران ہی خو شحال نظر آتے ہیں اور وہ ہمیشہ اپنے آپ کو بدحال اور بدنصیب سمجھتے آئے ہیں۔

ہر آنے والا ہمیشہ جانے والے پر الزام لگاتا آیا ہے کہ فلاں کرپٹ تھا فلاں نے لوٹ مار کی خزانہ خالی کر گئے لیکن اب ہم تمام معاملات صحیح کریں گے۔ حقیقی معنوں میں ملک اور عوام میں خو شحالی لائیں گے لیکن اس سارے معاملے میں ہمارے عوام کی حالت یہ ہے کہ ’’ہوتا ہے شب و روز تما شا میرے آگے‘‘ وہ کس کی بات کو تسلیم کریں۔

کسے سچا مانیں اس سارے کھیل اور تما شے میں وہ تو ہمیشہ ہی ہارتے آئے ہیں ہمیشہ ہی قلاش ہوئے ہیں ان کی قسمت کبھی نہیں بدلی ان کی جیت کبھی نہیں ہوئی ان کا کام صرف اور صرف تالیاں بجانا، زندہ باد، مردہ باد کے نعرے لگانا، ہر آنے والے پر امیدیں باندھنا اور آخر کار پھر مایوس ہو جانا رہ گیا ہے۔ ان کی بدنصیبی اور بدحالی روز بروز بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔

ہمارے ملک میں حکمرانوں کو اس کے مشیر روز صبح سو یرے یہ نوید سناتے آئے ہیں کہ عوام آپ کی حکومت میں سکھ اور چین کی بانسر ی بجا رہے ہیں۔ اس وقت ملک میں شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پی رہے ہیں۔ عوام خو شحالی اور سکون کی نیند سو رہے ہیں عوام کے سب مسئلے حل ہو گئے ہیں، عوام ہر وقت آپ کو ہزار سال جینے اور اقتدار میں رہنے کی دعائیں دے رہے ہیں۔ عوام دعا کر رہے ہیں کہ مزید اختیارات بھی آپ ہی کو حاصل ہو جائیں۔

ملک میں ہر طرف خوشحالی اور سکون ہے صرف اور صرف دو چار شر پسند شر پسندی کر رہے ہیں اور عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے کے لیے کام کر رہے ہیں لیکن عوام ہیں کہ ان کی بات سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ بلکہ عوام ان دو چار کا وجود بھی برداشت نہیں کر پارہے ہیں۔ عوم ان دو چار شر پسندوں سے خو د نمٹ لیں گے۔

سر آپ صرف حکومت کیجیے بس صرف حکومت کیجیے۔ اس ملک میں آپ سے پہلے آپ جیسا نہ کوئی آیا ہے اور آپ کے بعد آپ جیسا نہ کوئی آئے گا۔ آپ ہی عوام کی آخری امید ہیں۔ آپ ہی ملک میں اول ہیں اور آپ ہی آخر ہیں۔

خدانخواستہ آپ چلے گئے تو نا جانے اس ملک کا کیا انجام ہو گا لیکن ایک روز جب و ہ حکمران سابق ہو جاتے ہیں تو پھر انھیں احساس ہوتا ہے مشیروں کی شرارت کا پھر وہ ’’سابق‘‘ دیکھتے ہیں کہ ان کے ہی مشیر نئے آنے والے کے اردگرد جمع ہو گئے ہیں اور وہی پرانا قصیدہ اول بارسے پھر پڑھ رہے ہیں تو ہی اول ہی تو ہی آخر ہے تجھ جیسا نہ کوئی آیا ہے اور نہ تیرے بعد کوئی آئے گا۔ تو ملک کے لیے نا گزیر ہے تیرے بعد نہ جانے ملک کا کیا حال ہو گا۔ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ عوام کے ذہنوں میں منفی سوچ ہی کیوں پیدا ہوتی ہے۔

سیدھی سے بات ہے کہ اگرکسی فرد کا جی چاہتا ہے کہ وہ ملک پر حکومت کرے اور اگر وہ حکومت کر نے کے لیے نئے قوانین اور آئینی ترامیم کرتا ہے تو عوام کے ذہنوں میں ہمیشہ یہ سوچ کیوں پیدا ہوتی ہے کہ اسے غلام بنایا جا رہا ہے اسے مزید بھوکا اور بھکاری بنایا جا رہا ہے ملک میں نہ تو حکمرانوں کو عوام پر یقین ہے اور نا ہی عوام کو حکمرانوں پر یقین رکھتے ہیں۔

ہمارے ملک کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہر حکمران نے ہمیشہ اختیارات حاصل کر نے کی جستجو کی ہے عوام سے اس نے ہمیشہ اختیارات مانگے ہیں حالانکہ ہمارے ملک میں اختیارات تو ہمیشہ حکمرانوں کے پاس ہی رہے ہیں عوام تو ہمیشہ بے چارے بے اختیار ہی رہے ہیں ہمارے ملک میں اختیارات حاصل کر نے کا ایسا اندھا کنواں ہے کہ جس کا پیٹ بھرتا ہی نہیں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی حکمران نے عوام کے سامنے آ کر یہ اعلان کیا ہوا ’’آج مجھے احساس ہوا ہے کہ میرے پاس بے انتہا اختیارات ہیں اور عوام بے اختیار ہیں۔ لہذا آج میں اپنے تمام اختیارات عوام کو واپس لوٹا رہا ہوں۔

آج سے اختیارات کے مالک عوام ہی ہونگے اور عوام کا ہی اختیار چلے گا ۔‘‘ اصل میں عوام کے پاس اختیارات نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں سیاسی، معاشی اور اخلاقی عدم استحکام پیدا ہوا۔ بے روزگاری، غربت، بھوک ، پریشانیاں، جہالت، مایوسیاں سب اس لیے ہمارے ملک میں عام ہیں کہ ہمارے عوام بے اختیار ہیں۔ ترقی کر نے والے ممالک میں اختیار صرف عوام کے پاس ہوتا ہے صرف اسی ملک میں خو شحالی آتی ہے جہاں کے عوام با اختیار ہوتے ہیں۔ بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ امید پر دنیا قائم ہے لیکن ہمارے ملک کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ حاکموں پر امید قائم ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔