فاتح کون؟ امریکا یا ایران؟

محمد عثمان فاروق  ہفتہ 4 اپريل 2015
اب نہ تو ایران جوہری پروگرام پر کام کریگا اور نہ ہی امریکا اور اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹکے گا۔ فوٹو اے ایف پی

اب نہ تو ایران جوہری پروگرام پر کام کریگا اور نہ ہی امریکا اور اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹکے گا۔ فوٹو اے ایف پی

اور بالآخرامریکہ ایران جوہری معاہد طے پا گیا۔ جس کے مطابق ایران 10 سال تک کوئی جوہری ریکٹر تعمیر نہیں کرسکے گا۔ اسکے علاوہ یورنییم افزودگی بھی مقررہ حد تک لانی ہوگی جبکہ ایران کے ایٹمی اور میزائیل پروگرام کی نگرانی کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ کی جائے گی۔ معاہدے کی دستاویزات 30 جون تک تیار کرلی جائیں گی اور اگر معاہدے کی پاسداری کی گئی تو پھر ایران سے اقتصادی پابندیاں بھی ہٹالی جائیں گی۔

ان سارے معاملات کو موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسلم دنیا کے حوالے سے صورت حال کوئی حوصلہ افزا نظر نہیں آئے گی ۔میری بات پر حیران ہوگئے؟ حیران ہونے کی خرورت نہیں کہ آئیے ذرا اب اس سارے معاملے کا ایک مختصر تجزیہ کرتے ہیں۔

ایران نے اپنے بیانات کی مدد سے پچھلے 10 سالوں میں خود کو امریکہ اور اسرائیل کا سب سے مخالف ملک کے طور پر پیش کیا حتی کہ سابق صدر احمدی نژاد کے دور میں اسرائیل پر ایٹمی حملے کی دھمکیاں بھی دی جاتیں رہیں اور پھر ایک وہ وقت بھی آیا جب ایسا محسوس ہورہا تھا کہ افغانستان اور عراق کی طرح ایران پر امریکی حملہ صرف چند دنوں کی بات رہ گئی ہے۔

مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ اِس سارے عمل کے دوران ایک اور کام جو شروع ہوا وہ یہ تھا کہ بہت سارے مسلم ممالک میں بغاوت شروع ہوئی اور وہ ٹوٹنے لگے یا پھر تقسیم ہونے لگے۔ مسلم ممالک میں اٹھنے والی ان بغاوتوں کی خاص بات یہ تھی کہ یہ مقامی حکمرانوں کی بداعمالیوں کے خلاف شروع ہوئیں مگر بعد میں قتل و غارت فرقہ وارانہ لڑائی میں تبدیل ہوگئیں۔ داعش جیسے گروہ وجود میں آئے اور شیعہ سنی فسادات بام عروج کو چھونے لگے اور ان تمام حالات کا مختصر خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں اور اسلامی ممالک کا شدید نقصان ہونے لگا۔

اس ساری صورت حال کے باوجود کچھ مسلم ممالک ایسے تھے جو ان تمام حالات کے باوجود اپنی جگہ پر مضبوط کھڑے تھے ان میں سعودی عرب، ایرن اور ترکی وغیرہ شامل تھے۔ ان ممالک میں گڑبڑ پیدا کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کو ایک ایسا ’’پرابلم‘‘ کھڑا کرنے کی ضرورت تھی کہ جس سے ان ممالک میں ایسی آگ لگے جو بجھائے نہ بجھے اور چھپائے نہ چھپے۔

تو پھر ان ’’عالمی طاقتوں‘‘ نے کیا کیا؟ شام میں امریکا باغیوں کا کھل کر ساتھ دے رہا ہے یہ وہی باغی ہیں جن کی پشت پر ایران کھڑا ہے ۔۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف یمن میں امریکا حکومت کے ساتھ ہے جن کی پشت پر سعودی عرب کھڑا ہے ۔۔۔۔۔ یعنی بات کو سیدھے طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی جائے تو شام میں امریکا ایران کا اتحادی بنا بیٹھا ہے اور یمن میں سعودی عرب کا۔

نیتجہ کیا نکلا؟ ایک طرف ایران کو مضبوط کیا جارہا ہے اور دوسری طرف سعودی عرب جس کے نتیجے میں خطے میں ایک ایسی جنگ کا آغاز ہوگیا ہے جس کو اگر فوری طور پر نہ روکا گیا تو پھر نقصان شدید تر کا ہوگا۔

یعنی کچھ عرصے قبل تک ہم جس خوش گمانی کا شکار تھے کہ پوری اُمت مسلمہ کے برخلاف کوئی اور نہ سہی لیکن شکر ایران تو ایسا ہے جو امت مسلمہ کی ترجمانی کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو آنکھیں دکھانے کی جرات رکھتا ہے مگر گزشتہ روز وہ خوش گمانی پانی پانی ہوگئی۔

آپ شاید اختلاف کرسکتے ہیں لیکن میرے نزدیک تو ایران نے بھی باقی ماندہ مسلم ممالک کی طرح بڑی طاقتوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ اب نہ تو ایران جوہری پروگرام پر کام کریگا اور نہ ہی امریکا اور اسرائیل کی آنکھوں میں کھٹکے گا ۔۔۔۔ اور اِس کے نتیجے میں ایران پر عائد پابندیاں اُٹھ جائیں۔ جس کے بعد ایران اب بہت اطمینان کے ساتھ شام میں بشرالاسد اور یمن میں باغیوں کی نا صرف حمایت کرسکے بلکہ مالی مدد کرنے کی بھی حیثیت میں آجائے گا۔

جذبات کو ایک طرف رکھ کر سوچیں، جس ایران کو امریکا اور اسرائیل سے نبردآزما ہونا تھا اب وہ مسلم ممالک کے خلاف برسرِپیکار آئے گا۔ کہنے کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ غلطی پر محض ایران ہے لیکن ایران کو موضوع بحث اس لئے بنایا ہے کہ باقی ماندہ مسلم ممالک سے تو اُمیدیں کب کی ٹوٹ چکیں لیکن اگر کسی سے اُمید تھی تو وہ ایران تھا۔

خیر اب تو جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ خدشہ یہی ہے کہ ایران بارک اوبامہ کے اِس بیان کی مسلسل پاسداری کرے گا ایران اگلے 10 برسوں میں جوہری توانائی پر کام نہیں کریگا اور اگر کریگا تو پھر اُس کا حال پوری دنیا دیکھے گی۔

تو اب آپ یہ خود ہی فیصلہ کیجیے کہ یہاں فاتح کون ہوا؟ امریکا یا ایران!

آپ کے خیال میں اِس معاہدے کے بعد فتح کس کی ہوئی؟

نتائج ملاحظہ کریں

Loading ... Loading ...

نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جاسکتے ہیں۔

عثمان فاروق

محمد عثمان فاروق

بلاگر قومی اور بین الااقوامی سیاسی اور دفاعی صورت حال پر خاصی گہری نظر رکھتے ہیں۔ سائنس فکشن انکا پسندیدہ موضوع ہے۔ آپ ان سے فیس بک پر usmanfarooq54 اور ٹوئیٹر پر @usmanfarooq54 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔