آتش بازی دولہوں کو مہنگی پڑگئی، رات حوالات میں گزارنا پڑی

اسٹاف رپورٹر  بدھ 1 اپريل 2015
شادی میں آتش بازی کرنے کے جرم میں گرفتار دولہے تھانے کے لاک اپ میں سوئے ہوئے ہیں۔ فوٹو: پی پی آئی

شادی میں آتش بازی کرنے کے جرم میں گرفتار دولہے تھانے کے لاک اپ میں سوئے ہوئے ہیں۔ فوٹو: پی پی آئی

کراچی: گلشن اقبال میں شادی کے دوران آتش بازی دولہوں کو مہنگی پڑگئی دولہوں کو شادی کی پہلی رات حوالات میں گزارنا پڑی۔

تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال میں ایکسپو سینٹر کے قریب قائم شادی ہال پیام گارڈن میں پیر اور منگل کی درمیانی شب شادی کی تقریب کے دوران خوفناک آتش بازی کی گئی، آتش بازی اتنی شدید تھی کہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، ہر شخص اسی شش و پنج میں تھا کہ خدانخواستہ شہر میں بم دھماکے ہورہے ہیں، شہری موبائل فون پر ایک دوسرے سے رابطے کرکے خیریت دریافت کرتے رہے، مذکورہ علاقہ انتہائی حساس ہے یہاں ایک جانب پی آئی اے پلاٹینم اور ایکسپو سینٹر ہیں جبکہ دوسری جانب پولیس ہیڈ کوارٹرز، عزیز بھٹی تھانہ اور اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کے ہیڈ آفس کے علاوہ سوک سینٹر بھی قریب ہے، اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز حکام کی دوڑیں لگ گئیں۔ بعدازاں جب پولیس اور رینجرز کو علم ہوا کہ دھماکے شادی میں کی گئی آتش بازی کا شاخسانہ ہیں، تو پولیس نے پیام گارڈن سے 2 دولہوں سمیت 5 افرادکو گرفتار کرکے عزیز بھٹی تھانے پہنچادیا۔

اس سلسلے میں ایکسپریس کے رابطہ کرنے پر ڈی ایس پی نیو ٹاؤن ناصر لودھی نے بتایا کہ پیام گارڈن میں 2 سگے بھائیوں نعمان اور صفیان ولد ولی محمد کی بارات پہنچی تھی اور اسی خوشی میں آتش بازی کی جارہی تھی۔ پولیس اور رینجرز نے موقع پر پہنچ کر دونوں بھائیوں نعمان اور صفیان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ ناصر لودھی کا کہنا تھا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 157/15 بجرم دفعہ 2/3 دھماکا خیز مواد کے قانون کے تحت درج کیا گیا ہے، انھوں نے وضاحت کی کہ ایسا دھماکا خیز مواد استعمال کرنا جس سے جانی نقصان کا خدشہ ہو جرم ہے، دونوں ملزمان کو آج (بدھ) کو عدالت بھیجا جائے گا دونوں دولہا پی آئی بی کالونی کے رہائشی ہیں انھوں نے پی آئی بی کالونی میں بھی آتش بازی کی تھی۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی نے گلشن اقبال میں آتش بازی کے الزام میں دولہا سمیت5افراد کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایک جانب مذہبی انتہا پسند اور فرقہ پرست تنظیموں کے دہشت گرد کھلے عام خود کش حملے اور بم دھماکے کرکے شہریوں کی جان و مال سے کھیل رہے ہیں لیکن ان سفاک دہشت گردوں کی گرفتاری کیلیے پولیس و انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی دیکھنے میں نہیں آتی جبکہ محض آتش بازی کے الزام میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے شادی کی تقریب میں دھاوا بول دیا جاتا ہے اور دولہا سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ آتش بازی کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد کو فی الفور رہا کیا جائے اور بے گناہ شہریوں کے بجائے مذہبی انتہا پسند دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کی جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔