پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پھر اضافہ

ایڈیٹوریل  جمعرات 2 اپريل 2015
حکومت کو توجہ دینی ہوگی کہ مذکورہ حالیہ اضافے کے بعد دیگر اشیا کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں۔ فوٹو : فائل

حکومت کو توجہ دینی ہوگی کہ مذکورہ حالیہ اضافے کے بعد دیگر اشیا کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں۔ فوٹو : فائل

مہنگائی کے ستائے پاکستانی عوام اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہاں کسی چیز کی قیمت اگر ایک بار اوپر چلی جائے تو دوبارہ نیچے نہیں آتی لیکن موجودہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چند ماہ پہلے جو کمی کا خوش کن اعلان کیا تھا اس نے سب ہی کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا، عوام مطمئن تھے کہ ہر شے کی قیمت اور مہنگائی کا پارہ جو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی بڑھنے لگتا ہے۔

اس کمی کا اطلاق دیگر اشیا پر بھی ہوگا لیکن مہنگائی تو کم نہ ہوئی مگر یکم اپریل سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرکے عوام کے ساتھ زبردست ’’اپریل فول‘‘ منایا گیا ۔ وفاقی حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 4 روپے فی لیٹر تک اضافہ کردیا ہے، تاہم مٹی کے تیل، لائٹ ڈیزل اور ایچ او بی سی کی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اوگرا نے آیندہ ماہ کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے جو سمری ارسال کی تھی، وفاقی وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کی زیرصدارت اجلاس میں اس پر غوروخوض کے بعد وزیراعظم کو بھجوادی گئی جنھوں نے اس کی من وعن منظوری دے دی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ یکم اپریل سے ملک میں پٹرول کی قیمت 4 روپے اضافہ کے ساتھ 70.29 روپے سے بڑھا کر 74.29 روپے فی لیٹرکردی گئی جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 روپے اضافہ کے ساتھ 80.61 روپے سے بڑھا کر 83.61 روپے فی لیٹر کردی گئی۔

یہاں اس امر کا دہرانا درست ہوگا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور بڑھوتری کا عالمی منڈی کی قیمتوں سے کبھی تعلق نہیں رہا، جب پوری دنیا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے مستفید ہوتی رہی ہمارے ملک میں ہمیشہ قیمتیں بڑھائی ہی گئیں، ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے نے مہنگائی کا تناسب پٹرولیم کی قیمتوں سے منسوب کرکے ازخود دیگر اشیا کی قیمتیں بھی بڑھا دیں، یوں چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث مہنگائی کا جن بے قابو اور عوام بے حال ہوگئے۔

اس تناظر میں جب 2 ماہ پہلے پٹرولیم قیمتیں کم ہوئی تھیں تو دیگر اشیا کی قیمتیں بھی کم ہونی چاہیے تھیں لیکن ایسا نہ ہوا۔ حکومت کو توجہ دینی ہوگی کہ مذکورہ حالیہ اضافے کے بعد دیگر اشیا کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں۔ عوام ریلیف کے منتظر ہیں، مہنگائی کو کم کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔