پاکستان میں ’صحت‘ کی ’صحت’ بھی انتہائی نازک

نور پامیری  منگل 7 اپريل 2015
 عوام کی فلاح و بہبود ہمارے حکمرانوں کی ترجیح کبھی بھی نہیں رہی ہے، اگر ترجیح ہوتی تو ملک میں بیماریوں کی اتنی ریل پیل نہ ہوتی۔ ایکسپریس ٹریبیون

عوام کی فلاح و بہبود ہمارے حکمرانوں کی ترجیح کبھی بھی نہیں رہی ہے، اگر ترجیح ہوتی تو ملک میں بیماریوں کی اتنی ریل پیل نہ ہوتی۔ ایکسپریس ٹریبیون

میری ملازمت ایسی ہے کہ ہفتے کے کم از کم پانچ دن صحت عامہ سے متعلق خبریں، تبصرے، تجزئیے، فیچرز اور دیگر معلومات کھوجنے اور انہیں پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ خصوصاً پاکستان میں صحت کے مسائل سے متعلق خبریں پڑھنے، اور اُن کی بنیاد پر رپورٹس تیارکرنا میرے فرائض منصبی میں شامل ہیں۔ میں ایک سال سے مسلسل یہ اذیت ناک کام کرتا آرہا ہوں۔ 

آپ پوچھیں گے یہ کام بھلا اذیت ناک کیسے ہوسکتا ہے؟ کچھ تحریریں پڑھنا اور ان کی بنیاد پر کوئی رپورٹ ترتیب دینا کونسا مشکل کام ہے۔ تو جن جن کے ذہنوں میں یہ سوال جنم لے رہا ہے تو اُن کے لیے جواب ہے کہ یہ کام اذیت ناک اس لئے ہے کیوں کہ ایک طرف آپ روزانہ مجبور اور لاچار مریضوں کی حالتِ زار کے بارے میں دلخراش کہانیاں پڑھتے ہیں اور دوسری طرف سرکاری ملازمین، سیاستدانوں اور ملکی و غیر ملکی اداروں کی صحتِ عامہ کو بہتر بنانے کے بلند و بانگ دعوے اخباروں کی زینت بن رہے ہوتے ہیں۔ پولیو زدہ بچوں اور بچیوں کی تصویریں دیکھنا، ان کو پولیو کے قطرے پلا کر بچانے کی کوششوں میں مارے جانے والوں کی داستانیں پڑھ کر انسانیت، جمہوریت کی افادیت وغیرہ سے ایمان اُٹھ جاتا ہے۔

ایسے میں اگر آپ سیاستدانوں کی ملک کو سنوارنے سے متعلق بڑھکیاں پڑھے اور پھر انہیں اپنے علاج و معالجے کے لئے عوامی ٹیکس کے بل بوتے پر دبئی، لندن، پیرس اور واشنگٹن جاتے دیکھے تو تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ حقائق اور دعووں کے درمیان موجود تضاد، حکام کا دوغلا پن، عوم کی لاچاری اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کی عوام بیزاری ذہنی کوفت کا سبب بنتے ہیں۔ تکلیف کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے نامور ڈاکٹرز یا تو ایک ایک کرکے قتل ہو رہے ہیں، یا پھر زندگی بچانے کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے ہیں اور اب وہاں خدمات فراہم کرتے ہوئے پیسے بنا رہے ہیں۔

سچی بات یہ ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود ہمارے حکمرانوں کی ترجیح کبھی بھی نہیں رہی ہے۔ اگر ترجیح ہوتی تو ملک میں بیماریوں کی اتنی ریل پیل نہ ہوتی، لاکھوں بچے ہر سال مختلف امراض کی وجہ سے پانچویں سالگرہ منانے سے پہلے موت کا شکار نہ ہوجاتے، پولیو ہمارے برآمدات میں شامل نہ ہوتا، ہمارے سرکاری اسپتال غلاظت میں لُتھڑے اور تمام ضروری آلات اور سہولیات سے عاری نہ ہوتے اور ہمارے ملک کے لاکھوں افراد کو قابلِ علاج بیماریوں کی وجہ سے جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ صحتِ عامہ کی سہولیات اور اس شعبے کی ترقی کے لئے مختص وسائل کے اعتبار سے پاکستان براعظم ایشیاء میں سب سے کم سطح پر براجمان ہے۔

اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ہمارے ملک میں شہریوں کی اوسط عمر ایشیاء کے دیگر ممالک کی نسبت کم، یعنی 65 سال ہے۔ ہمارے ملک میں 2011 کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار نومولود بچوں میں سے 72 فوراً موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ نومولودوں میں موت کی شرح بھارت، چین، بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ وغیرہ میں ہم سے کئی گنا بہتر ہے۔ صحت کی بہتر سہولیات اور صحت مند زندگی گزارنے کے حوالے سے آگہی نہ ہونے کی وجہ سے صرف بچے ہی نہیں بلکہ ان کی مائیں بھی موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ پاکستان میں ہر ایک ہزار ماوں میں سے 260 زچگی سے پہلے، اس کے دوران یا اس کے کچھ عرصے بعد موت کے گھاٹ اُتر جاتی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ماوں کی موت کی شرح ہندوستان، فلپائن، انڈونیشیا، بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، چین وغیرہ سے کئی گنا زیادہ ہے ۔

یہ ایک شرمناک حقیقت ہے کہ پاکستان میں صحت اور تعلیم پر قومی بجٹ کا سب سے کم حصہ خرچ کیا جاتا ہے۔ وفاقی سطح پر صحت عامہ کی بہتری کے لئے بہت کم روپے رکھے جاتے تھے جس پرصوبائی حکومتیں وسائل کی کمی کا رونا روتی تھی، لیکن اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت کے لئے وسائل مختص کرنے اور پالیسیاں بنانے کے بعد صوبائی حکومتوں نے ابھی تک اس مد میں کوئی خاص تیر نہیں مارا ہے، زبانی جمع خرچ پر گزارا کیا جارہا ہے۔ کاغذوں پر ملکی جی ڈی پی کا دو فیصد صحت کے لئے مختص کیا جاتا ہے لیکن اس بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ انتظامی امور پر خرچ ہوجاتا ہے۔ صحت کے شعبے میں بدعنوانی روکنے اور انتظامی امور کو درست کرنے پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔ آج بھی ہزاروں ڈاکٹرز تنخواہ سرکار سے لیتے ہیں اور کام نجی اسپتالوں یا پھر اپنی کلینک میں کرتے ہیں۔

کچھ یہی حال نرسوں اور دیگر پیشہ ورانہ میڈیکل اسٹاف کا بھی ہے۔ مناسب تنخواہ بروقت ملے تو سب ٹھیک رہتا ہے۔ لیکن تنخواہ میں اضافہ نہ ہو یا بروقت نہ ملے تو کالی پٹیاں باندھے مسیحا وارڈز کو بند کرکے مریضوں کو روتے بلکتے چھوڑ کر سڑکوں پر نکل جاتے ہیں۔ کبھی ہم نے یہ نہیں سُنا کہ ڈاکٹر، نرس اور دیگر معاونین کسی اسپتال میں سہولیات کی عدم فراہمی، ادویات کی کمی وغیرہ جیسے غیر اہم مسائل کے خلا ف بھی آواز اُٹھاتے ہوئے کالی پٹیاں باندھے نکلے ہوں۔

ہمارے حکمرانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ غریب عوام کی ضروریات میں صحت، خوراک، صاف پانی اور تعلیم شامل ہیں۔ موٹر وے دیر سے بھی بنے تو کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی۔ اسلام آباد اور لاہور میں میٹرو کی شاندار بسیں نہ چلتی تو آسمان پھٹ نہیں پڑتا۔ ہاں، لیکن علاج کی بہتر سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اگر کسی کا بچہ یا بچی، ماں یا بیوی، گھر کا بزرگ سسک سسک کر تڑپ تڑپ کر مرتا ہے تو اس ناانصافی پر آسمان ضرور پھٹ پڑتا ہے۔

عالمی یوم صحت پر پروگرامز منعقد کرنے، پانچ ستارہ ہوٹلوں میں سیمینارز اور کانفرنسز کے نام پر طعام و قیام کا بندوبست کرنے اور اخباروں میں رنگ برنگے اشتہار دینے سے ملک میں صحتِ عامہ کا نظام درست نہیں ہوسکتا ہے۔ ضروری امر یہ ہے کہ صحت کو قومی ترجیح کے طور پر لیا جائے۔ آئین میں صحت کو بنیادی انسانی حق گردانا جائے۔ صحتِ عامہ کی بہتری کے لئے ہنگامی سطح پر وسائل فراہم کئے جائیں اور ان وسائل کے بہتر اور موثر انتظام کے لئے اقدامات اُٹھائے جائیں۔ عوام الناس کو صحت کی سہولیات فراہم نہ کرنا حد درجے کی ناانصافی ہے۔ انسانی جانوں کے ساتھ یہ کھُلا کھلواڑ جاری رہا تو ہمارا معاشرہ مزید تباہ حالی کا شکار ہوگا اور اُس کے اثرات سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔

کیا آپ شعبہ صحت میں بہتری لانے کے حوالے سے حکومتی کاوشوں سے مطمئن ہیں؟

Loading ... Loading ...

نوٹ: ایکسپریس نیوز  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر،   مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف  کے ساتھ  [email protected]  پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی بھیجے جاسکتے ہیں۔

نور پامیری

نور پامیری

مختلف سماجی اور سیاسی مسائل پر لکھتے ہیں۔ ایک بین الاقومی غیر سرکاری ادارے میں کمیونیکیش ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ سے ٹوئٹر @noorpamiri پر کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔